ڈار تلے اندھیرا!!

آج سے ایک دہائی قبل سرزمین پاک سے امپائرنگ کے شعبے میں ’’مشہور‘‘ نام صرف ایک تھا، شکور رانا۔ جن کا انگلش کپتان مائیک گیٹنگ کے ساتھ جھگڑا ٹیسٹ کرکٹ تاریخ کے بدترین واقعات میں شمار ہوتا ہے لیکن امپائرنگ ہی میں جنہوں نے وطن عزیز کا نام روشن کیا وہ علیم ڈار ہیں۔ اس میدان میں اگر پاکستان کو حقیقی شہرت ملی ہے تو وہ علیم ڈار ہی کے دم سے ملی۔ ماضی میں گرچہ محبوب شاہ اور خضر حیات جیسے امپائر گزرے ہیں لیکن عالمی سطح پر انہیں وہ عزت اور نام نہ مل سکا جو علیم ڈار کو اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے بل بوتے پر حاصل ہوا۔ یہ پاکستان کی خوش قسمتی رہی کہ اسے علیم ڈار کے ہوتے ہوئے اسد رؤف جیسا امپائر بھی میسر آیا اور دونوں نے فیصلہ سازی کے اہم شعبے میں احترام حاصل کیا اور اپنی بے نقص صلاحیتوں کی وجہ سے اہم ترین مقابلوں میں مقرر ہونے لگے۔

علیم ڈار کے بعد پاکستان میں امپائرنگ کا معیار اتنا بہتر نہیں دکھائی دیتا (تصویر: BCCI)

علیم ڈار کے بعد پاکستان میں امپائرنگ کا معیار اتنا بہتر نہیں دکھائی دیتا (تصویر: BCCI)

لیکن علیم ڈار کے بعد پاکستان میں امپائرنگ کا معیار اتنا بہتر نہیں دکھائی دیتا اور اس بارے میں خود علیم ڈار متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ امپائروں کو سنٹرل کانٹریکٹ دے کر انہیں معاشی طور پر مستحکم کرنے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ فرائض انجام دے سکیں اور ساتھ ساتھ ڈومیسٹک کرکٹ کے مقابلے بھی براہ راست نشر کیے جائیں تاکہ امپائروں کے معیار کا بھی پتہ چلتا رہے۔

پاکستان میں فرسٹ کلاس ٹورنامنٹس کے فائنل کے علاوہ صرف ٹی ٹوئنٹی کپ ہی ایسا ایونٹ ہے جس کے مقابلے براہ راست نشر ہوتے ہيں اور اس ایونٹ میں امپائروں کی غلطیاں بھی نمایاں ہوکر سامنےآتی ہیں۔ گزشتہ دنوں راولپنڈی میں کھیلے گئے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کے فائنل میں سابق فرسٹ کلاس کھلاڑی اور امپائر کمال مرچنٹ غلطیاں کرتے دکھائی دیے اور غالباً اپنے کیریئر کے پہلے ٹی ٹوئنٹی فائنل کا دباؤ برداشت کرنے سے قاصر تھے۔ کمال مرچنٹ کو اپنے فیصلوں پر قائم رہنے میں بھی دشواری محسوس ہوئی اور اس اہم مقابلے میں انہوں نے جو ’’کمال‘‘ کیے، اس سے شائقین ضرور بے مزہ ہوئے۔ قبل ازیں کراچی میں کھیلے گئے ٹی ٹوئنٹی کپ میں امپائر ساجد آفریدی سے بھی کچھ غلطیاں ہوئیں جبکہ عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے والے شوزب رضا اور ضمیر حیدر بھی اس قابل نہیں کہ آنے والے دنوں میں علیم ڈار کی جگہ سنبھال سکیں۔ ان دونوں میں صلاحیت کی کمی اور اعتماد کا فقدان دکھائی دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بڑے مقابلوں میں یہ امپائر ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں جو مدتوں یاد رکھی جاتی ہیں۔

اسد رؤف کےکیریئر کا تو خاتمہ ہو چکا ہے، جو انتہائی افسوسناک انداز میں ہوا جبکہ علیم ڈار بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ زیادہ لمبے عرصے تک امپائرنگ جاری نہيں رکھیں گے۔ اس لیے ممکن ہے کہ وہ اگلے سال عالمی کپ کے بعد امپائرنگ کو خیرباد کہہ کر اپنی اکیڈمی میں مصروف عمل ہوجائیں۔ علیم ڈار کے بعد امپائرنگ کے شعبے میں پاکستان کا علم کون بلند کرے گا؟ یہ بہت بڑا سوال ہے۔
فی الوقت نوجوان احسن رضا ہی ایسے امپائر نظر آ رہے ہیں جو کسی حد تک پراعتماد بھی ہیں اور قوانین سے مکمل طور پر آگہی بھی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ہر بڑے ایونٹ کے فائنل کے لیے احسن رضا کی صلاحیتوں پر اعتماد کرتا ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ دوسرے اینڈ پر احسن جیسا امپائر موجود نہیں ہوتا۔ 2010ء میں احسن رضا کو پہلی مرتبہ کسی ٹیسٹ مقابلے میں ٹی وی امپائر بننے کا موقع ملا لیکن گزشتہ چار سالوں میں احسن رضا کو بطور ٹی وی امپائر صرف تین ٹیسٹ مقابلے ملے ہیں۔ احسن نے 13 ایک روزہ اور اتنے ہی ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں امپائرنگ بھی کی لیکن انہیں متحدہ عرب امارات سے باہر کسی بین الاقوامی مقابلے میں خدمات پیش کرنے کا موقع نہيں ملا۔

2009ء میں لاہور میں سری لنکن ٹیم پر ہونے والے نتیجے میں معجزانہ طور پر نئی زندگی پانے والے احسن رضا نوجوان بھی ہیں اور باصلاحیت بھی، انہیں قدر نے شاید اسی لیے ’’ناٹ آؤٹ‘‘ قرار دیا تھا کہ وہ اپنے ملک کے لیے کوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکیں۔ اس لیے پی سی بی کو احسن رضا کی مکمل سپورٹ کرنی چاہیے کیونکہ احسن کی صورت میں روشن کی واحد کرن یہی دکھائی دے رہی ہے، ورنہ علیم ڈار کے بعد پاکستانی امپائرنگ کے میدان بہت اندھیرا دکھائی دے رہا ہے!

Facebook Comments