[خصوصی] ذکا اشرف کے خلاف الزامات پر مبنی "وائٹ پیپر" تیار

وزیر اعظم اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے منتظم اعلیٰ میاں محمد نواز شریف نے جس طرح آج ذکا اشرف کو چیئرمین کے عہدے سے برطرف کیا، وہ جمہوریت پسندی کے دعویدار سیاسی رہنما کو کسی طرح زیب نہیں دیتا۔ لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ آخر کن وجوہات نے تجربہ کار سیاست دان کو اس انتہائی قدم پر مجبور کیا؟ اس حوالے سے کرک نامہ کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ذکا اشرف کو نہ صرف بورڈ میں بدانتظامی بلکہ سنگین مالی بدعنوانی کے الزامات کے باعث برطرف کیا گیا۔ پی سی بی کے "چودھری" کے خلاف تیار ہونے والا 13 نکاتی قرطاس ابیض (وائٹ پیپر) کرک نامہ کے اپنے ذرائع سے موصول ہوا ہے جس میں ذکا اشرف کی 10 بڑی ناکامیاں شامل کی گئی ہیں۔

وائٹ پیپر میں ذکا اشرف کی سیاسی نوعیت کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں (تصویر: AFP)

وائٹ پیپر میں ذکا اشرف کی سیاسی نوعیت کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں (تصویر: AFP)

ذکا اشرف کے خلاف تیار کیا گیا یہ وائٹ پیپر کئی سنگین نوعیت کےالزامات پر مبنی ہے جن میں دارالحکومت اسلام آباد میں اسٹیڈیم کے قیام اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے منصوبے پر کروڑوں روپے ضایع کرنے، صحافیوں اور اپنے اہل خانہ اور دوستوں پر لاکھوں روپے اڑانے، کرکٹ بورڈ میں من پسند افراد کی بھاری تنخواہوں پر اور بلاضرورت ملازمین کی بھرتی اور اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی کرکٹ میں پاکستان کو تنہا کرنے اور غیر ملکی بورڈز کے ساتھ تعلقات خراب کرنے جیسے الزامات ہیں۔

وائٹ پیپر میں الزام لگایا گیا ہے کہ پاکستان میں عرصہ دراز سے بین الاقوامی کرکٹ کے عدم انعقاد ، اور مستقبل قریب میں امکان بھی نہ ہونے کے باوجود ذکا اشرف نے اسلام آباد میں نئے اسٹیڈیم کے قیام کی نہ صرف منظوری دی بلکہ غیر قانونی طور پر اس کا ٹھیکہ دیا اور اسٹیڈیم پر ساڑھے تین کروڑ روپے خرچ کرڈالے۔

علاوہ ازیں پاکستان سپر لیگ کے نام سے ایک بڑے منصوبے کا آغاز کیا اور بغیر کسی تیاری و منصوبہ بندی کے مقامی و غیر ملکی مشیران کی تقرری پر 4 کروڑ روپے صرف کیے۔ اس کے باوجود بدانتظامی کے باعث یہ منصوبہ بعد ازاں منسوخ کرنا پڑا۔

ذکا اشرف پر لگائے گئے دیگر الزامات میں پاکستان میں اور بیرون ملک اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے لیے کرائے پر گاڑیاں استعمال کرنے کی مد میں 70 لاکھ روپے کے اخراجات اور ان کے لیے چیمپئنز ٹرافی 2013ء کے لیے 23 لاکھ روپے کے ٹکٹ خریدنا بھی شامل ہیں۔ حالانکہ اس وقت وہ اسلام آباد ہآئی کورٹ کے فیصلے کے باعث معطل ہوچکے تھے۔ علاوہ ذکا اشرف پر ذاتی حفاظت کے لیے مامور دستے کے لیے 30 لاکھ روپے کی گاڑیاں خریدنے، غیر ضروری تفریح اور سفر کی مد میں ایک کروڑ روپے صحافیوں پر خرچ کرنے، اہل خانہ اور سیاسی دوست احباب کے لیے تفریح، سفر، فون اخراجات اور دیگر ذاتی سرگرمیوںپر ایک کروڑ روپے سالانہ، بیرون ملک ذاتی و اہل خانہ کے سفر کے لیے 'فرسٹ کلاس' سفری اخراجات کی مد میں 2 کروڑ روپے، شاہانہ استقبالیوں میں 11 ملین سے زیادہ کے فضول اخراجات، راولپنڈی میں برطانوی افواج کے مقابلوں اور عشائیے میں 6.4 ملین روپے کے اخراجات اور ذاتی کاروباری ٹیکس مشیر اور وکلاء کو بھاری فیسوں کی ادائیگی جیسے الزامات لگائے گئے ہیں۔

قرطاس ابیض میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت کے حکم پر بحالی کے بعد گزشتہ دس روز میں کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ میں منتقلی، ترقی و تقرری کے علاوہ نئی بھرتیاں بھی کی گئیں جس کے لیے قوانین کی کوئی پاسداری نہیں کی گئی۔

وائٹ پیپر میں ذکا اشرف کی دس بڑی ناکامیاں یہ قرار دی گئی ہیں:

1: بنگلہ دیش کو پاکستان کا دورے کرنے کے لیے رضامند کرنے میں ناکامی
2: بھارت کو پاکستان کے ساتھ دو طرفہ مقابلوں کی شروعات پر رضامند کرنے میں ناکامی
3: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے انعقاد میں ناکامی
4: علاقائی کرکٹ سے اقرباء پروری اور بدعنوانی کا خاتمہ کرنے میں ناکامی
5: آئندہ آٹھ سالوں میں کسی بھی آئی سی سی ٹورنامنٹ کو پاکستان میں طے کروانے پر ناکامی
6: اسپانسرز سے طویل المیعاد معاہدوں اور نئے مشتہرین کو متوجہ کرنے میں ناکامی
7: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے تعلق کے باعث پنجاب اور وفاقی حکومتوں سے تعلقات قائم کرنے میں ناکامی
8: انتظامیہ میں اپنے ساتھیوں کی کامیابی کے لیے انتخابات میں جوڑ توڑ، کرکٹ کلبز اور ایسوسی ایشنز کے معاملات میں غیر ضروری دخل اندازی، جس کے باعث پی سی سی کے خلاف مقدموں میں اضافہ
9: آئی سی سی کے اجلاس میں بگ تھری کے خلاف سری لنکا اور جنوبی افریقہ کے ساتھ اتحاد بنانے میں ناکامی جس سے بین الاقوامی کرکٹ میں پاکستان تنہا ہوا
10: پی سی بی کو سیاسی جماعت کی سرپرستی میں چلانے اور پیشہ ورانہ مہارت و کارکردگی کے بجائے ذاتی وفاداری کی بنیاد پر ملازمت پر بھرتی و اخراج

ذکا اشرف کے خلاف 13 نکاتی قرطاس ابیض (وائٹ پیپر) ذیل میں دیکھا جا سکتا ہے:

white-paper-against-zaka-ashraf-pcb

Facebook Comments