'کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے' انگلستان کی پہلی فتح

آسٹریلیا کے طویل دورے میں انگلستان نے اتنے تواتر کے ساتھ شکستیں کھائی ہیں کہ ایسا لگتا تھا کہ وہ فتح کا مطلب ہی بھول گیا ہوگا، لیکن پرتھ میں اس نے جامع ترین کارکردگی پیش کرتے ہوئے نہ صرف ون ڈے کلین سویپ کی ہزیمت سے خود کو بچایا بلکہ کینگروؤں کی سرزمین پر مسلسل 8 شکستوں کے بعد پہلی فتح بھی اپنے نام کرلی۔

باؤلنگ میں ناکامی کے بعد آسٹریلیا بیٹنگ میں بھی نہ چل سکا، کلین سویپ کا خواب ادھورا رہ گیا (تصویر: Getty Images)

باؤلنگ میں ناکامی کے بعد آسٹریلیا بیٹنگ میں بھی نہ چل سکا، کلین سویپ کا خواب ادھورا رہ گیا (تصویر: Getty Images)

پرتھ میں ہونے والے سیریز کے چوتھے ون ڈے میں انگلستان نے 57 رنز سے کامیابی حاصل کرکے آسٹریلیا کو عالمی درجہ بندی میں ملنے والی پہلی پوزیشن سے بھی محروم کردیا۔ آسٹریلیا چند روز قبل بھارت کی نیوزی لینڈ کے ہاتھوں حیران کن شکست کا فائدہ اٹھا کر عالمی درجہ بندی میں سرفہرست آ گیا تھا لیکن پرتھ میں شکست نے اسے ایک مرتبہ پھر دوسرے نمبر پر پہنچا دیا ہے۔

انگلستان کی فتح کا سہرا بین اسٹوکس کی شاندار آل راؤنڈ کارکردگی اور وکٹ کیپر جوس بٹلر کی طوفانی بلے بازی کو جاتا ہے۔ 87 رنز کا عمدہ آغاز اور ٹاپ آرڈر میں ایلسٹر کک کا 44، این بیل کا 55 اور بین اسٹوکس کے 70 رنز نے فتح کی بنیاد ڈالی۔ ان تینوں کھلاڑیوں کی محنت کی بدولت نصف اوورز کی تکمیل تک انگلستان صرف دو وکٹوں کے نقصان پر 148 رنز پر کھڑا تھا۔ لیکن بیٹنگ پاور پلے میں بین اسٹوکس اور روی بوپارہ کی وکٹیں گرنے سے جو نقصان ہوا اس کا ازالہ کرنا ضروری ہوگیا اور یہ ذمہ داری بٹلر نے اٹھائی۔

جوس بٹلر کی 43 گیندوں پر 71 رنز کی دھواں دار اننگز اور ایون مورگن کے ساتھ 51 گیندوں پر 71 رنز کی شراکت داری انگلستان کو 300 رنز کی نفسیاتی حد عبور کراگئی۔ 316 رنز کا مجموعہ اکٹھا کرنے کے بعد اب ذمہ داری باؤلرز کے کاندھوں پر تھی کہ وہ انگلستان کو شکستوں کے گرداب سے نکالیں اور انہوں نے اس ذمہ داری کو باحسن و خوبی نبھایا بھی۔

آسٹریلیا نے 317 رنز کے بھاری ہدف کا تعاقب بہت عمدگی سے شروع کیا۔ ابتدائی 20 اوورز میں صرف ایک وکٹ پر 110 رنز بنانے کے بعد مسلسل تین وکٹیں گرنے سے مقابلہ گرفت سے نکل گیا۔ میتھیو 23، جارج بیلی 11 اور اسٹیون اسمتھ 19 رنز کے بعد میدان سے لوٹے تو مقابلہ برابری کی سطح پر آ گیا تھا یہاں تک کہ 36 ویں اوور میں سنچری ساز آرون فنچ آؤٹ ہوگئے۔ 111 گیندوں پر 4 چھکوں اور 8 چوکوں کی مدد سے 108 رنز بنانے والے فنچ کی میدان سے واپسی بعد ازاں فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوئی۔

اس مرحلے پر انگلش باؤلرز، بالخصوص بین اسٹوکس، نے آسٹریلیا کی واپسی کی تمام راہیں مسدود کردیں۔ گلین میکس ویل اور جیمز‌ فاکنر جیسے آل راؤنڈرز کی موجودگی میں آسٹریلیا کی مسلسل چوتھی فتح کے امکانات موجود تھے۔ جیسا کہ انہوں نے برسبین میں کھیلے گئے ون ڈے میں ثابت بھی کیا۔ لیکن انگلستان کے باؤلرز نے آج ان کی ایک نہ چلنے دی اور 48 ویں اوور میں 259 رنز پرسب کو آؤٹ کردیا۔

پہلے بیٹنگ میں 70 رنز بنا کر جوہر دکھانے والے اسٹوکس نے باؤلنگ میں بھی کمال کی کارکردگی دکھائی اور 39 رنز دے کر 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جن میں جارج بیلی، گلین میکس ویل اور جیمز فاکنر کی قیمتی وکٹیں شامل تھیں۔اسی کارکردگی کی بدولت انہیں مرد میدان کا اعزاز ملا۔ ان کے علاوہ 3 وکٹیں ٹم بریسنن کو، دو اسٹورٹ براڈ کواور ایک روی بوپارہ کو ملی۔

دونوں ٹیمیں سیریز کا پانچواں و آخری مقابلہ 26 جنوری کو ایڈیلیڈ میں کھیلیں گی جس کے بعد تین ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کی سیریز کے ساتھ انگلستان کا طویل، اور مایوس کن، دورۂ آسٹریلیا اپنے اختتام کو پہنچے گا۔

Facebook Comments