لاہور‪...‬لاہور اے، لیکن ‪...‬‪...‬!

’’لاہور‪…‬لاہور اے‘‘ یہ فقرہ میں نے خوش خوراک لاہوریوں سے ہزاروں مرتبہ سنا ہے، اس شہر کے باسی دنیا گھوم لیں پھر بھی ان کا دل لاہور ہی میں اٹکا رہتا ہے۔ اس شہر میں کشش ہی کچھ ایسی ہے کہ دوسرے شہروں سے آنے والوں کا بھی یہاں سے جانے کو جی نہیں کرتا۔ بے شمار تاریخی عمارات کے علاوہ پاکستان کرکٹ کا مرکز بھی اسی شہر میں ہیں جہاں قذافی اسٹیڈیم میں قائم عمارت میں پاکستان کرکٹ کے تمام فیصلے ہوتے ہیں۔ اسی میدان کے قریب تقریباً پانچ سال پہلے سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کا وہ واقعہ پیش آیا جس کے بعد بین الاقوامی کرکٹ پاکستان سے روٹھ گئی۔ آج اسی میدان پر پاکستان ڈومیسٹک کرکٹ کا سب سے بڑا ٹورنامنٹ 'قائد اعظم ٹرافی' راولپنڈی کی جیت کے ساتھ مکمل ہوا جس نے اپنے ہمسائے اسلام آباد کو شکست دے کر پہلی بار یہ اعزاز اپنے نام کیا۔ یہ یقیناً گزشتہ چند سالوں میں ملک کو کئی باصلاحیت کھلاڑی نوازنے والے شہر راولپنڈی کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ ‬

رواں سیزن تین میں سے چار ڈومیسٹک فائنل لاہور میں ہوچکے ہیں، اب آئندہ مقابلے بھی یہیں کروا کر پی سی بی کیا ثابت کرنا چاہتا ہے؟ (تصویر: AFP)

رواں سیزن تین میں سے چار ڈومیسٹک فائنل لاہور میں ہوچکے ہیں، اب آئندہ مقابلے بھی یہیں کروا کر پی سی بی کیا ثابت کرنا چاہتا ہے؟ (تصویر: AFP)

پانچ دنوں تک قذافی اسٹیڈیم میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے برسر پیکار رہنے کے بعد صرف ایک دن کے وقفے سے یہاں پریزیڈنٹ کپ کا فائنل نیشنل بینک اور خان ریسرچ لیبارٹریز (کے آر ایل) کے درمیان کھیلا جائے گا۔ قائد اعظم ٹرافی کے فائنل سے قبل پاکستان اور افغانستان کی انڈر 19 ٹیموں کے مابین تین ون ڈے مقابلوں کی سیریز بھی یہیں کھیلی گئی اور اس سے پہلے پریزیڈنٹ ٹرافی کے کئی مقابلے بھی اور ڈپارٹمنٹل ٹی 20 ٹوئنٹی کپ بھی پی سی بی ہیڈکوارٹر میں ہی ہوا۔ غالباً اگلے ہفتے سے راولپنڈی میں شروع ہونے والے قومی ٹی 20کپ کے بارے میں بھی شنید ہے کہ آخری وقت میں یہ لاہور منتقل کردیا جائے، جیساکہ چند ماہ قبل کیا گیا تھا۔

رواں سال پریزیڈنٹ ٹرافی میں نبرد آزما دفاعی چیمپئن سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور یونائیٹڈ بینک کی ٹیموں کا فائنل بھی اسی ٹی ٹوئنٹی ایونٹ کی وجہ’’موخر‘‘ کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پریذیڈنٹ ٹرافی کا فائنل اقبال اسٹیڈیم، فیصل آباد میں کھیلا جائے گا مگر ممکن ہے کہ یہ فائنل بھی لاہور منتقل ہوجائے۔

یوں رواں ڈومیسٹک سیزن میں چار میں سے تین ایونٹس کا فائنل لاہور میں کھیلا جاچکا ہے۔ ریجنل ون ڈے کپ کا فائنل کراچی میں کھیلا گیا جس میں میزبان کراچی ڈولفنز نے کامیابی حاصل کی۔ یہ بھی حیرت کا سبب ہے کہ ون ڈے کپ کا فائنل تو کراچی میں منعقد کیا گیا، جس میں میزبان ٹیم بھی کھیل رہی تھی جسے ہوم گراؤنڈ کا ایڈوانٹیج حاصل تھا،ہوم کراؤڈ کا ذکر میں نے اس لیے نہیں کیا کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں کھیلے گئے اس فائنل کو دیکھنے والوں کی تعداد تین ہندسوں میں بھی نہ تھی، لیکن یہ فیصلہ بہتر ضرور تھا کہ فائنل کراچی میں رکھا گیا جس میں کراچی کی ٹیم بھی کھیل رہی تھی۔ مگر قائد اعظم ٹرافی میں یہ ’’اصول‘‘کیوں بھلا دیا گیا جس کے فائنل میں راولپنڈی اور اسلام آباد کی ٹیمیں شریک تھیں جنہیں ایک تیسرے شہر میں بلا کر نسبتاً نامانوس ماحول میں فائنل کھلایا گیا۔ جہاں ان کی حوصلہ افزائی کے لیے اسٹینڈز میں صرف سات تماشائی موجود تھے۔ دنیا بھر میں فرسٹ کلاس ایونٹس کے فائنل کی میزبانی پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست رہنے والی ٹیم کو دی جاتی ہے کہ وہ پورے ٹورنامنٹ میں عمدہ کارکردگی دکھانے کے صلے میں فائنل میں ہوم ایڈوانٹیج سے مستفید ہوسکے لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ ایسا سوچنے کی زحمت نہیں کرتا۔

ڈومیسٹک ٹورنامنٹس کے فائنل مقابلے بڑے شہروں میں کروانے کی یہ وجہ بیان کی جاتی ہے کہ براہ راست نشر کیے جانے والے ان میچز میں براڈ کاسٹرز کو سہولت مل جاتی ہے مگر قائد اعظم ٹرافی کا فائنل راولپنڈی اسٹیڈیم میں بھی کروایا جاسکتا تھا جہاں سرکاری ٹی وی اسلام آباد میں اپنا ہیڈکواٹر ہونے کے باعث زیادہ بہتر انداز میں کوریج کرسکتا تھامگر پی سی بی نے ٹھان رکھی ہے کہ ہر بڑے ٹورنامنٹ کا فائنل لاہور میں ہی کروانا ہے تاکہ تقریب تقسیم انعامات میں مہمان خصوصی بننے والی ’’ہستیوں‘‘ کو لاہور سے باہر جانے کی زحمت گوارہ نہ کرنا پڑے۔

قذافی اسٹیڈیم لاہور پاکستان کرکٹ بورڈ کا ہیڈ کواٹر ضرور ہے لیکن میچز کی تعداد کے حوالے سے اس اسٹیڈیم کو برتر مقام نہیں دیا جاسکتا کہ کراچی، راولپنڈی، فیصل آباد، پشاور، ملتان، کوئٹہ،سیالکوٹ، حیدرآباد جیسے شہروں میں بسنے والے شائقین کرکٹ اپنے ہیروز کو ڈومیسٹک میچز میں ایکشن میں دیکھنے کے لیے ترستے رہیں جبکہ تمام اہم ایونٹس کے فائنل قذافی اسٹیڈیم کے ’’قلعے‘‘میں کھیلے جائیں جس کی اونچی دیواریں اور سیکورٹی کے نام پر کھڑی کی جانے والی رکاوٹیں کسی عام تماشائی کو اسٹیڈیم میں گھسنے بھی نہیں دیتیں۔ میں اس بات سے سو فیصد متفق ہوں کہ ’’لاہور‪…‬لاہور اے‘‘مگر پی سی بی کو چاہیے کہ ڈومیسٹک ایونٹس کے فائنل کی میزبانی کے لیے کوئی ’’ہور‘‘ شہر بھی دیکھے!!‬‬‬

Article Tags

Facebook Comments