بھارت سے کوئی سودے بازی نہیں کی، جنوبی افریقہ

کرکٹ ساؤتھ افریقہ نے ان زیر گردش خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں کہا جارہا ہے کہ سی ایس اے اس وقت بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے ساتھ مذاکرات کررہا ہے تاکہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی تنظیم نو کے لیے پیش کردہ متنازع سفارشات پر اتفاق ہوسکے۔

عالمی کرکٹ کے لیے اس مشکل وقت میں عوام کو گمراہ کرنے والی خبروں کا خیرمقدم نہیں کریں گے: کرس نینزانی، صدر کرکٹ ساؤتھ افریقہ (تصویر: Gallo Images)

عالمی کرکٹ کے لیے اس مشکل وقت میں عوام کو گمراہ کرنے والی خبروں کا خیرمقدم نہیں کریں گے: کرس نینزانی، صدر کرکٹ ساؤتھ افریقہ (تصویر: Gallo Images)

جنوبی افریقہ وہ پہلا ملک تھا جس نے بھارت، آسٹریلیا اور انگلستان کی جانب سے پیش کردہ سفارشات کی کھل کر مخالفت کی تھی اور آئی سی سی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان سفارشات سے دستبردار ہوجائے لیکن اب معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ جنوبی افریقہ اور بھارت کے کرکٹ بورڈز کے درمیان مذاکرات اہم مرحلے میں ہیں اور اگر جنوبی افریقہ ہفتے کو آئی سی سی بورڈ اجلاس میں سفارشات کے حق میں ووٹ دینے پر راضی ہوگیا تو اس کے بدلے میں نہ صرف کرکٹ ساؤتھ افریقہ کے چیف ایگزیکٹو ہارون لورگاٹ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے اجلاسوں میں شرکت کرپائیں گے بلکہ بھارتی بورڈ حکام کے ساتھ بھی معاملات طے کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں زیادہ تواتر کے ساتھ کرکٹ کھیلی جائے گی جو ماضی قریب میں بہت مختصر رہی ہے۔

لیکن کرکٹ ساؤتھ افریقہ کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے بنیادی اصولوں پر کوئی سودے بازی نہیں کی اور نہ ہی کرے گا۔ سی ایس اے کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بورڈ کے صدر کرس نینزانی نے کہا کہ "ہم بی سی سی آئی سمیت آئی سی سی کے دیگر تمام اراکین سے بھی بات چیت کررہے ہیں تاکہ اس صورتحال سے نکلنے کا کوئی قابل قبول راستہ تلاش کیا جا سکے، لیکن ہم واضح کردیں کہ ہم نے اصولوں پو کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی کریں گے۔ یہ عالمی کرکٹ کے لیے ایک مشکل اور کڑا وقت ہے اور اس موقع پر ہم عوام کو گمراہ کرنے والی خبروں کا خیرمقدم نہیں کریں گے۔" انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ "کرکٹ ساؤتھ افریقہ کسی بھی فریق کے ساتھ پس پردہ معاہدے کی خبروں کی سختی سے تردید کرتا ہے۔"

کرس نینزانی نے کہا کہ "ہم نے آئی سی سی کے روبرو پیش کردہ سفارشات کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ ہم بورڈ اجلاس سے قبل تمام اراکین کے ساتھ اتفاق رائے کی کوشش کریں گے۔ ہمارے بھارت سمیت تمام رکن ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور ہمیں اپنی ذمہ داریاں کا بھی احساس ہے۔"

آئی سی سی کا بورڈ اجلاس سنیچر کو دبئی میں ہونے والا ہے جہاں سفارشات کے اس مسودے پر غور کیا جائے گا ، جس میں وہ نکات شامل ہیں جن پر بقول آئی سی سی تمام ممالک نے گزشتہ اجلاس میں اتفاق کیا تھا۔ آسٹریلیا، بھارت اور انگلستان کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کو اب تک

بنگلہ دیش، نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کی جانب سے تائید مل چکی ہے جبکہ پاکستان، سری لنکا اور جنوبی افریقہ نے اب تک اس کی واضح مخالفت کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تین چوتھائی اکثریت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے اب تک معاملہ لٹکا ہوا ہے گو کہ 'تین بڑوں' کو اب صرف ایک مزید ووٹ درکار ہے۔

اگر جنوبی افریقہ-بھارت مبینہ رابطوں کے نتیجے میں واقعی جنوبی افریقہ بھی 'تین بڑوں' کے ساتھ مل گیا تو اس کا سب سے بڑا نقصان پاکستان کو پہنچے گا، جس کی عالمی تنہائی مزید بڑھ جائے گی۔ گزشتہ 5 سالوں سے اپنے میدانوں میں بین الاقوامی مقابلوں کی میزبانی سے محرومی اور اب تمام ممالک سے مخالفت مول لینے کے بعد پاکستان کرکٹ کے لیے ایک بہت مشکل دور کا آغاز ہوجائے گا۔

Facebook Comments