بھارت، آسٹریلیا اور انگلستان کو شرم آنی چاہیے: جیفری بائیکاٹ

دنیائے کرکٹ کے معروف تجزیہ کار جیفری بائیکاٹ نے کہا کہ وہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے روبرو بھارت، آسٹریلیا اور انگلستان کی جانب سے پیش کردہ سفارشات اور ان پر اب تک ہونے والی پیشرفت پر سخت صدمے میں ہیں اور ان تینوں ممالک کی لالچ و حرص کرکٹ کے لیے زہر قاتل ہوگی۔

بھارت، آسٹریلیا اور انگلستان کو ایسی سفارشات پیش کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے تھی، جیفری بائیکاٹ (تصویر: Getty Images)

بھارت، آسٹریلیا اور انگلستان کو ایسی سفارشات پیش کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے تھی، جیفری بائیکاٹ (تصویر: Getty Images)

معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو سے گفتگو کرتے ہوئے جیفری بائیکاٹ نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ کئی سالوں سے سخت دباؤ میں ہے، میدان خالی ہوتے جا رہے ہیں۔ بھارت، انگلستان اور آسٹریلیا تو یہ بات کبھی نہیں مانیں گے کیونکہ انہیں اس صورتحال کا سامنا نہیں ہے۔ وہاں اب بھی ٹیسٹ مقابلوں میں خاصے تماشائی آتے ہیں لیکن دیگر ممالک کا حال دیکھیں، جنوبی افریقہ میں تماشائیوں کی تعداد کیا ہے؟ ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ میں کتنے افراد ٹیسٹ میچز دیکھنے آتے ہیں، پاکستان تو سرے سے اپنے میدانوں ہی میں نہیں کھیل پا رہا۔ درحقیقت لوگوں نے ٹیسٹ دیکھنے کے لیے میدانوں کا رخ کرنا چھوڑ دیا ہے اور یہ صورتحال گزشتہ کئی سالوں سے ہے۔ نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز، سری لنکا اور پاکستان بھی کرکٹ کے لیے اہم ممالک ہیں اور وہاں تماشائیوں کا کم ہونا تشویشناک امر ہے۔اگر ٹیسٹ کرکٹ کو عالمی درجہ بندی کے حساب سے دو درجوں میں تقسیم کردیا گیا تو دوسرے درجے کے ممالک کو ٹیلی وژن حقوق سے اتنے پیسے نہیں ملیں گے، انہیں بھارت اور انگلستان جیسے ممالک کے خلاف ٹیسٹ مقابلے کھیلنے کا بھی پیسہ نہیں ملے گا اور آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے ان ممالک میں ٹیسٹ کرکٹ لب گور تک پہنچ جائے گی۔

جیفری بائیکاٹ نے کہا کہ اس صورتحال میں ٹیسٹ کرکٹ ان ممالک کے لیے مالی لحاظ سے سراسر نقصان دہ ہوگی۔ اس لیے نہیں کہ وہ ٹیسٹ نہیں کھیلنا چاہتے بلکہ اس لیے کہ اس پر اخراجات آمدنی سے زیادہ ہوں گے اور یوں یہ ملک تمام تر خواہش کے باوجود صرف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی تک محدود ہوجائیں گے اور دنیائے کرکٹ کے غالب حصے میں ٹیسٹ کرکٹ کا خاتمہ ہوجائے گا۔

ماضی کے عظیم انگلش بلے باز نے کہا کہ اس صورتحال میں بھارت، انگلستان اور آسٹریلیا کے درمیان کرکٹ بہت بڑھ جائے گی، یہاں تک کہ عوام اکتا جائیں گے۔ یکسانیت کرکٹ کے حسن کو گہنا دے گی اور گوناگونی ہی کھیل کے لیے بہت زیادہ اہم ہے۔ در درجوں میں تقسیم کے نتیجے میں بہترین ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف کھیلیں گی اور سرفہرست تین ممالک کے لیے تنزلی کا کوئی امکان ہی نہ پیدا ہوگا۔ یہ کس قدر مضحکہ خیز بات ہے۔ یہ سن کر تو مجھے جارج اورویل کی مشہور کتاب 'اینیمل فارم' یاد آرہی ہے، جس میں لکھا تھا کہ "سب لوگ برابر ہیں، بس کچھ لوگ دوسروں کے مقابلےمیں زیادہ برابر ہیں۔" اور اس اجلاس سے یہی کچھ ہونے جارہا ہے۔ مختصر مدت میں تو یہ ممالک شاید بہت پیسہ بنا لیں لیکن کرکٹ شائقین آخر کب تک بھارت-انگلستان، بھارت-آسٹریلیا اور ایشیز مقابلے دیکھیں گے؟ وہ اکتا جائیں گے۔

18 سال پر محیط ٹیسٹ کیریئر رکھنے والے بائیکاٹ نے کہا کہ بنگلہ دیش اور زمبابوے جیسے ممالک تو مکمل طور پر بھارت کے رحم و کرم پر ہیں، وہ بھارت کے حق ہی میں ووٹ دیں گے کیونکہ انہیں خطرہ ہے کہ بھارت کے دورہ نہ کرنے کے نتیجے میں وہ ٹیلی وژن حقوق کی صورت میں ملنے والی بڑی آمدنی سے محروم ہوجائیں گے۔ ان کے علاوہ مالی بحران کے شکار ممالک بھی ہیں، جیساکہ پاکستان، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز۔ وہ خوفزدہ ہوں گے کہ اگر بھارت نہ کھیلا تو ان کے ساتھ بھی وہی ہوگا جو حال ہی میں جنوبی افریقہ کے ساتھ ہوا۔ اگر یہ کمزور ممالک خوف کی وجہ سے بھارت کا ساتھ دیتے ہیں تو میری رائے میں اپنے ہی پیر پر کلہاڑی ماریں گے۔

جیفری بائیکاٹ نے کہا کہ دنیائے کرکٹ کی 80 فیصد آمدنی بھارت سے آتی ہے لیکن بھارت کو بڑے ہونے کے ساتھ بڑے دل کا مالک بھی ہونا چاہیے۔ اقتدار کے حصول کے ساتھ ذمہ داری بھی ضروری ہے۔ صرف پیسہ بنانا سب کچھ نہیں، آپ کے اندر احساس ذمہ داری بھی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کو دس بڑے ممالک کے دس چیئرمین اپنے ملک کے مفادات کے حساب سے چلاتے ہیں اور اگر کھیل کے معاملات ماضی کی طرح ایم سی سی کے ہاتھ میں ہوتے تویہ صورتحال ہرگز پیدا نہ ہوتی، وہ کسی بھی ملک کے مقابلے میں کرکٹ کو سب سے زیادہ ترجیح دیتا۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے روبرو پیش کردہ سفارشت میں اپنے آبائی وطن انگلستان کے کردار پر جیفری بائیکاٹ نے کہا کہ مجھے یقین نہیں آرہا کہ بھارت نے ایسی سفارشات سامنے رکھی ہیں اور انگلستان، جو کرکٹ کا گھر ہے، ان کے حق میں ووٹ دینے جا رہا ہے۔

سفارشات کی عدم منظوری کی صورت میں بھارت کی جانب سے آئی سی سی ایونٹس نہ کھیلنے کی دھمکی پر "جیف" نے کہا کہ یہ سراسر بلیک میلنگ ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ کرکٹ کی آمدنی کا غالب حصہ آپ کے ملک سے آتا ہے تو آپ یہ کہہ دیں گے کہ ہم نہیں کھیلیں گے تو تمہارے ورلڈ کپ کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ یہ دھمکی آمیز رویہ ہے۔ مجھے بھارت سے کوئی ذاتی عناد نہیں۔ میں سالوں تک اس ملک میں جاکر کرکٹ مقابلے کھیلتا اور تبصرے کرتا رہا ہوں۔ وہاں کے لوگ مجھے بہت عزیز ہیں،وہ کرکٹ سے محبت کرنے والے اورکھیل سے جذباتی وابستگی رکھنے والے لوگ ہیں لیکن میری طرح وہاں کرکٹ سے لگاؤ رکھنے والا ہر شخص اس بات کو سمجھ رہا ہوگا کہ جو ہونے جارہا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔

جیفری بائیکاٹ نے ذرائع ابلاغ، بالخصوص بھارتی میڈیا، سے مطالبہ کیا کہ وہ آگے بڑھ کر واشگاف انداز میں کہے کہ جو کچھ کیا جارہا ہے وہ کرکٹ کے لیے اچھا نہیں، یہ سراسر دیوانہ پن ہے۔ میں اس کا الزام کا محض بھارت پر نہیں دھرتا، بلکہ انگلستان اور آسٹریلیا بھی اس میں شریک ہیں۔ انہیں ایسی سفارشات پیش کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے تھی ۔

بھارت، انگلستان اور آسٹریلیا کی جانب سے پیش کردہ سفارشات پر ابتدائی غور کے بعد اب بین الاقوامی کرکٹ کونسل کا اجلاس اگلے ماہ ہوگا، جہاں ممکنہ طور پر انہیں بین الاقوامی قانون کی حیثیت سے تسلیم کرلیا جائے گا۔

Facebook Comments