نچلے بلے بازوں کو آؤٹ کرنا، پاکستان کا دیرینہ مسئلہ

پاکستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ 'ناقابل یقین ہے'، کئی مواقع پر اس نے اپنی کارکردگی کے ذریعے کرکٹ کے بڑے بڑے جغادریوں کو حیران کیا ہے، لیکن بدقسمتی سے تاریخ میں ایسے بھی کئی مواقع ہیں جب پاکستان حریف کے سرفہرست بلے بازوں کو ٹھکانے لگانے کے بعد نچلے آرڈر کے بیٹسمینوں کو نمٹانے میں ناکام رہا، جنہوں نے اہم رنز بنا کر مقابلے کا رخ ہی پلٹ دیا۔

مصباح الحق اور سعید اجمل سری لنکا کے اختتامی بلے بازوں کی مزاحمت پر مسکرا کر خفت مٹانے کی کوشش کرتے ہوئے (تصویر: AFP)

مصباح الحق اور سعید اجمل سری لنکا کے اختتامی بلے بازوں کی مزاحمت پر مسکرا کر خفت مٹانے کی کوشش کرتے ہوئے (تصویر: AFP)

متحدہ عرب امارات میں سری لنکا کے خلاف سیریز میں بھی پاکستان کو اسی مسئلے کا سامنا ہے، جہاں ٹیل اینڈرز پاکستانی باؤلرز کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں۔

شارجہ میں جاری تیسرے ٹیسٹ میں سری لنکا کے آخری چھ بلے بازوں نے سرفہرست پانچ بیٹسمینوں سے زیادہ رنز بنائے ہیں، 161 کے مقابلے میں 249 رنز!

سیریز میں اولین ٹیسٹ کے پہلے روز بھی سری لنکا محض 125 رنز پر آٹھ وکٹیں گنوا بیٹھا تھا اور توقع تھی کہ پاکستان بقیہ دو وکٹیں بھی جلد حاصل کرلے گا لیکن باؤلرز ایسا کرنے میں ناکام رہے اور سری لنکا نے 80 سے زیادہ رنز کا اضافہ کیا جو بعد ازاں اسے شکست سے بچانے میں کلیدی ثابت ہوا۔

2013ء کے اوائل میں پاکستان نے جنوبی افریقہ کا وہ دورہ کیا تھا جہاں ٹیم کو تینوں ٹیسٹ مقابلوں میں شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ اس سیریز کے کیپ ٹاؤن میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان بیشتر وقت حریف پر غالب رہا لیکن دوسری اننگز میں بیٹنگ کے ڈھیر ہوجانے کے نتیجے میں بدترین شکست سے قبل یہ حریف کو آل آؤٹ کرنے میں ناکامی ہی تھی جس نے پاکستان کو اس مقام تک پہنچایا۔ پہلی اننگز میں 338 رنز بنانے کے بعد پاکستان نے صرف 220 رنز پر جنوبی افریقہ کے سات بلے بازوں کو آؤٹ کرکے میزبان کے لیے سخت مشکلات کھڑی کردی تھیں لیکن اس مقام پر پہنچتے ہی پاکستان کے باؤلرز ٹھنڈے پڑ گئے کہ بس اب تک معاملہ اپنے ہاتھوں میں ہے لیکن اسی سستی نے جنوبی افریقہ کو مقابلے میں واپس آنے کا موقع دیا۔

رابن پیٹرسن نے ویرنن فلینڈر اور دیگر ٹیل اینڈرز کے ساتھ مل کر پاکستان کی برتری کو تقریباً ختم کردیا۔ ایک موقع پر جہاں پاکستان ایک بڑی برتری حاصل کرتا دکھائی دے رہا تھا، اسے آخر میں صرف 12 رنز ہی اکتفا کرنا پڑا۔ اگر پہلی اننگز میں معقول برتری مل جاتی تو شاید اس مقابلے کا نتیجہ ہی مختلف ہوتا۔

کچھ اس سے ملتی جلتی داستان ہی 2010ء کے سڈنی ٹیسٹ کی ہے جہاں پاکستان کو لوئر آرڈر کے بلے بازوں کی شراکت داریوں ہی کی وجہ سے حوصلے توڑ دینے والے شکست سہنا پڑی۔ مائیکل ہسی اور پیٹر سڈل 'جبل الطارق' کی طرح پاکستان کے باؤلرز کے سامنے ڈٹ گئے اور ناقابل یقین انداز میں اپنی ٹیم کو ایسے مقام پر لے آئے، جو بعد ازاں فتح پر منتج ہوا۔

اس مقابلے کے تیسرے روز کے اختتام پر آسٹریلیا پاکستان سے صرف 80 رنز آگے تھا اور اس کی محض دو وکٹیں باقی تھیں۔ صرف مائیکل ہسی ہی آخری مستند بلے باز بچے تھے اور ان کا ساتھ دینے کے لیے پیٹر سڈل تھے، جو مکمل بیٹسمین نہیں تھے۔ 14 سے زیادہ سال سے آسٹریلوی سرزمین پر کوئی ٹیسٹ مقابلہ نہیں جیت پانے والے پاکستان کو یقین تھا کہ چوتھی صبح کا آغاز ہوگاتو بس خانہ پری ہوگی اورآسٹریلیامیں ٹیسٹ جیتنے کا خواب پورا ہوجائے گا۔

اس روز میں صبح سویرے اٹھا تاکہ پہلی گیند سے مقابلہ دیکھ سکوں اور سب کی طرح میں بھی پرامید تھا کہ پاکستان کی فتح کی جانب پیشقدمی جاری رہے گی۔ لیکن آسٹریلوی جوڑی نے کمال مہارت سے پاکستان کا راستہ روکا، اور نویں وکٹ پر 123 رنز کی فیصلہ کن شراکت داری بنا ڈالی۔

کامران اکمل کے ہاتھوں مائیکل ہسی کے بار بار چھوڑے گئے کیچ کون بھول سکتا ہے؟ (تصویر: Getty Images)

کامران اکمل کے ہاتھوں مائیکل ہسی کے بار بار چھوڑے گئے کیچ کون بھول سکتا ہے؟ (تصویر: Getty Images)

پاکستان کے وکٹ کیپر کامران اکمل نے اس اننگز کے دوران ہسی کے پانچ کیچ چھوڑے۔ کئی زندگیاں ملنے کے بعد ہسی کی شراکت داری نے ہی آسٹریلیا کو موقع فراہم کیا کہ وہ پاکستان کو 176 رنز کا موزوں ہدف دے۔ پھر ہدف کے تعاقب میں ہمیشہ کی طرح ایک کے بعد منہ لٹکائے میدان سے واپس آتے رہے اور چائے کے وقفے سے قبل ٹیسٹ آسٹریلیا جیت چکا تھا۔ 6 جنوری2010ء کا وہ دن پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب کا اضافہ کرگیا جب قومی ٹیم نے مقابلہ طشتری میں رکھ کر حریف کو پیش کیا۔

اس فہرست میں 1987-88ء کی پاک-ویسٹ انڈیز سیریز کا برج ٹاؤن ٹیسٹ بھی شامل کرنا چاہوں گا جہاں آٹھویں وکٹ پر ونسٹن بنجمن اور جیفری ڈیوجون کے درمیان 61 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی۔ اس رفاقت نے پاکستان کے جبڑے سے فتح چھین کے ویسٹ انڈیز کی جھولی میں ڈال دی۔ 70ء اور 80ء کی دہائی میں جب ویسٹ انڈیز کو شکست دینا تقریباً ناممکنات میں سے تھا، پاکستان اس کے بہت قریب پہنچا، لیکن تاریخی سیریز جیتنے کا موقع گنوا بیٹھا، صرف اور صرف لوئر آرڈر کے بلے بازوں کو ٹھکانے لگانے میں کمزوری کی وجہ سے۔

گو کہ تاریخ لوئر آرڈر بیٹسمینوں کی بڑی اننگز سے بھری پڑی ہے لیکن میرے خیال میں کسی بھی دوسرے ٹیسٹ ملک کے مقابلے میں پاکستان کے خلاف ایسی کارکردگی کہیں زیادہ دکھائی گئی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ چھ یا سات وکٹیں حاصل کرنے کے بعد پاکستان کے باؤلرز اور فیلڈرز یکدم پرسکون ہوجاتے ہیں۔ وہ کھیل کے اگلے مراحل کے بارے میں سوچنے لگ جاتے ہیں، بجائے اس کے کہ حریف کے اننگز کے خاتمے پر دھیان دیں۔ توجہ میں اسی کمی کی وجہ سے حریف کو شراکت داریاں بنانے اور پاکستان کے لیے نتائج پیش کرنے کا موقع دیتی ہے۔

مجھے امید ہے کہ ٹیم انتظامیہ کھلاڑیوں میں پیشہ ورانہ مہارت اور ذمہ داری کے احساس کو اجاگر کرے گی اور انہیں حتمی وار لگانے کی ایسی صلاحیت عطا کرے گی کہ نچلے درجے کا کوئی بلے باز پاکستان کو یقینی فتح سے محروم نہ کرسکے۔

لکھاری کے بارے میں

خرم ضیاء خان گزشتہ 12 سالوں سے ایک پبلک ریلیشنز کنسلٹنٹ ہیں، اور کھیل کے سرگرم شائق ہیں۔ آپ کھیل اور کھلاڑی پر بلاگ اور @KhurramZiaKhan پر ٹوئٹ کرتے ہیں۔

Facebook Comments