سری لنکا نے ساری کسریں بنگلہ دیش سے نکال لیں، بھاری بھرکم جیت

چند روز قبل شارجہ میں پاکستان کے خلاف مایوس کن شکست کھانے کے بعد سری لنکا نے تمام تر کسریں دنیائے کرکٹ میں کمزور ترین حریف بنگلہ دیش سے نکال لیں اور میرپور، ڈھاکہ میں ہونے والے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں ایک اننگز اور 248 رنز کی بھاری فتح حاصل کرلی۔ یہ کسی بھی ٹیم کے خلاف سری لنکا کی تاریخ کی دوسری سب سے بڑی فتح ہے۔ سری لنکا نے ڈھاکہ میں باؤلنگ اور بیٹنگ دونوں میں کمال فن کا مظاہرہ کیا اور نہ صرف واحد اننگز میں 730 رنز کا پہاڑ جیسا مجموعہ اکٹھا کیا بلکہ بنگلہ دیش کو دو اننگز میں صرف 232 اور 250 رنز پر ڈھیر کیا۔

مہیلا جے وردھنے نے کیریئر کی ساتویں ڈبل سنچری بنائی اور ناقابل شکست رہے (تصویر: AFP)

مہیلا جے وردھنے نے کیریئر کی ساتویں ڈبل سنچری بنائی اور ناقابل شکست رہے (تصویر: AFP)

پہلے بیٹنگ کی دعوت ملنے پر بنگلہ دیش محض 59 رنز پر اپنی چار وکٹیں گنوا چکا تھا لیکن تجربہ کار شکیب الحسن اور کپتان مشفق الرحیم کے درمیان پانچویں وکٹ پر 86 رنز کا اضافہ مقابلے کو کچھ برابری کی بنیاد پر لے آیا لیکن ناصر حسین کی ناکامی اور شکیب کے ساتھ ان کی وکٹ کا بھی فوراً گرجانا بنگلہ دیش کو ایک بڑے مجموعے کی طرف نہ لے جاسکا۔ شکیب 55 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے جبکہ مشفق الرحیم سہاگ غازی کے ساتھ 53 رنز کی شراکت داری کے بعد میدان سے لوٹ آئے اور پھر پوری ٹیم 232 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ مشفق نے 61 اور سہاگ نے 42 رنز بنائے۔

سری لنکا کی جانب سے شامنڈا ایرنگا نے 4، سورنگا لکمل نے 3، رنگانا ہیراتھ نے 2 جبکہ اینجلو میتھیوز نے ایک وکٹ حاصل کی۔

باؤلنگ میں شاندار مظاہرے کے بعد سری لنکا مقابلے پر مکمل طور پر حاوی ہوگیا۔ اوپنرز کی جانب سے سںچری شراکت داری ملنے کے بعد تقریباً تمام ہی وکٹوں پر اسے بہترین ساجھے داریاں نصیب ہوئیں۔ میچ کا سب سے شاندار لمحہ سری لنکا کے تجربہ کار بلے باز مہیلا جے وردھنے کی شاندار ڈبل سنچری تھی جنہوں نے کیریئر میں ساتویں مرتبہ 200 رنز کا ہندسہ عبور کیا۔ وہ 272 گیندوں پر 4 چھکوں اور 16 چوکوں کی مدد سے 203 رنز بنا کر ناقابل شکست میدان سے لوٹے۔ نہ صرف مہیلا بلکہ دیگر تمام لنکن بلے بازوں نے بھی میزبان باؤلرز پر کوئی رحم نہ کھایا۔ اسکور کارڈ ہی سے اندازہ ہوجاتا ہے، کوشال سلوا 139، کیتھوروون وتھاناگے 103، اینجلو میتھیوز 86، کمار سنگاکارا 75، دیموتھ کرونارتنے 53 اور دنیش چندیمال 40 رنز۔ اتنی جامع کارکردگی کے بعد 730 رنز نہ بنتے تو کیا بنتا؟

بنگلہ دیشی باؤلرز کا حال یہ تھا کہ چار باؤلرز نے 100 سے زیادہ رنز کھائے جن میں شکیب الحسن، سہاگ غازی، الامین الحسین اور ربیع الاسلام شامل تھے۔ البتہ شکیب 3 اور سہاگ 2 وکٹیں حاصل کرنے میں ضرور کامیاب رہے۔

498 رنز کے خسارے میں جانے کے بعد بنگلہ دیش کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں تھی جبکہ ابھی دو دن سے زیادہ کا کھیل باقی تھا۔ سری لنکا نے تیسرے روز کے اختتام تک اسے کی ایک وکٹ بھی حاصل کرلی۔ چوتھے دن بنگلہ دیش نے زیادہ مزاحمت نہیں کی اور محض 43 اوورز تک ہی سری لنکن باؤلرز کے سامنے کھیل سکا۔ اتنے بڑے خسارے کے بوجھ تلے دبنے کے بعد جس طرح کی کارکردگی کی ضرورت بلے بازوں کو تھی وہ ویسی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔صرف مومن الحق واحد کھلاڑی تھے جنہوں نے نصف سنچری بنائی۔

دوسری اننگز میں دلرووان پیریرا نے بہترین باؤلنگ کی اور 5 بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ تین وکٹیں سورنگا لکمل نے حاصل کیں۔ ایک، ایک کھلاڑی کو شامنڈا ایرنگا اور رنگانا ہیراتھ نے آؤٹ کیا۔

اس فتح کے ساتھ ہی سری لنکا کو دو ٹیسٹ مقابلوں کی سیریز میں ایک-صفر کی ناقابل شکست برتری حاصل ہوچکی ہے۔ مہیلا جے وردھنے کو شاندار کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

سیریز دوسرا و آخری ٹیسٹ 4 فروری سے چٹاگانگ میں کھیلا جائے گا جہاں بنگلہ دیش کے پاس سیریز بچانے کا آخری موقع ہوگا۔

Facebook Comments