[ریکارڈز] برینڈن میک کولم کی تاریخ ساز اننگز

خود سے کئی درجے بلند ٹیم کے خلاف سیریز میں ایک-صفر کی ناقابل شکست بلکہ ناقابل یقین برتری اور اس کے بعد دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 192 رنز پر ڈھیر ہوجانا اور پہلی اننگز میں 246 رنز کا بھاری بھرکم خسارے کے دباؤ تلے 94 رنز پر 5 وکٹیں گنوا بیٹھنا،نیوزی لینڈ کو اس مقام پرشکست سے کون بچا سکتا تھا؟ صرف ایک معجزاتی اننگز اور یہ اننگزکھیلی کپتان برینڈن میک کولم نے۔ جنہوں نے بیسن ریزرو، ویلنگٹن میں 281 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز تراش کر نہ صرف ٹیم کو یقینی شکست سے بچالیا ہے بلکہ انفرادی طور پر بھی کئی سنگ ہائے میل کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

برینڈن میک کولم نیوزی لینڈ کرکٹ تاریخ کی طویل ترین اننگز کے ریکارڈز سے محض 19 رنز کے فاصلے پر (تصویر: Getty Images)

برینڈن میک کولم نیوزی لینڈ کرکٹ تاریخ کی طویل ترین اننگز کے ریکارڈز سے محض 19 رنز کے فاصلے پر (تصویر: Getty Images)

525 گیندوں پر محیط ، 28 چوکوں اور 4 چھکوں سے مزین میک کولم کی اننگز صرف اس لیے اہمیت نہیں رکھتی کہ انہوں نے بہت طویل باری کھیلی اور کئی نئے ریکارڈز توڑنے کے بھی قریب ہیں، بلکہ اس اننگز کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ یہ بہت سنگین حالات میں تراشی گئی۔ پہلی اننگز میں 246 رنز کے خسارے کے ساتھ نیوزی لینڈ نے جب دوسری باری کا آغاز کیا تو تہرے ہندسے میں پہنچنے سے قبل ہی آدھی ٹیم پویلین لوٹ چکی تھی۔ 94 رنز پر 5 وکٹیں گنوانے کے بعد میک کولم نے وکٹ کیپر بریڈلے-جان واٹلنگ کے ساتھ مل کر گویا مقابلے کا رخ ہی پلٹ دیا۔ دونوں نے چھٹی وکٹ پر 352 رنز کی عالمی ریکارڈ شراکت داری قائم کرکے بھارت کے سیریز برابر کرنے کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔

'میک' اور 'بی جے' نے احمد آباد ٹیسٹ 2009ء میں بھارت کے خلاف سری لنکا کے بلے بازوں مہیلا جے وردھنے اور پرسنا جے وردھنے کا بنایا گیا 351 رنز کی شراکت داری کا ریکارڈ اپنے نام کیا۔ مذکورہ مقابلے میں مہیلا جے وردھنے نے 275 رنز بنائے تھے جبکہ پرسنا 154 رنز پر ناقابل شکست رہے تھے اور سری لنکا نے 426 رنزکے جواب میں 760 رنز کا پہاڑ کھڑا کر ڈالا تھا۔

یہ تو وہ ریکارڈ ہے جو ٹوٹ چکا لیکن دو ریکارڈز ایسے ہیں جن کی وجہ سے میک کولم تو کیا پوری دنیائے کرکٹ کی نظریں کل بیسن ریزرو کے میدان پر جمی ہوں گی۔ ایک نیوزی لینڈ کی طرف سے طویل ترین اننگز کھیلنے کا ریکارڈ اور دوسرا دوسری اننگز میں ٹرپل سنچری بنانے کا ریکارڈ۔ اس وقت نیوزی لینڈ کی جانب سے طویل ترین باری کھیلنے کا اعزاز مارٹن کرو کے پاس ہے جنہوں نے 31 جنوری 1991ء کو سری لنکا کے خلاف ویلنگٹن کے اسی میدان پر 299 رنز بنائے تھے۔ جی ہاں، مارٹن دنیا کے ان بدقسمت ترین بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں اتنے اہم سنگ میل سے صرف ایک رن کی دوری پر آؤٹ ہونا پڑا۔ پہلی اننگز میں 323 رنز کے خسارے کے بعد یہ مارٹن کرو اور اینڈریو جانز کی 467 رنز کی شراکت داری تھی جس نے نیوزی لینڈ کے لیے میچ بچایا لیکن انفرادی طور پر دونوں بلے باز اہم سنگ ہائے میل عبور نہ کرسکے۔ جانز 186 رنز پر آؤٹ ہوئے جبکہ مارٹن کرو 299 رنز بنانے کے بعد ارجنا راناتنگا کی گیند پر وکٹ کیپر ہشان تلکارتنے کو کیچ دے بیٹھے۔

اگر برینڈن میک کولم 19 رنز جوڑ کر ٹرپل سنچری سنگ میل عبور کرگئے تو وہ نہ صرف نیوزی لینڈ کے پہلے ٹرپل سنچورین بن جائیں گے بلکہ پاکستان کے حنیف محمد کے بعد کرکٹ تاریخ کے محض دوسرے بلے باز بن سکتے ہیں جنہیں کسی ٹیسٹ مقابلے کی دوسری اننگز میں ٹرپل سنچری بنانے کا اعزاز ملا ہو۔ حنیف محمد نے جنوری 1958ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف برج ٹاؤن ٹیسٹ میں 337 رنز بنا کر پاکستان کو یقینی شکست سے بچایا تھا۔ پہلی اننگز میں 473 رنز کے خسارے کے بعد فالو آن کا سامنا کرنے کے دوران حنیف محمد کی تاریخی ٹرپل سنچری ہی کی بدولت پاکستان مقابلہ ڈرا کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔ 970 منٹ محیط یہ اننگز آج 56 سال گزر جانے کے بعد بھی طوالت کے اعتبار سے سب سے بڑی اننگز ہے۔

بہرحال، اب چوتھے روز کے اختتام پر نیوزی لینڈ کی مجموعی برتری 325 رنز کی ہوچکی ہے جبکہ جمی نیشام کے ساتھ میک کولم کی ساتویں وکٹ پر شراکت داری بھی 125 رنز تک جا پہنچی ہے۔ کہاں اننگز کی شکست کا سامنا کرنے والا نیوزی لینڈ اور کہاں ہر لحاظ سے غالب پوزیشن پر موجودگی، کمال نہیں ہوگیا؟ بلاشبہ میک کولم نے ایسی باری کھیلی ہے جو تاریخ کے صفحات میں انہیں طویل عرصے تک زندہ رکھے گی۔

Facebook Comments