عالمی کپ 2011ء: چھوٹی ٹیموں کے بڑے کارنامے

عالمی کپ کو ایک حقیقی بین الاقوامی ایونٹ بنانے کے لیے تمام ٹورنامنٹس میں مستقل اراکین کے علاوہ دیگر ٹیموں کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ ماضی میں انہی ٹیموں میں سے سری لنکا اور زمبابوے عالمی افق پر نمایاں ہوئے۔ تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے نوآموز ٹیموں کی ناقص کارکردگی کے باعث ان کی شمولیت پر کرکٹ کے حلقوں کی جانب سے ناک بھوں چڑھائی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ عالمی کپ میں یکطرفہ میچز کی تعداد بہت زیادہ ہو جانا ہے۔

اس شکایت کے ازالے کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2015ء کے عالمی کپ میں محض 10 ٹیمیں کھلائے گا اور اس کی بیان کردہ وجوہات میں ایک روزہ کرکٹ کو ٹی ٹونٹی جیسے تیز فارمیٹ سے درپیش خطرات اور یکطرفہ مقابلوں کے باعث عوامی دلچسپی میں مزید کمی شامل ہیں۔ یہ وجوہات بالکل حقیقی بھی ہیں۔ اس وقت ٹی ٹونٹی کا فارمیٹ جس تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہا ہے، اس سے واقعتاً ایک روزہ کرکٹ کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور آئی سی سی ہر گز یہ نہیں چاہے گا کہ اس کا وہ فارمیٹ، جس میں سب سے بڑا مقابلہ یعنی ورلڈ کپ ہوتا ہے، عوامی سطح پر مقبولیت کھو بیٹھے ۔

کیون اوبرائن نے عالمی کپ کی تیز ترین سنچری بناتے ہوئے آئرلینڈ کو انگلستان کے خلاف شاندار کامیابی دلوائی (گیٹی امیجز)

2015ء کے عالمی کپ کے اس فیصلے کو نوآموز ٹیموں، چند کھلاڑیوں اور ماہرین کرکٹ کی جانب سے تنقید کا نشانہ تو بنایا گیا لیکن چند حلقے ایسے ہیں جنہوں نے اس فیصلے کو سراہا بھی۔ ان میں آسٹریلیا کے سابق کپتان رکی پونٹنگ نمایاں تھے ۔ انہوں نے ٹیموں کی تعداد میں کمی کو عالمی کپ کے لیے بہتر قرار دیا۔

رواں عالمی کپ کے ابتدائی میچز میں نوآموز ٹیموں نیدرلینڈز، آئرلینڈ، کینیا اور کینیڈا کی کارکردگی بھی ایسی تھی جو ان بیانات اور فیصلوں کو تقویت بخش رہی تھی لیکن آئی سی سی کے اس اعلان کے بعد ایسوسی ایٹ ممالک کی ٹیموں نے اک 'کرارا جواب' دینے کی ٹھانی۔ عالمی کپ کے لیے فیورٹ ٹیموں میں شامل انگلستان نیدرلینڈز کے ہاتھوں شکست سے تو بال بال بچ گیا لیکن آئرلینڈ سے نہ بچ سکا جس نے عالمی کپ کی تاریخ کا سب سے بڑا ہدف حاصل کیا اور انگلستان کے اگلے مرحلے تک پہنچنے کو مشکل بنا دیا۔ پھر کینیڈا نے جس طرح پاکستانی بیٹنگ لائن اپ کی دھجیاں بکھیریں وہ بھی آئی سی سی کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھیں۔ گو کہ یہ عرصے کے بعد پہلا کپ ہے جس میں سر فہرست 8 ٹیمیں ہی اگلے مرحلے تک پہنچی ہیں لیکن اس عالمی کپ میں ایسوسی ایٹ ٹیموں خصوصاً آئرلینڈ کو ان کی کارکردگی پر داد نہ دینا زیادتی ہوگی۔

آئرلینڈ جس نے 2007ء کے عالمی کپ میں پاکستان کو شکست دے کر تہلکہ مچا دیا تھا اس مرتبہ بھی بہت خطرناک موڈ میں نظر آئی۔ پہلے گروپ میچ میں بنگلہ دیش کے خلاف سنسنی خیز مقابلے کے بعد شکست کھائی لیکن اگلے ہی میچ میں انگلستان کو زیر کر کے تاریخ رقم کر دی۔ اس میچ میں آئرش کھلاڑی کیون اوبرائن نے انگلستانی بالنگ لائن کے پرخچے اڑاتے ہوئے عالمی کپ کی تیز ترین سنچری اسکور کر کے دنیائے کرکٹ کو باور کرایا کہ ریکارڈ بنانے کا اختیار صرف بڑی ٹیموں کو ہی حاصل نہیں۔

ٹیسٹ اسٹیٹس کی حامل اور عالمی کپ کی میزبان ٹیم بنگلہ دیش نے انتہائی ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا (اے پی)

آئرش ٹیم نے بھارت کے خلاف میچ بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا اور حریف کو بڑی اور آسان فتح حاصل نہ کرنے دی۔ ابتدائی تین میچز کی کارکردگی کے بعد لگتا تھا کہ آئرلینڈ کم از کم ایک اور اپ سیٹ کرے گا لیکن ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ میں اچھی پوزیشن میں ہونے کے باوجود اسے شکست ہو گئی۔ گو کہ اس میں کسی حد تک امپائر کے ناقص فیصلے کا بھی ہاتھ تھا لیکن بہرحال ایک فیصلہ میچ کے نتیجے کو مکمل طور پر نہیں بدل سکتا۔ پورے ٹورنامنٹ میں واحد میچ جس میں وہ بڑے مارجن سے ہارا وہ جنوبی افریقہ کے خلاف تھا پھر آخری میچ میں اس نے نیدرلینڈز کے خلاف ایک بڑا ہدف حاصل کرتے ہوئے ٹورنامنٹ میں اپنی دوسری فتح حاصل کی۔ اس شاندار کارکردگی کے ذریعے آئرلینڈ نے باور کرایا ہے کہ آئی سی سی ایسوسی ایٹ ٹیموں کو کمزور نہ سمجھے بلکہ آئی سی سی اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے ۔

اگر معاملہ ایسوسی ایٹ ممالک کی کارکردگی اور یک طرفہ مقابلوں کا ہی ہے تو یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آئی سی سی کی مکمل رکنیت رکھنے والے ممالک نے کی کارکردگی کون سی بہت اعلی رہی۔ عالمی کپ کے گروپ مقابلوں میں کالی آندھی کہلانے والی ویسٹ انڈیز اور بنگال ٹائیگرز کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ دونوں ممالک ٹیسٹ اسٹیٹس بھی رکھتے ہیں اور کرکٹ کا بنیادی ڈھانچہ ان ممالک میں مضبوط بھی ہے لیکن عالمی کپ میں دونوں کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔ بنگلہ دیش نے انگلستان کے خلاف اپ سیٹ فتح حاصل کر کے کسی حد تک اپنے داغوں کو دھویا ہے لیکن ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کے خلاف جس طرح ان کی بیٹنگ لائن انتہائی کم اسکور پر ڈھیر ہوئی وہ ان کی کمزوریوں کو نمایاں کرنے کے لیے کافی ہے۔

سری لنکا نے کوارٹر فائنل میں انگلستان کو یک طرفہ مقابلے کے بعد 10 وکٹوں سے شکست دی (گیٹی امیجز)

ویسٹ انڈیز نے گروپ میچز میں کمزور ٹیموں کے خلاف تو بڑی فتوحات حاصل کیں لیکن انگلستان، بھارت اور جنوبی افریقہ کے خلاف ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور تمام میچز میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شکست کھائی۔ بعد ازاں اسے پاکستان کے ہاتھوں کوارٹر فائنل میں بھی 10 وکٹوں کی رسوا کن شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اسی انداز میں سری لنکا نے انگلستانی ٹیم کو شکست کی ہزیمت سے دو چار کیا۔ اس لیے آئی سی سی کا محض اس بنیاد پر فیصلہ کرنا کہ ایسوسی ایٹ ممالک کے ہوتے ہوئے یکطرفہ میچز کی تعداد بڑھ جاتی ہے اور شائقین کی دلچسپی میں کمی واقع ہوتی ہے کوئی سنجیدہ فیصلہ نہیں لگتا۔ البتہ آئی سی سی نے ایک روزہ عالمی کپ کی جگہ ٹی ٹونٹی میں ان ٹیموں کو موقع دینے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ واقعی بہت اچھے اثرات مرتب کرے گا۔

ٹی ٹونٹی ایسا فارمیٹ ہے جس میں کم اوورز کی وجہ سے ٹیموں کے درمیان مارجن بہت کم رہ جاتا ہے اور کوئی ایک کھلاڑی بھی اپنی انفرادی کارکردگی کی بنیاد پر میچ کو حریف سے چھین سکتا ہے اس لیے ان مقابلوں میں شرکت سے ایسوسی ایٹ ٹیموں کا اعتماد بہت بڑھے گا۔ اس لیے اگر آئی سی سی کا ایک روزہ عالمی کپ میں ٹیموں کی تعداد کو 10 کرنے پر اصرار ہے تو انہیں پھر ٹی ٹونٹی عالمی کپ میں تعداد کم از کم 14 کرنا چاہیے تاکہ عالمی کپ میں شریک موجودہ ٹیموں کے علاوہ افغانستان، اسکاٹ لینڈ، برمودا، نمیبیا اور امریکہ جیسی ٹیموں کو بھی موقع ملے کہ وہ کرکٹ کے عالمی منظرنامے پر نمایاں ہو کر ابھریں اور اپنی کارکردگی کے ذریعے نہ صرف اپنی اہلیت ثابت کریں بلکہ کرکٹ کے دنیا بھر میں فروغ کا باعث بنیں۔

Facebook Comments