ہماری کشتیاں جل چکی ہیں!!

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے اہم اجلاس کے دوسرے روز بنگلہ دیش کے خوفزدہ ہوکر ہتھیار ڈالنے اور نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز جیسے ’’ غریب ‘‘ بورڈز کی آنکھیں ڈالروں کی چمک سے چندھیا جانے کے بعد اب ’’بگ تھری‘‘ کے لیے راستہ صاف ہے۔ اپنے تمام تر وسائل اور حربوں کو آزمانے کے بعد وہ چھوٹے ممالک کو ساتھ ملانے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ 8 فروری کو ہونے والا اگلا اجلاس محض رسمی کارروائی ثابت ہوگا، جس میں ’’بگ تھری‘‘ کی سفارشات کثرت رائے سے منظور ہو جائیں گی۔

کیا پاکستان اور جنوبی افریقہ بھارت سے دشمنی جھیل پائیں گے؟ یہ وقت بتائے گا (تصویر: AFP)

کیا پاکستان اور جنوبی افریقہ بھارت سے دشمنی جھیل پائیں گے؟ یہ وقت بتائے گا (تصویر: AFP)

گزشتہ تحریر میں میں نے لکھا تھا کہ اگلی بیٹھک میں یہ تینوں ممالک ’’انگلی ٹیڑھی کرکے گھی نکالنے‘‘ کی کوشش کریں گے اور انہیں اس میں کامیابی بھی مل جائے گی۔ سری لنکا، نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز، بنگلہ دیش اور زمبابوے کا شمار چھوٹی ٹیموں میں ہوتا ہے جو بھارت ،انگلینڈ اور آسٹریلیا جیسے ممالک کے سامنے پر بھی نہیں مار سکتے۔ اس کی وجہ ان کی اوسط درجے کی کارکردگی نہیں بلکہ مالی مسائل بھی ہیں اور بگ تھری فارمولے کے تحت ان ممالک کو یہ یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ اگلے آٹھ برسوں میں ان کی جیبیں ڈالرز سے بھر جائیں گی جس کے باعث ان ممالک نے اپنا موقف تبدیل کرلیا ہے اور اس صورتحال میں پاکستان اور جنوبی افریقہ اکیلے رہ گئے جنہیں اگلی میٹنگ میں نہ چاہتے ہوئے بھی ’’بگ تھری‘‘ کے مطالبات کو تسلیم کرنا پڑے گا۔

عالمی نمبر ایک جنوبی افریقہ اور پاکستان کا دیگر تمام ممالک کے خلاف ڈٹ جانا، گو کہ ظاہری طور پر فائدہ مند نہیں دکھائی دیا، لیکن اخلاقی فتح اور کرکٹ کے چاہنے والے کی نظروں میں دونوں ممالک کی قدر منزلت میں جو اضافہ ہوا ہے، وہ قابل قدر ہے جبکہ ساتھ ساتھ پاک-جنوبی افریقہ تعلقات بھی نئے مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔ درحقیقت، پاکستان اور جنوبی افریقہ کو اس اجلاس سے پہلے ہی پتہ تھا کہ ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا مگر ’’بگ تھری‘‘ کے ناجائز مطالبے کے خلاف ڈٹ جانا ہی ان دونوں ممالک کی اخلاقی فتح تھی کیونکہ یہ دونوں اس سے زیادہ کچھ کر بھی نہیں سکتے تھے اور جتنا وہ کرسکتے تھے وہ انہوں نے کردکھایا ۔اب دونوں ممالک کے مستقبل پر نظریں مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، بالخصوص پاکستان کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل بہت اہمیت کا حامل ہوگیا ہے کیونکہ سر عام بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا جیسے ممالک کی مخالفت کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ اپنی کشتیاں جلا چکا ہے، اور اس کے پاس واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔

’’بگ تھری‘‘کے خلاف پاکستان اور جنوبی افریقہ نے جو ’’بھائی چارہ‘‘ قائم کیا ہے، اسے آنے والے عرصے میں بھی برقرار رکھنا پاکستان کے لیے بہت ضروری ہے۔یہ دونوں ممالک آئندہ زیادہ سے زیادہ باہمی سیریز کھیل کر ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہیں اور اس ’’بھائی چارے‘‘کو مزید فروغ دینے کے لیے اگر ’’گورے‘‘پروٹیز پاکستان کا دورہ کرنے پر آمادہ ہوجائیں تو یہ پاکستان کے لیے ’’بگ تھری‘‘کی مخالفت کا سب سے بڑا ثمر ہوگا۔اب پی سی بی کو چاہئے کہ وہ جنوبی افریقہ کے ساتھ تعلقات کو مستحکم بناتے ہوئے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کی کوشش کرے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا عالمی کپ 2015ء کے لیے کوالیفائی کرنا بھی پاکستان کے لیے خوش آئند بات ہے۔ آئندہ ماہ عالمی کپ کے لیے کوالیفائی کرنے والے دو ممالک افغانستان اور متحدہ عرب امارات کو مدعو کرکے ملک میں بین الاقوامی مقابلوں کی سیریز کھیلی جا سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی سی سی اجلاس میں چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف کو آئی سی سی صدارت کی’’رشوت‘‘دینے کی کوشش بھی کی گئی، جسے چوہدری صاحب نے دھتکار دیا۔ اس لیے اب پیچھے دیکھنے کا وقت گزر چکا، حالات جیسے بھی ناسازگار ہوں، پی سی بی کو اب آگے کی طرف ہی دیکھنا ہوگا۔

ذکا اشرف کے ’’بگ تھری‘‘کے سامنے ڈٹ جانے کو بہت سے لوگ غلط قرار دے رہے ہیں لیکن پی سی بی کے سربراہ کا یہ فیصلہ پاکستان کرکٹ کے مستقبل اور ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے لیے پیشرفت ثابت ہوسکتا ہے جس کے لیے پی سی بی کو جنوبی افریقہ اور چھوٹے ممالک کو ساتھ ملانا ہوگا تاکہ ’’بگ تھری‘‘کی طرف دیکھے بغیر نہ صرف بین الاقوامی کرکٹ بحال کی جا سکے بلکہ ایک مرتبہ پھر پاکستان سپر لیگ کے مردہ بدن میں نئی روح پھونکی جا سکے کیونکہ ساری کشتیاں جلانے کے بعد اسی میں پاکستان کرکٹ کی بقا ہے۔

Facebook Comments