پاکستان : "کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا بارہ آنے"

بالآخر دھونس دھمکیاں کام آئیں اور بنگلہ دیش نے بھی 'تین بڑوں' کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ یوں بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی تنظیم نو کے لیے تجویز کردہ متنازع سفارشات کے حق میں ممالک کی تعداد سات ہوگئی۔ اب ان سفارشات کی منظوری کے لیے 'تین بڑوں' کو صرف ایک ووٹ کی ضرورت ہے۔

بنگلہ دیش کی یقین دہانی پیش خیمہ ہے کہ جلد سری لنکا بھی 'تین بڑوں' کے ساتھ مل جائے گا (تصویر: AFP)

بنگلہ دیش کی یقین دہانی پیش خیمہ ہے کہ جلد سری لنکا بھی 'تین بڑوں' کے ساتھ مل جائے گا (تصویر: AFP)

بھارت، آسٹریلیا اور انگلستان کی جانب سے پیش کردہ سفارشات میں چند تبدیلیوں کے بعد بنگلہ دیش نے انہیں قابل قبول قرار دے دیا ہے۔ ابتدائی سفارشات کے مطابق بین الاقوامی ٹیسٹ کرکٹ کو دو درجوں میں تقسیم کیا جانا تھا، جہاں سرفہرست 8 ٹیمیں چار، چار کے دو گروپوں میں ہوتیں جبکہ آخری دو ملکوں کی تنزلی مزید نچلے درجے میں ہوجاتی۔ اس وقت عالمی درجہ بندی میں نویں نمبر پر موجود بنگلہ دیش کے لیے یہ تجویز ناقابل قبول تھی اور اسی لیے بنگلہ دیش نے کھل کر ان تجاویز کی مخالفت بھی کی۔ لیکن بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے سالانہ بورڈ اجلاس میں سفارشات میں کی گئی ترمیم کے بعد اب بنگلہ دیش راضی بالرضا نظر آتا ہے کیونکہ ترمیم شدہ سفارشات میں فیوچر ٹورز پروگرام کو برقرار رکھا گیا ہے اور ٹیسٹ کو دو درجوں میں تقسیم کی تجویز پر معاملہ بھی موخر کردیا گیا ہے۔ یوں بنگلہ دیش بھی ممکنہ طور پر 8 فروری کو ہونے والے اگلے اجلاس میں سفارشات کے حق میں ووٹ ڈالے گا۔

اب صرف پاکستان، سری لنکا اور جنوبی افریقہ ہی رہ گئے ہیں جو اب تک ان سفارشات کے خلاف ہیں، اور ان میں سب سے نازک صورتحال سری لنکا کی ہے۔ اس وقت بھی اپنے مالی معاملات کو سنبھالنے کے لیے آئی سی سی کے قرضے پر چلنے والے سری لنکا سے یہ امید رکھنا فضول ہے کہ وہ تمام تر نامساعد حالات کے باوجود بھارت اور ان ممالک کے خلاف رائے دے پائے گا جن پر وہ بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ نہ صرف اجتماعی، یعنی باہمی مقابلوں کے لیے، بلکہ انفرادی سطح پر بھی سری لنکا کے لیے یہ کام بہت بہت مشکل ہوگا کیونکہ اس کے تمام اہم کھلاڑی انڈین پریمیئر لیگ بھی کھیلتے ہیں اور اس حد تک جاچکے ہیں کہ اہم ترین باؤلر لاستھ مالنگا صرف آئی پی ایل کی وجہ سے ٹیسٹ کرکٹ چھوڑ چکے ہیں۔ اس لیے سری لنکا تو کسی صورت میں بھارت سے ٹکر لینے اور آئی پی ایل جیسے منافع بخش 'کاروبار' کو کھونے کا متحمل ہو ہی نہیں سکتا ۔ یوں امکان ہے کہ اگلے چند دنوں میں آٹھواں اور قیمتی ترین ووٹ بھی 'تین بڑوں' کو مل جائے اور وہ آئین میں تبدیلی کے لیے درکار تین چوتھائی اکثریت حاصل کرجائیں گے۔

اس منظرنامے میں دیکھا جائے تو صرف دو ممالک تنہا رہ جاتے ہیں ایک پاکستان، جس کا معاملہ ایک نیام میں دو تلواروں جیسا ہے کہ جہاں بھارت ہوگا، وہاں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں، اور دوسرا جنوبی افریقہ جو بھارت سے کشیدہ تعلقات کی مزید سزا بھگتے گا۔ اس وقت عالمی درجہ بندی میں ممتاز مقام کے باوجود جنوبی افریقہ کو دیگر معاملات میں پچھلی نشستوں پر دھکیلا جارہا ہے کیونکہ یہ جنوبی افریقہ تھا جس نے ان سفارشات کے خلاف سب سے پہلے ردعمل دکھایا اور ان کی کھلے الفاظ میں مذمت کی۔

اب صاف ظاہر ہے کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کی کرکٹ کے لیے ایک بہت سخت دور کا آغاز ہونے والا ہے، جو مالیاتی نظام کی اصلاح کے نتیجے میں آئی سی سی سے پہلے سے کہیں کم آمدنی حاصل کریں گے اور ساتھ ساتھ 'بڑوں' سے مخالفت مول لینے کی وجہ سے ہر مرحلے پر نت نئی مشکلات کا بھی سامنا کریں گے۔

پاکستان کو اس پوری صورتحال سے کیا ملے گا؟ اور وہ کیا لے سکتا ہے؟ اس کا اندازہ اسی بات سے لگا لیں کہ عین اس وقت کہ جب بھارت کو ایک، ایک ووٹ کی اشد ضرورت تھی، اس نے پاکستان کے کسی کھلاڑی کو آئی پی ایل نیلامی میں شامل نہیں کیا، یعنی یہ واضح اعلان ہے کہ سفارشات کی منظوری کے لیے بھارت کو پاکستان کی مدد کی چنداں ضرورت ہی نہیں۔ جب ضرورت ہی نہیں تو کاہے کی منتیں، سماجتیں، وعدے، وعیدیں؟ حقیقت یہ ہے کہ صرف ایک جملہ پاکستان کی کیفیت کو بیان کرنے کے لیے کافی ہے "کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا بارہ آنے!"

Facebook Comments