متنازع سفارشات اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سامنے کھڑے سوالات

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے روبرو متنازع سفارشات پیش کرنے کے معاملے پر ہنگامہ کھڑا ہونے کے بعد بالآخر بھارت بول پڑا اور یہاں تک پہنچ گیا کہ آئی سی سی کے ٹورنامنٹس میں اپنی شرکت کو ان سفارشات کی منظوری سے مشروط کر دیا ہے یعنی عالمی کپ 2015ء کے بعد آئی سی سی کے زیر اہتمام کسی بھی ٹورنامنٹ میں بھارت اسی صورت میں شرکت کرے گا جب آئی سی سی کے مستقل اراکین ان سفارشات کی منظوری دیں۔

فی الوقت تو یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنی اہمیت کا ادراک ہوگا (تصویر: PCB)

فی الوقت تو یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنی اہمیت کا ادراک ہوگا (تصویر: PCB)

ان انتہائی متنازع سفارشات کی کچھ تفصیلات تو سامنے آ چکی ہیں، چند پہلوؤں سے ابھی پردہ اٹھے گا اور شاید ابھی مزید واضح ہونا باقی ہے کہ بھارت، انگلستان اور آسٹریلیا چاہتے کیا ہیں۔ جذباتی ہونے کے بجائے کھلے ذہن کے ساتھ ان تمام سفارشات کو ہر زاویے سے پرکھنے کے بعد ہی اس کے فوائد و نقصانات کا اندازہ ہو پائے گا لیکن آج ان سفارشات کے پس منظر میں بھارتی بورڈ کی جو نئی شرائط سامنے آئی ہیں، ان پر پاکستان کرکٹ بورڈ کر نقطہ نظر سے اہم سوالات کے جوابات ڈھونڈتے ہیں۔

سوال: پاکستان کرکٹ بورڈ معاشی طور پر آج کس مقام پر کھڑا ہے؟

پاکستان کرکٹ بورڈ اس وقت سخت ترین مالی بحران کا شکار ہے۔ رواں سال مارچ میں ملک میں بین الاقوامی کرکٹ نہ ہونے کو پانچ سال ہو جائیں گے۔ اپنے میدانوں میں بین الاقوامی کرکٹ نہ ہونے کی وجہ سے بورڈ کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے اور یہ نقصان مسلسل جاری ہے اور مستقل قریب میں اس میں کمی کے کوئی امکانات دکھائی نہیں دے رہے۔ اس صورتحال میں پاکستان انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ، کرکٹ آسٹریلیا اور بورڈ آف کرکٹ کنٹرول ان انڈیا جیسے مالی لحاظ سے طاقتور اداروں سے تعلقات خراب کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ در حقیقت پاکستان کو اس وقت ان تینوں بورڈز کی اشد ضرورت ہے بالخصوص بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کی کیونکہ روایتی حریف کے ساتھ کرکٹ تعلقات کی بحالی پاکستان کے لیے مالی لحاظ سے بہت فائدہ مند ثابت ہوگی۔ اس صورتحال میں اگر مذکورہ سفارشات کے معاملے پر بھارت کے ساتھ نزاع کا معاملہ کھڑا ہوگیا تو پاکستان کرکٹ بورڈ کی آمدنی کے ایک اور ذریعے پر کاری ضرب لگے گی جس کا پی سی بی ہرگز متحمل نہیں ہو سکتا۔

اگر اس زاویے سے دیکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے پاس ان سفارشات کی تائید کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے لیکن جیسا کہ بی سی سی آئی کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ "یہ سفارشات 'پتھر پر لکیر' نہیں ہیں اور نہ ہی بی سی سی آئی اصرار کررہا ہے کہ انہیں بعینہ تسلیم کیا جائے۔ بی سی سی آئی کی آمدنی میں اضافے والی سفارش کو نہ چھیڑا جائے تو بورڈ سفارشات کے تمام پہلوؤں پر بات چیت کرنے کو تیار ہے۔" یہ ایک خوش آئند اور مثبت رویہ ہے۔

سوال: پاکستان بھارت کی مخالفت کرے یا حمایت؟

پاکستان کرکٹ بورڈ کو سب سے پہلے مجوزہ سفارشات کا مفصل تجزیہ کرنا چاہیے، جس میں اپنے مفادات کو بھی مقدم رکھے۔ اس تجزیے کے بعد پی سی بی سفارشات کی منظوری یا عدم منظوری کے فوائد و نقصانات کو سمجھ سکتا ہے۔ تب کہیں جاکر بھارتی بورڈ کے ساتھ مذاکرات کیے جاسکتے ہیں۔ گو کہ حقیقت یہی ہے کہ پاکستان اس وقت بھارت کی مخالفت کا متحمل نہیں ہوسکتا لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ پاکستان کے ہاتھ خالی ہیں۔

سوال: اگر پاکستان مجوزہ سفارشات کی مخالفت کرے تو؟

اگر پاکستان بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے روبرو پیش کردہ ان مجوزہ سفارشات کی مخالفت کرتا ہے تو اس کے بھارت، انگلستان اور آسٹریلیا سے تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ پھر اگر بھارت دھمکی کے مطابق آئندہ آئی سی سی کے ٹورنامنٹس میں شرکت نہیں کرتا تو خود پی سی بی کی آمدنی میں بھی خاطر خواہ کمی آئے گی۔ دوسری طرف انگلستان اور آسٹریلیا سے باہمی سیریز کے امکانات کو بھی نقصان پہنچے گا اور پی سی بی مزید مالی بحران کا شکار ہوجائے گا۔

سوال: اگر پاکستان مجوزہ سفارشات کی حمایت کرے تو؟

یہ سب سے اہم سوال ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ پاکستان کے ہاتھ خالی نہیں ہیں۔ اس سے میری مراد یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ کا جو "پروڈکٹ" ہے، یعنی "ٹیم پاکستان"، اس کی دنیائے کرکٹ میں مارکیٹ ویلیو موجود ہے۔ یہ بات بھارت، انگلستان اور آسٹریلیا بھی بخوبی جانتے ہیں۔ یہ تینوں ممالک ہرگز نہیں چاہیں گے کہ 18 کرکٹ آبادی والے ملک میں جہاں کرکٹ کو دیوانگی کی حد تک چاہنے والے موجود ہیں، بین الاقوامی کرکٹ سے باہر کردیا جائے۔ بھارت مقابلہ پاکستان کرکٹ مقابلوں کی قدر انگلستان-آسٹریلیا اور بھارت-آسٹریلیا مقابلوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔ یہ بات اپنی جگہ کہ مالی لحاظ سے آسٹریلیا اور انگلستان کے کرکٹ بورڈز پاکستان سے کہیں زیادہ مستحکم ہیں، لیکن اس کی وجہ ان ممالک کی معیشت ہے، ورنہ ٹیم پاکستان کی مارکیٹ ویلیو ان دونوں ٹیموں سے کہیں زیادہ ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس اعتبار سے بھارت کے بعد دنیائے کرکٹ میں پاکستان ہی کا نمبر ہے۔

اس سے یہ بات واضح ہوکر سامنے آتی ہے کہ موجودہ سفارشات میں جس فارمولے کے تحت بھارت کی موجودہ آمدنی 4.2 فیصد سے بڑھ کر 21 فیصد ہوجائے گی، اسی فارمولے کے تحت اگر پاکستان کرکٹ بورڈ اپنی پروڈکٹ کی مارکیٹ قدر اور قیمت میں اضافہ کرے تو پاکستان کی آمدنی میں بھی اضافہ اسی حساب سے ہوگا۔ اگر سفارشات میں یہ بات موجود نہیں تو مذاکرات کی میز پر اس کو شامل کیا جاسکتا ہے۔

اب ملین ڈالرز کا سوال:

پاکستان کرکٹ بورڈ کس طرح اپنی پروڈکٹ یعنی "ٹیم پاکستان" کی مارکیٹ ویلیو میں اضافہ کرسکتا ہے؟ اس سوال کا جواب بہت آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔ آسان اس لیے کہ بہتر انتظام کے ذریعے ٹیم کے معاملات پیشہ ورانہ انداز سے چلائے جائیں تو ٹیم کی میدانوں میں کارکردگی میں بہتری آئے گی۔ اسی کارکردگی کی بدولت پاکستان کے کھلاڑی دنیائے کرکٹ کے اسٹار پلیئرز سمجھے جائیں گے۔ سادہ الفاظ میں پی سی بی کو مسلسل عمران خان، جاوید میانداد، وسیم اکرم، وقار یونس، سعید انور، انضمام الحق، شعیب اختر، عبد الرزاق، مشتاق احمد، مصباح الحق، یونس خان، محمد یوسف اور محمد عامر جیسے کھلاڑی ڈھونڈنا ہوں گے، ان کو بہترین سہولیات فراہم کرنی ہوں گی اور اس بہترین ٹیم کو بہترین انتظامیہ دینا ہوگی، جو میدان میں ان کھلاڑیوں سے کارکردگی نکلوا سکے۔ اگر پی سی بی ایسا کرنے میں کامیاب ہوگیا، اور دوسری طرف حکومت بھی ریاست پاکستان میں امن و امان اور معیشت میں بہتری میں کامیاب ہوگئی تو بھارت، آسٹریلیا اور انگلستان کے کرکٹ بورڈ خود پاکستان کے در پر کھڑے ہوں گے، اس درخواست کے ساتھ کہ آئیں اور ہمارے ساتھ آئی سی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی میں شامل ہوجائیں۔ اور اس سوال کا جواب مشکل اس لیے ہے کہ اس وقت یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس بات کا ادراک ہے۔

Facebook Comments