بھارت اور سری لنکا فائنل کھیلیں گے، روایتی حریف پاکستان کو شکست

بھارت نے ایک اعصاب شکن اور تناؤ سے بھرپور مقابلے کے بعد پاکستان کو 29 رنز سے شکست دے کر عالمی کپ کے فائنل میں پہنچنے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ یوں عالمی کپ 2011ء سے قبل کرک نامہ کا یہ تجزیہ درست ثابت ہوا کہ عالمی کپ کے سب سے بڑے امیدوار بھارت اور سری لنکا ہیں۔ اب یہی دو ٹیمیں 2 اپریل کو ممبئی کے وانکھیڈے اسٹیڈیم میں آمنے سامنے ہوں گی۔

کرک نامہ کے تجزیے کی ایک جھلک جو عالمی کپ کے آغاز سے 4 روز قبل 15 فروری کو کیا گیا تھا

یوں عالمی کپ ٹورنامنٹس میں بھارت کی پاکستان پر برتری کا سلسلہ بدستور جاری رہا۔ 1992ء سے اب تک دونوں ٹیمیں 5 مرتبہ آمنے سامنے ہوئیں اور پانچوں مرتبہ بھارت کو فتح نصیب ہوئی۔

لٹل ماسٹر سچن ٹنڈولکر کی یادگار اور خوش قسمت اننگ، لیکن سنچری بنانے سے محروم رہے

ماضی کی طرح اس اہم ترین میچ میں بھی پاکستان کا سب سے منفی پہلو اس کی ناقص ترین فیلڈنگ تھی۔ پاکستانی فیلڈرز نے 6 کیچز چھوڑے جن میں بھارت کے ٹاپ اسکورر سچن ٹنڈولکر کے چھوڑے گئے 4 کیچز بھی شامل تھے۔ سچن امپائر کے دیے گئے اک فیصلے پر نظرثانی کر کے بھی اپنی زندگی بچا گئے۔ بالکل واضح دکھتا تھا کہ وہ ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہیں۔ امپائر نے بھی انہیں آؤٹ دیا لیکن تیسرے امپائر نے ہاک آئی کو دیکھنے کے بعد فیصلہ سچن کے حق میں دیا۔

اس شکست کے ساتھ وہاب ریاض کی پانچ وکٹیں حاصل کرنے کی شاندار کارکردگی بھی ضایع ہوگئی۔ اس کے برعکس بھارت کے باؤلرز نے انتہائی درست اور نپی تلی لائنز پر گیندیں کیں اور کسی پاکستانی بلے باز کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہ دیا اور فیلڈرز نے بھی ان کا ساتھ دیتے ہوئے اپنی جان لڑائی۔ بھارتی باؤلرز کے احساس ذمہ داری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے پورے 50 اوورز میں محض دو وائیڈ گیندیں پھینکیں اور کوئی نو بال اس میں شامل نہیں تھی۔

موہالی، چندی گڑھ کے پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن اسٹیڈیم میں اس میچ کا انتظار نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا کے ہر کرکٹ شائق کو تھا۔ بھارت اور پاکستان کی ممتاز ترین شخصیات اس میچ کو دیکھنے کے لیے موجود تھیں جن میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور منموہن سنگھ بھی شامل تھے۔ ان کے علاوہ بھارت کی حکمران جماعت کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی، ان کے صاحبزادے راہول گاندھی، بالی ووڈ کی ممتاز شخصیات عامر خان، سنیل سیٹھی، پریتی زنتا اور دیگر اہم شخصیات کی بڑی تعداد شامل ہے۔

بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستانی باؤلرز خصوصاً وہاب ریاض نے بہت اچھی باؤلنگ کا مظاہرہ کیا لیکن یہ پاکستانی فیلڈرز کی فراخ دلی کے نتیجے میں بھارت کے بلے بازوں کو کئی مواقع ملے۔ یونس خان، مصباح الحق، کامران اکمل اور عمر اکمل نے سچن ٹنڈولکر کے آسان کیچ ڈراپ کیے جس کے نتیجے میں ان کی بین الاقوامی کیریئر کی 100 ویں سنچری بننے کی راہ ہموار ہوئی لیکن وہ اتنے زیادہ مواقع ملنے کے باوجود اس سنگ میل کو عبور نہ کر سکے۔ پاکستان کے خلاف سنچری حقیقت ان کی زندگی کی سب سے یادگار اننگ ہوتی لیکن وہ بدقسمتی سے 85 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

وہاب ریاض پانچ وکٹیں حاصل کرنے کے بعد سجدۂ شکرانہ ادا کرتے ہوئے

قبل ازیں بھارت نے وریندر سہواگ کی جارحانہ و مختصر اننگ کی بدولت شاندار آغاز کیا۔ انہوں نے پاکستان کے پیس باؤلرز خصوصاً عمر گل کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان کے ایک اوور میں 5 چوکے تک رسید کیے۔ پاکستان کے ابتدائی باؤلر ان کے سامنے بے بس نظر آئے لیکن شعیب اختر پر ترجیح دے کر ٹیم میں شامل کیے گئے وہاب ریاض نے اپنا انتخاب درست ثابت کر دیا۔ انہوں نے سب سے پہلے وریندر سہواگ (38 رنز) ان کی گیند پر وکٹوں کے سامنے دھر لیے گئے۔

116 کے مجموعی اسکور پر جب محمد حفیظ کی گیند پر آگے بڑھ کر باؤنڈری لگانے کی کوشش گوتم گمبھیر کو مہنگی پڑی اور وہ وکٹوں کے پیچھے کامران اکمل کی برق رفتاری کا نشانہ بن گئے۔ انہوں نے 27 رنز بنائے۔ ایک اینڈ پر سچن جمے رہے لیکن دوسرے اینڈ سے وہاب ریاض نے تباہی کا آغاز کر دیا۔ 141 کے مجموعی اسکور پر انہوں نے لگاتار دو گیندوں پر ویرات کوہلی (9 رنز) اور ڈینجر مین یووراج سنگھ (صفر) کو ٹھکانے لگایا۔ یووراج سنگھ کو کرائی گئی گیند بلاشبہ میچ کی سب سے خوبصورت گیند تھی۔ ایک ان سوئنگنگ یارکر کو ہوم بوائے بالکل نہ سمجھ سکے اور پہلی ہی گیند پر پویلین واپس لوٹ گئے۔ ان کے آؤٹ ہوتے ہی میدان میں سناٹا چھا گیا۔ پاکستانی باؤلرز میچ پر مکمل طور پر حاوی ہو گئے اور انہوں نے آخر تک بھارتی بلے بازوں کو کھل کر نہ کھیلنے دیا۔

گو کہ ابھی صرف نصف اوورز ہوئے تھے جس میں بھارت کا اسکور 141 تھا لیکن اگلے 25 اوورز میں پاکستانی باؤلرز کی اچھی کارکردگی نے انہیں محض 120 رنز بنانے دیے۔ وہاب ریاض نے مہندر سنگھ دھونی اور ظہیر خان کی وکٹیں بھی حاصل کیں اور 46 رنز دے کر 5 وکٹوں کے کیریئر بیسٹ فیگر حاصل کیے۔ آخری لمحات میں سریش رائنا کے ناقابل شکست 36 رنز نے بھی فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

پاکستان کی جانب سے وہاب ریاض کی پانچ وکٹوں کے علاوہ سعید اجمل نے دو اور محمد حفیظ نے ایک وکٹ حاصل کی۔

جواب میں پاکستان کا آغاز اچھا تھا اور ابتداء میں اس کے بلے باز پر اعتماد نظر آئے۔ کامران اکمل اور محمد حفیظ نے اسکور کو 44 رنز تک پہنچایا لیکن اس موقع پر کامران اکمل (19 رنز) ظہیر خان کی ایک کم رفتار کی گیند پر اسکوائر ڈرائیو کھیلتے ہوئے یووراج سنگھ کو کیچ دے بیٹھے۔ اس کے بعد اسد شفیق نے محمد حفیظ کا ساتھ دینا شروع کیا اور دونوں اسکور کو 70 تک لےگئے۔ اس موقع پر محمد حفیظ (43 رنز) نے میچ کا سب سے برا شاٹ کھیلا۔ آف اسٹمپ سے باہر ایک فل ڈلیوری کو اسکوپ کھیلنے کی بیوقوفانہ اور غیر ضروری کوشش انہیں مہنگی پڑی اور گیند وکٹوں کے پیچھے دھونی کے ہاتھوں میں گئی اور پاکستان کو دوسرا نقصان اٹھانا پڑا۔

پاکستان کو 103 کے اسکور پر اسد شفیق (30 رنز) کا نقصان اٹھانا پڑا۔ جو یووراج سنگھ کی ایک خوبصورت گیند کو لیٹ کٹ کرنے کی کوشش میں ناکام ہوئے اور ان کی مڈل اسٹمپ اکھڑ گئی۔ اب پاکستان کی سب سے تجربہ کار جوڑی یونس خان اور مصباح الحق کی صورت میں وکٹوں پر کھڑی تھی اور فتح کی تمام تر امیدیں اسی سے وابستہ تھیں۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں بلے بازوں کو کھیلنے میں بہت زیادہ مشکل پیش آ رہی تھی۔ بڑھتے ہوئے دباؤ اور رن ریٹ کے باوجود انہوں نے سست رفتاری کا مظاہرہ کیا۔ پارٹ ٹائم باؤلر یووراج سنگھ نے اپنے اگلے ہی اوور میں اس بڑھتے ہوئے دباؤ کا فائدہ اٹھایا اور یونس خان (13 رنز) کو میدان بدر کر کے بھارت کو مکمل طور پر میچ پر حاوی کر دیا۔

سست رن ریٹ کے باعث نئے بلے باز عمر اکمل کو میدان میں تیز کھیلنے کی ہدایت کے ساتھ بھیجا گیا اور انہوں نے آتے ہی اسکور کو تیزی سے آگے بڑھانے کے ہدف پر کام شروع کر دیا۔ حریف باؤلرز کی دو گیندوں کو چھکے اور ایک کو چوکے کی راہ دکھانے کے بعد وہ ہربھجن سنگھ کی انتہائی خوبصورت گیند کا نشانہ بن گئے۔ عمر اکمل نے 24 گیندوں پر 29 رنز بنائے اور انتہائی مایوسی کے عالم میں میدان سے واپس لوٹے۔

اب پاکستان کے لیے ہدف مشکل تر ہوتا جا رہا تھا اور بھارت کے باؤلرز اور فیلڈرز پاکستانی بلے بازوں پر اپنا شکنجہ کستے جا رہے تھے۔ عبد الرزاق (3 رنز)، شاہد آفریدی (19 رنز)، وہاب ریاض (8 رنز) اور عمر گل (2 رنز) کو ٹھکانے لگا کر انہوں نے پاکستانی امیدوں پر بالکل پانی پھیر دیا۔

آخری اوور میں پاکستان کو جیتنے کے لیے تقریباً ناممکن 31 رنز درکار تھے۔ مصباح الحق پانچویں گیند کو چھکے کی راہ دکھانے کی کوشش میں لانگ آن پر ویرات کوہلی کو کیچ دے بیٹھے اور بالآخر میچ بھارت نے جیت لیا۔

بھارت کے تمام باؤلرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ظہیر خان، اشیش نہرا، ہربھجن سنگھ، مناف پٹیل اور یووراج سنگھ نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

سچن ٹنڈولکر کو میچ میں سب سے زیادہ رنز بنانے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اب بھارت کا سامنا 2 اپریل کو ممبئی میں عالمی کپ کے فائنل میں سری لنکا سے ہوگا جو نیوزی لینڈ کو زیر کر کے فائنل تک پہنچی ہے۔

میچ کی جھلکیاں

بشکریہ ای ایس پی این اسٹار

Facebook Comments