’’چوہدری‘‘ کو ’’کمیوں‘‘ سے بچنا ہوگا!

آج قذافی اسٹیڈیم میں ایک کھلاڑی نے پوچھا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے 30 کھلاڑیوں کے ناموں کی منظوری کون سے چیئرمین دیں گے، نجم سیٹھی یا ذکا اشرف؟

ذکا اشرف کو بحال ہوتے ہی کئی چیلنجز کا سامنا ہے، کیا وہ ان کو عبورکرپائیں گے؟ اس کا جواب وقت دے گا (تصویر: Getty Images)

ذکا اشرف کو بحال ہوتے ہی کئی چیلنجز کا سامنا ہے، کیا وہ ان کو عبورکرپائیں گے؟ اس کا جواب وقت دے گا (تصویر: Getty Images)

پاکستان کرکٹ کے نرالے رنگوں میں تازہ اضافہ یہ ہوا ہے کہ چیئرمین کے عہدے تک کو مذاق بنا دیا گیا ہے۔ جس نشست پر ایک روز پہلے نجم سیٹھی براجمان تھے آج ذکا اشرف پورے طمطراق کے ساتھ تشریف فرما ہیں۔ اب نگاہیں صرف اس پر لگی ہیں کہ آیا انہیں سکون کے ساتھ کام کرنے دیا جائے گا یا راہ میں روڑے اٹکائے جائیں گے۔

بہرحال، ذکا اشرف کی بحالی کے ساتھ پاکستان کرکٹ بورڈ میں کم از کم بے یقینی کی کیفیت کا تو خاتمہ ہوگیا ہے کیونکہ گزشتہ 8 ماہ کے دوران ہر معاملے پر نجم سیٹھی یہ کہہ کر دامن بجاتے تھے کہ ان کے اختیارات محدود ہیں اور عدالت نے ان کے ہاتھ باندھے ہوئے ہیں۔ لیکن اب صورتحال بالکل واضح ہے اور چودھری ذکا اشرف کو دونوں ہاتھوں سے کام کرنے کی آزادی ملی ہے۔ اب ذکا اشرف کو ان موقع پرست حواریوں سے بچنا ہوگا جن کے مشوروں کی بدولت وہ اس نہج پر پہنچے تھے کہ عدالت نے انہیں بطور چیئرمین کام کرنے سے ہی روک دیا تھا۔

اب عدالت نے ذکا اشرف کی آئینی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے چیئرمین کے عہدے پر بحال تو کردیا ہے لیکن موجودہ صورتحال میں یہ عہدہ ان کے لیے کانٹوں کا تاج ثابت ہوگا۔ کیونکہ جس طریقے سے انہوں نے خود کو ’’آئینی‘‘ سربراہ منتخب کروایا تھا وہ کسی بھی طور پر آئینی نہیں تھا۔ ذکا اشرف ملک کے بڑے ریجنز کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں سے لگائے ہوئے ’’ننھے‘‘ ریجنز کے کاندھوں پر سوار ہوکر چار سال کے لیےچیئرمین بنے تھے۔ اب بحال شدہ چیئرمین نے مخالفین کو بھی چیلنج دیا ہے کہ اگر وہ اب بھی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہتے ہیں تو اپنا شوق پورا کرلیں۔ میرے خیال میں بڑے ریجنز کے عہدیداران یہ ’’شوق‘‘ ضرور پورا کریں گے۔ ذکا اشرف کے عہدے کی آئینی حیثیت پر واویلا مچانے والے شاید اب بھی خاموش نہ بیٹھیں۔ بہرحال، یہ دیکھنا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ چار سالوں کے لیے آئینی سربراہ منتخب ہونے والے ذکا اشرف کو اپنی مدت پوری کرنے دی جائے گی یا معاملہ دوبارہ عدالت کچہریوں میں پہنچے گا۔

خیر، تقریباً 9 ماہ تک ’’آؤٹ آف ایکشن‘‘رہنے والے ذکا اشرف کو اب واپس آتے ہی بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ پہلا بھاری پتھر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء کے لیے 30 رکنی اسکواڈ کا اعلان ہے جس کی ڈیڈلائن تک گزر چکی ہے لیکن اگلے 24 گھنٹوں میں کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان متوقع ہے۔ دوسری جانب ہیڈ کوچ ڈیو واٹمور اور فیلڈنگ کوچ جولین فاؤنٹین کے عہدوں کی میعاد بھی مکمل ہونے والی ہے اور وہ اپنے آخری دن گن رہے ہیں، اس لیے نئے کوچز کی تقرری کا معاملہ بھی گرم ہے اور اس حوالے سے آج ذکا اشرف نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ وہ واٹمور کے بعد دو دن کے اندر نیا کوچ لے آئیں گے۔ سب سے اہم پہلو یہ ہوگا کہ غیر ملکی کوچ کا تجربہ ناکام ہونے کے بعد کیا ذکا اشرف کسی پاکستانی کوچ پر بھروسہ کریں گے؟ یا نظر انتخاب ایک مرتبہ پھر غیر ملکی کوچ پر پڑے گی؟

ذکا اشرف کے معطل ہونے کے بعد سلیکشن کمیٹی میں بھی تبدیلی ممکن نہ ہوسکی تھی، جو سربراہ کے بغیر کام کررہی تھی۔ مگر اب ذکا اشرف کو فوری طور پر نئے چیف سلیکٹر کا بھی اعلان کرنا ہوگا۔ نجم سیٹھی نے معین خان کو چیف سلیکٹر بنانے کی کوشش کی تھی، جو فی الوقت مینیجر کے عہدے پر براجمان ہیں۔ کیا ذکا اشرف معین خان پر اعتماد کریں گے؟ اس کےعلاوہ پاکستان سپر لیگ کے مردہ گھوڑنے میں دوبارہ جان ڈالنے اور پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے لیے وہ کیا کوششیں کریں گے؟

یہ سب وہ سوالات ہے جن کے جوابات وقت کے ساتھ ملیں گے اور ذکا اشرف میں یہ اہلیت موجود ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے کام کرسکیں مگر اس کے لیے پاکستان کرکٹ کے ’’چوہدری‘‘ کو ایسے ’’کمیوں‘‘ سے چھٹکارا پانے کی ضرورت ہے جو مدتوں سے اپنے عہدوں پر قائم ہیں لیکن بورڈ کے سربراہ تک کو کھائی میں گرانے سے باز نہیں آتے۔

Facebook Comments