مشاورت طلب کی گئی تو بیٹنگ میں بھی رہنمائی کروں گا: فیلڈنگ کوچ شعیب محمد

پاکستان کے نئے فیلڈنگ کوچ شعیب محمد نے کہا ہے کہ وہ کھلاڑیوں میں جی جان سے فیلڈنگ کرنے کی لگن پیدا کریں گے اور اگر مشاورت طلب کی گئی تو بلے بازوں کی بیٹنگ میں بھی رہنمائی کریں گے۔

کوشش کروں گا کہ پوری ٹیم عمر اکمل اور احمد شہزاد جیسی فیلڈنگ کرے، شعیب محمد (تصویر: AP)

کوشش کروں گا کہ پوری ٹیم عمر اکمل اور احمد شہزاد جیسی فیلڈنگ کرے، شعیب محمد (تصویر: AP)

کراچی میں کرک نامہ سے گفتگو کرتے ہوئے شعیب محمد نے کہا کہ احمد شہزاد اور عمر اکمل قومی ٹیم کے پھرتیلے فیلڈر ہیں اور ان کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے دیگر کھلاڑیوں پر بھی محنت کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کوچ کے عہدے کے لیے عمومی درخواست دی تھی لیکن میری تقرری فیلڈنگ کوچ کی حیثیت سے ہوئی ہے اور کوشش کروں گا کہ مختصر عرصے میں اپنی ذمہ داریاں باحسن و خوبی پوری کروں۔

پاکستان نے جولین فاؤنٹین کا دو سالہ معاہدہ مکمل ہونے کے بعد توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور ہیڈ کوچ ڈیو واٹمور کے ساتھ انہیں بھی واپسی کا پروانہ تھما دیا گیا جبکہ نئے تربیتی عملے کی تقرری کے لیے اس مرتبہ غیر ملکی کے بجائے مقامی کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا جن میں سابق وکٹ کیپر کپتان معین خان کو ہیڈ کوچ اور شعیب محمد کو فیلڈنگ کوچ کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں جبکہ محمد اکرم کو باؤلنگ کوچ کی حیثیت سے دو سالہ توسیع دے دی گئی ہے۔

45 ٹیسٹ اور 63 ایک روزہ مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے شعیب محمد کا کہنا ہے کہ گو کہ ان کے پاس جادو کی چھڑی نہیں کہ چند روز میں سب کچھ بدل کر رکھ دیں لیکن اس اہم کام کو انہوں نے چیلنج سمجھ کر قبول کیا ہے اور اس سے عہدہ برآ ہونا ان کا اصل ہدف ہے۔

ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیسے اہم ترین ٹورنامنٹس سے قبل یہ ذمہ داری سنبھالنے والے شعیب کا کہنا تھا کہ سری لنکا کے خلاف حالیہ فتوحات کے بعد قومی کرکٹ ٹیم کے حوصلے بہت بلند ہیں اور مجھے قوی امید ہے کہ پاکستان ایشیا کپ میں اپنے اعزاز کے دفاع میں کامیاب ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گو کہ بلے بازوں کی تربیت کرنا ان کی ذمہ داری نہیں ہے لیکن اگر کوئی کھلاڑی اس سلسلے میں رہنمائی کا طالب ہوگا تو وہ ضرور اسے مفید مشوروں سے نوازیں گے۔

نئے کوچز کی نگرانی میں پاکستان کا اگلا بڑا امتحان ایشیا کپ میں اپنے اعزاز کا دفاع کرنا ہے جو 25 فروری سے بنگلہ دیش میں شروع ہورہاہے۔ اگر قومی کرکٹ ٹیم اس امتحان میں پوری اتری تو اگلے ماہ بنگال کے انہی میدانوں پر سال کا سب سے بڑا ٹورنامنٹ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی بھی کھیلا جانا ہے جہاں چار سال قبل حاصل کردہ اعزاز کو ایک مرتبہ پھر حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔

Article Tags

Facebook Comments