بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا؟

دنیائے کرکٹ میں 'تین بڑوں' کے منصوبے پر جو ہنگامہ برپا ہے اس پر کسی نے کیا خوب کہا کہ یہ "دادا گیری کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش" ہے۔ 'بدمعاش' کے اس لقب پر تو بھارت، آسٹریلیا اور انگلستان کو کوئی اعتراض بھی نہ ہوگا کیونکہ جس ڈھٹائی کے ساتھ ان تینوں ممالک نے اپنی سفارشات انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے روبرو پیش کی ہیں، اس سے ظاہر بھی یہی ہو رہا ہے۔ لیکن درحقیقت یہ معاملہ بدمعاشی کا ہے ہی نہیں بلکہ خالصتاً مالی مفادات کا قصہ ہے۔

'تین بڑے' ممالک عالمی کرکٹ پر قبضہ نہیں کرنا چاہتے بلکہ وہ عالمی کرکٹ کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ مال بنا سکیں (تصویر: Getty Images)

'تین بڑے' ممالک عالمی کرکٹ پر قبضہ نہیں کرنا چاہتے بلکہ وہ عالمی کرکٹ کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ مال بنا سکیں (تصویر: Getty Images)

بھارت، آسٹریلیا اور انگلستان فی الوقت آمدنی کا بڑا حصہ اپنے میدانوں پر سیریز کا انعقاد کرکے اس کے نشریاتی حقوق سے حاصل کرتے ہیں جبکہ بقیہ سات مالک اس معاملے میں کہیں پیچھے ہیں۔ تمام ممالک نشریاتی حقوق کے بنیادی ذریعے کے علاوہ اپنی بیشتر آمدنی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے حاصل کرتے ہیں جو وہ ورلڈ کپ، چیمپئنز ٹرافی، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیسے ٹورنامنٹس کے نشریاتی حقوق بیچ کر آمدنی حاصل کرتا ہے اور پھر اسے برابری کی بنیاد پر تمام رکن ممالک میں تقسیم کرتا ہے۔ آئی سی سی کی تنظیم نو کے لیے پیش کردہ متنازع سفارشات میں سب سے اہم معاملہ اسی آمدنی کا ہے۔

کرک نامہ کے مدیر فہد کیہر کی ڈان کی اردو ویب سائٹ کے لیے لکھی گئی یہ تحریر مکمل طور پر یہاں پڑھیے۔

Facebook Comments