ن لیگ کی حکومت میں پی پی کا چیئرمین، ذکا اشرف خود کو کیسے بچا پائیں گے؟

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن کی پاکستان مسلم لیگ 'ن' کے دور میں اپنے عہدے پر بحالی تو شاید اتنا اہم نہ ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آخر وہ کس طرح بچے رہیں گے؟

ذکا اشرف اپنے ن لیگی رشتہ داروں کے بل بوتے پر اپنے اقتدار کا سنگھاسن بچا لیں گے (تصویر: AFP)

ذکا اشرف اپنے ن لیگی رشتہ داروں کے بل بوتے پر اپنے اقتدار کا سنگھاسن بچا لیں گے (تصویر: AFP)

گزشتہ عام انتخابات میں جیسے ہی نتائج مسلم لیگ 'ن' کے حق میں آئے تو اسی وقت اندازہ ہوگیا کہ ذکا اشرف تمام تر آئینی تحفظ کے باوجود زیادہ عرصے نہ ٹک سکیں گے۔ 4 سال کے لیے خود کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا پہلا آئینی صدر منتخب کروانا بھی انہیں بچانے کے لیے کافی ثابت نہ ہوا اور پہلے عدالت نے انہیں کام کرنے سے روکا اور پھر اچانک عہدہ نجم سیٹھی کو سونپ دیا گیا۔

کہا جاتا ہے کہ ذکا اشرف کو عہدے سے ہٹانے کی اہم وجہ ان کی پیپلز پارٹی بالخصوص سابق صدر آصف علی زرداری سے قربت تھی اور یہی وجہ ہے کہ آج اسلام آباد کی عدالت عالیہ (ہائی کورٹ) کی جانب سے ذکا اشرف کی بحالی کے فیصلے کے بعد یہ سوال ذہنوں میں جنم لے رہا ہےکہ آخر ذکا اشرف کس طرح کام کریں گے اور چلیں گے؟ اس سوال کا جواب ذکا اشرف کی قربتوں ہی میں پنہاں ہے۔

ذکا اشرف اپنا اقتدار رشتہ داروں کے کاندھوں پر بیٹھ کر بچائیں گے کیونکہ ان کی ہمشیرہ عشرت اشرف نہ صرف حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ 'ن' کی رکن قومی اسمبلی ہیں بلکہ صوبہ پنجاب کی نائب صدر بھی ہیں۔ ان کے علاوہ ذکا اشرف کے بہنوئی جعفر اقبال بھی حکمران جماعت کے رکن قومی اسمبلی اور نائب صدر برائے پنجاب ہیں جبکہ ذکا اشرف کی ایک بھتیجی بھی مسلم لیگ 'ن' کی جانب سے رکن صوبائی اسمبلی ہیں ۔

اب پاکستان کے سیاسی مزاج کو دیکھیں اور بتائیں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ جس فرد کے اتنے قریبی رشتہ دار حکمران جماعت میں اہم عہدوں پر ہوں، کیا وہ اپنا عہدہ نہیں بچا پائے گا؟

ویسے اگر سیاسی زاویے سے ہٹ کر دیکھا جائے تو ذکا اشرف کا عہد پاکستان کرکٹ بورڈ میں تازہ ہوا کا جھونکا تھا۔ اعجاز بٹ کے دور میں میدان اور اس سے ہٹ کر پے در پے ناکامیاں سہنے کے بعد ذکا اشرف کے عہد میں پاکستان نے نہ صرف کامیابیاں سمیٹیں بلکہ بھارت سمیت کئی ممالک سے اپنے تعلقات کو بہتر بنایا۔

Facebook Comments