عامر سہیل کو چیف سلیکٹر بنا دیا گیا

پاکستان نے سابق کپتان اور چیف سلیکٹر عامر سہیل کو ڈائریکٹر گیم ڈیولپمنٹ اور چیئرمین سلیکشن کمیٹی مقرر کردیا ہے۔ یہ ذکا اشرف کی بحیثیت چیئرمین بحالی کے بعد پہلی بڑی تقرری ہے۔ عامر سہیل کے سامنے اب پہلا بڑا چیلنج ایشیا کپ کے لیے ایسی قومی ٹیم کا انتخاب کرنا ہے جو اپنے اعزاز کا بھرپور انداز میں دفاع کرسکے۔

عامر سہیل ماضی میں دو مرتبہ قومی چیف سلیکٹر رہ چکے ہیں (تصویر: AFP)

عامر سہیل ماضی میں دو مرتبہ قومی چیف سلیکٹر رہ چکے ہیں (تصویر: AFP)

پاکستان 2013ء کے وسط میں اقبال قاسم کے استعفے کے بعد سے بغیر کسی چیف سلیکٹر کے کام کررہا تھا۔ گو کہ پی سی بی کے عبوری سربراہ نجم سیٹھی نے معین خان کو اس عہدے پر مقرر کیا تھا لیکن عدالت کی جانب سے مداخلت کے بعد معین خان کو عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہی چھوڑنا پڑ گیا تھا۔ اب جبکہ گوشتہ ماہ عدالت نے ذکا اشرف کی معطلی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں چیئرمین کے عہدے پر بحال کردیا اور تمام تر اختیارات ملنے کے بعد اب اہم عہدوں پر تقرریاں بھی شروع ہوگئی ہیں۔

قذافی اسٹیڈیم لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عامر سہیل نے کہا کہ اس مرتبہ وہ کوشش کریں گے کہ پاکستان کرکٹ کو نئی بلندیوں پر لے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کرکٹ بورڈ بالخصوص چیئرمین ذکا اشرف کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھ پر اعتماد کیا۔

عامر سہیل نے کہا کہ ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی بنگلہ دیش میں کھیلے جائیں گے اور پاکستان کی حالیہ کارکردگی کو دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ وہاں کی وکٹیں پاکستان کے لیے سازگار ہوں گی۔ اس وقت پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج حتمی ٹیم کو مضبوط بنانا ہے جبکہ دستیاب کھلاڑیوں کی فہرست کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

سلیکشن کمیٹی کے اجلاس کے حوالے سے عامر سہیل نے کہا کہ آئندہ چند روز میں کمیٹی کا اجلاس ہوگا جس میں کپتان اور ساتھی سلیکٹرز کی آراء کے ذریعے آگے چلیں گے۔

ایک سوال پر عامر سہیل نے کہا کہ انہیں مصباح الحق کا دفاع کرنے کی ضرورت نہیں ہے، مصباح نے اپنی کارکردگی کے ذریعے خود پر ہونے والی تنقید کا بھرپور جواب دے دیا۔ درحقیقت مصباح نے بہت مشکل وقت میں دستیاب وسائل کے اندر بھرپور کام کیا اور اس پر ہمیں ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

قومی سلیکشن کمیٹی کے دیگر اراکین میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور سلیم جعفر، فرخ زمان اور اظہر خان بدستور اپنے فرائض انجام دیں گے۔

عامر سہیل 2003ء کے عالمی کپ میں پاکستان کی مایوس کن شکست کے بعد پہلی بار چیف سلیکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے تھے اور ان کے عہد میں کئی نوجوان کھلاڑی ٹیم کا حصہ بنے تھے۔ بعد ازاں 2009ء میں اعجاز بٹ کے عہد میں بھی انہیں چیف سلیکٹر کا عہدہ ملا لیکن انہوں نے مکمل اختیارات نہ ہونے کا شکوہ کرتے ہوئے بعد ازاں استعفیٰ دے دیا۔

سابق چیف سلیکٹر محمد الیاس کو جونیئر اور ویمنز ٹیموں کا سلیکٹر مقرر کیا گیا تھا جبکہ سابق کوچ انتخاب عالم بھی ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔

Facebook Comments