نجم سیٹھی نے مبارکباد نہیں دی، جلد عہدہ سنبھالوں گا: ذکا اشرف

پاکستان کرکٹ بورڈ کے بحال شدہ چیئرمین ذکا اشرف نے کہا ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور جب عدلیہ نے انہیں معطل کیا تھا تو اس وقت بھی ایک منٹ ضایع کیے بغیر اپنا کام روک دیا تھا اور اب بحالی کا فیصلہ دیے جانے پر ان کا شکر گزار ہوں۔

سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہوں، کل یا پرسوں قذافی اسٹیڈیم جاکر عہدہ سنبھالوں گا: ذکا اشرف (تصویر: AFP)

سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہوں، کل یا پرسوں قذافی اسٹیڈیم جاکر عہدہ سنبھالوں گا: ذکا اشرف (تصویر: AFP)

ذکا اشرف کو گزشتہ سال اسلام آباد کی عدالت عالیہ (ہائی کورٹ) نے چیئرمین پی سی بی کی حیثیت سے کام کرنے سے روک دیا تھا اور ان کی تقرری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں معطل کرنے کے احکامات صادر کردیے تھے۔ عدالت کے اس فیصلے کے خلاف دائر شدہ اپیل آج اسلام آباد میں دو رکنی بینچ کے روبرو منظور ہوئی جنہوں نے ذکا اشرف کو اپنے عہدے پر بحال کردیا ہے۔

فیصلے کے آنے کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے ذکا اشرف نے کہا کہ آج دفتری اوقات ختم ہوگئے ہیں اس لیے وہ کل یا پرسوں پی سی بی ہیڈکوارٹرز، قذافی اسٹیڈیم جائیں گے اور اپنا عہدہ سنبھالیں گے۔

زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کے سابق سربراہ نے کہا کہ کرکٹ غیر سیاسی ہے، اس میں کبھی سیاست شامل نہیں کی اور نہ ہی آئندہ کروں گا۔ فی الحال بورڈ کی صورتحال کو بہتر بنانا میری اولین ترجیحات میں شامل ہوگا۔

گزشتہ سال اپنے عہد میں بنائے گئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے آئین کے بارے میں ذکا اشرف نے کہا کہ پی سی بی کا نیا آئین بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی مشاورت سے بنایا تھا اور اس کی تکمیل اور میرے آئینی سربراہ منتخب ہونے کو خود آئی سی سی نے سراہا تھا۔

ذکا اشرف نے بتایا کہ عہدے پر بحال ہونے کے بعد عبوری انتظامی کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی نے مجھے مبارکباد نہیں دی البتہ وہ بہت اچھے آدمی ہیں۔ میں سب کا احترام کرتا ہوں اور کوشش کروں گا کہ سب کو ساتھ لے کر چلوں۔

تقریباً 9 مہینوں تک اپنے عہدے سے معطل رہنے والے چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ کرکٹ کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں کی دھڑکن ہے اور میں نے ہمیشہ انتظامی سطح پر ہی اس کے معاملات دیکھے ہیں۔ کرکٹ کے معاملات تو ویسے بھی جاوید میانداد چلاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک نظام کے تحت کام کرنا چاہتا ہوں اور بصد احترام سب کو اسی نظام کے تحت کام کرنا ہوگا۔ کرکٹ اور بورڈ کو درپیش مسائل حل کرنے کی پوری کوشش کروں گا جن میں سب سے پہلے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء کے لیے ٹیم کا اعلان اور دیگر معاملات شامل ہیں۔

Facebook Comments