بلے بازوں کی نااہلی کا مقابلہ، سری لنکا نے بنگلہ دیش کو ہرادیا

صرف 67 رنز پر 8 وکٹیں گنوانے والا سری لنکا بچ گیا جبکہ 53 رنز کے اضافے پر 8 وکٹوں سےمحروم ہوجانے والا بنگلہ دیش ہار گیا۔ ایسا لگتا ہے طویل عرصے سے بین الاقوامی کرکٹ میں موجود بنگلہ دیش کی "کارکردگی" میں ایک طرح تسلسل ضرور موجود ہے، وہ ہے فتح کے نزدیک پہنچ کر مقابلہ ضایع کرنا۔ سری لنکا کے خلاف جاری سیریز کے ٹی ٹوئنٹی مرحلے میں دو سنسنی خیز مقابلوں کے بعد جب مضبوط گڑھ ڈھاکہ میں ابتدائی ایک روزہ مقابلے میں بھی گرفت مضبوط کی لیکن اس نے ایک اور سنہرا موقع گنوا دیا۔ صرف 67 رنز پر سری لنکا کی 8 وکٹیں حاصل کرنے کے بعد اسے 180 رنز بنانے دیے اور پھر ہدف کے تعاقب میں صرف دو وکٹوں کے نقصان پر 114 رنز بنا لینے کے بعد صرف 53 رنز کے اضافے پر 8 وکٹیں کھو کر سری لنکا 13 رنز کی فتح تھالی میں رکھ کر پیش کردی۔

تین رن آؤٹس نے بنگلہ دیش کی پیشقدمی کو سخت نقصان پہنچایا اور بالآخر شکست سے ہمکنار کیا (تصویر: AFP)

تین رن آؤٹس نے بنگلہ دیش کی پیشقدمی کو سخت نقصان پہنچایا اور بالآخر شکست سے ہمکنار کیا (تصویر: AFP)

شیر بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم میں ہونے والے پہلے ایک روزہ میں بنگلہ دیش نےٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا اور پھر اس پوزیشن پر پہنچ گیا جہاں سے شاید دنیا کی کسی ٹیم کو نہیں ہارنا چاہیے۔ صرف 67 رنز پر سری لنکا کی آٹھ وکٹیں گر چکی تھیں۔ سری لنکا کی حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تلکارتنے دلشان، کمار سنگاکارا اور اینجلو میتھیوز جیسے جانے مانے بلے باز دہرے ہندسے میں بھی نہ پہنچ سکے اور محض 22 ویں اوور میں ایک ذلت آمیز شکست کا خطرہ سری لنکا کے سر پر منڈلا رہا تھا۔

اس مرحلے پر تھیسارا پیریرا نے اپنی اہمیت کو ثابت کیا۔ "جارح مزاجی بہترین دفاع ہے" کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے پیریرا نے سچیتھرا سینانائیکے کے ساتھ مل کر اننگز کو زیادہ سے زیادہ آگے تک لے جانے کی کوشش شروع کی اور اس میں کامیاب بھی رہے۔ سینانائیکے کے ساتھ مل کر انہوں نے نویں وکٹ پر 82 قیمتی بلکہ فیصلہ کن رنز جوڑے جس میں سینانائیکے کا حصہ 30 رنز کا تھا جبکہ آخری وکٹ پر لاستھ مالنگا کے ساتھ مل کر بھی انہوں نے 31 رنز کا اضافہ کیا۔ مزیدار بات یہ ہے کہ اس میں مالنگا کا حصہ صفر تھا۔ پیریرا صرف 57 گیندوں پر 80 رنز کی شاندار و ناقابل شکست اننگز تراشنے کے بعد ناقابل شکست میدان سے لوٹے۔ ان کی اس اننگز میں 6 بلند و بالا چھکے اور 4 چوکے شامل تھے۔

سری لنکا کی اننگز 180 رنز پر تمام ہوئی تو پورے 10 اوورز کا کھیل باقی تھا، اس لیے ایک لحاظ سے پیریرا کو مایوسی ضرور تھی لیکن کم از کم اتنا اطمینان ضرور تھا کہ انہوں نے تباہی سے بچانے میں حتی المقدور اپنا حصہ ڈالا ہے اور معاملے کو باؤلرز کے ہاتھ میں دے دیاہے۔

محض 181 رنز کا ہدف اور اپنے میدانوں پر بلے بازی کی بہترین مشق ہونے کی وجہ سے بنگلہ دیش اب بھی فیورٹ تھا۔ پہلے اوور میں وکٹ گنوا بیٹھنے کے باوجود 114 رنز کے مجموعے تک اس کے محض دو کھلاڑی ہی آؤٹ تھے یعنی فتح سے محض 67 رنز کافاصلہ اور آٹھ وکٹیں باقی۔ شمس الرحمٰن دوسری وکٹ پر مومن الحق کے ساتھ مل کر 79 رنز کا اضافہ کرچکے تھے لیکن اننگز کے 20 ویں اوور میں یہ شمس الرحمٰن کا ہی رن آؤٹ تھا جس نے مقابلے کا جھکاؤ سری لنکا کی طرف کرنا شروع کردیا۔ دوسرے رن دوڑتے ہوئے شمس کا بلّا کریز تک پہنچنے سے پہلے ہی زمین میں دھنس گیا، اور وہ کریز میں داخل ہونے کے باوجود فضا میں بلند ہونے کی وجہ سے آؤٹ قرار دیے گئے۔ 62 رنز کے ساتھ مسلسل دوسری ون ڈے سنچری اس نوجوان کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت تھی لیکن بدقسمتی یہ تھی کہ اس کے پلٹنے ہی بنگلہ دیش ہدف کی جانب پیشقدمی کا راستہ ہی بھول چکا ہے۔

تین رنز فی اوور سے بھی کم کا درکار اوسط اور شکیب الحسن، ناصر حسین، محمود اللہ اور مشفق الرحیم جیسے بلے بازوں کی موجودگی، جو ایسی صورتحال کا درجنوں مرتبہ سامنا کر چکے ہیں اور کئی مرتبہ ٹیم کو منزل تک بھی پہنچایا ہے۔ بنگلہ دیش کو اور کیا چاہیے تھا؟ آگے بڑھتا اور فتح حاصل کرلیتا لیکن نتیجہ نکلا، 40 ویں اوور میں 167 رنز پر پوری ٹیم ڈھیر اور سری لنکا کو 13 رنز کی فتح۔ شکیب رن آؤٹ، ناصر حسین پہلی سلپ میں اور محمود اللہ شارٹ لیگ پر کیچ دے کر کپتان مشفق کو اکیلا چھوڑ گئے جو سہاگ غازی اور عرفات سنی کو گنوانے کے بعد خو دبھی ہم منصب میتھیوز کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ تھما گئے اور چالیسویں اوور میں روبیل حسین کے رن آؤٹ کے ساتھ قصہ تمام ہوگیا۔

سری لنکا کی جانب سے کپتان اینجلو میتھیوز نے 3، سینانائیکے نے 2 جبکہ مالنگا اور پیریرا نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔ تین کھلاڑی رن آؤٹ ہوئے۔

اس شاندار کارکردگی پر تھیسارا پیریرا کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ تین ایک روزہ مقابلوں کی سیریز میں اب سری لنکا کی برتری ایک-صفر ہے اور 20 فروری کو اسی مقام پر ہونے والے دوسرے مقابلے میں ایک اور فتح اسے سیریز جتوا دے گی۔

Facebook Comments