کچھ ’’گڑ بڑ‘‘ تو ہوئی ہے!!

دور جدید میں کرکٹ مقابلوں کی براہ راست نشریات کی وجہ سے کھلاڑیوں کی کوئی ’’حرکت‘‘ اب کیمروں کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں رہتی۔یہی وجہ ہےکہ میچ فکسنگ اور فینسی فکسنگ کے معاملات بھی اسی دور میں منظرعام پر آئے ورنہ ماضی میں بھی ایسی حرکتیں ہوتی رہی ہوں گی۔ چند روز قبل پاکستان میں کھیلے گئے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ میں سیالکوٹ اسٹالینز اور کراچی ڈولفنز کی ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے مقابلے کے بارے میں سابق ٹیسٹ کھلاڑی باسط علی نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور سیالکوٹ پر میچ فکس کرنے کا الزام عائد کیا جس نے قومی منظرنامے پر خاصی ہلچل مچائی۔ سیالکوٹ نے اس الزام کی سختی سے تردید کی اور باسط علی کے خلاف بطور احتجاج کوارٹر فائنل بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر کھیلا۔

پی سی بی کا اچانک تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنا کئی سوالات جنم دے رہا ہے (تصویر: Getty Images)

پی سی بی کا اچانک تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنا کئی سوالات جنم دے رہا ہے (تصویر: Getty Images)

اس پورے تنازع میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا ابتدائی کردار محض تین سطروں کی پریس ریلیز تک محدود رہا جس میں صرف یہ کہا گیا کہ پی سی بی کا اینٹی کرپشن یونٹ تمام ڈومیسٹک مقابلوں پر نظر رکھتا ہے اور اب اس معاملے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں ہوگا۔ لیکن اپنے تئیں نظرانداز کیے گئے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے گزشتہ روز ایک سہ رکنی کمیٹی بھی تشکیل دے دی جو جنرل مینیجر ڈومیسٹک کرکٹ شفیق پاپا، اینٹی کرپشن اینڈ سیکورٹی کے سینئر مینیجر وسیم احمد شاہد اور سابق ٹیسٹ کرکٹر علی نقوی پر مشتمل ہے۔ یہ کمیٹی ایک ہفتے میں اپنی تحقیقات سے پی سی بی کو آگاہ کرے گی اور سفارشات پیش کرے گی۔

سیالکوٹ اور کراچی کے اس مقابلے کے بارے میں تحقیقاتی کمیٹی کا فیصلہ کیا ہوگا؟ اس بارے میں تو فی الوقت کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن ڈومیسٹک سرکٹ میں فکسنگ کوئی نئی بات نہیں۔ جہاں میچ فکسنگ میں پیسے سے زیادہ ’’بھائی چارہ‘‘ کا کام ہوتا ہے اور ایسے مقابلوں کو اصطلاحاً ’’نورا‘‘ میچز کہا جاتا ہے۔ ماضی میں ایسے واقعات کی بھنک بھی پڑی کہ قائد اعظم ٹرافی کے آخری راؤنڈ میں تنزلی سے بچنے کے لیے ٹیم مخالف سے مدد طلب کی، جس کی پوزیشن پر شکست سے کوئی اثر نہ پڑتا۔ اسی طرح ایک ٹیم کا راستہ روکنے کے لیے دو ٹیموں کا نورا میچ کھیلنا بھی سننے میں آیا۔

جہاں تک سیالکوٹ اسٹالینز کی بات ہے تو شعیب ملک کے کیریئر پر یہ دھبہ پہلے بھی لگ چکا ہے جب انہوں نے اولین ٹی ٹوئنٹی کپ میں لاہور ایگلز کا راستہ روکنے کے لیے جان بوجھ کر کراچی زیبراز کے خلاف مقابلے میں شکست کھائی تھی اور اس جرم کی پاداش میں شعیب ملک کو سزا کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔ اب 9 برس بعد شعیب ہی کی کپتانی میں سیالکوٹ کو ایک مرتبہ پر الزام کا سامنا ہے اور یہ الزامات بھی کسی اور نے نہیں باسط علی نے لگائے ہیں، جنہوں نے ماضی میں میچ فکسنگ کی نشاندہی کرتے ہوئے اپنے بین الاقوامی کیریئر کو داؤ پر لگادیا تھا۔

اب اس مقابلے کا دلچسپ پہلو دیکھیں کہ سیالکوٹ کو زیر کرنے کے باوجود کراچی کی ٹیم ٹورنامنٹ کے کوارٹر فائنل مرحلے تک نہیں پہنچ سکی کیونکہ کراچی ڈولفنز کے پوائنٹس کی تعداد فتح کے بعد بھی لاڑکانہ بلز کے برابر پہنچی تھی۔ گوکہ کراچی کو رن ریٹ کی بنیاد پر برتری حاصل ہوئی لیکن ٹورنامنٹ قوانین کے مطابق دو ٹیموں کے پوائنٹس برابر ہونے کی صورت میں ان دونوں کے باہمی مقابلے کونتیجے کو فوقیت دی جائے گی اور کیونکہ لاڑکانہ نے اپنے میچ میں کراچی کو شکست دی تھی اس لیے لاڑکانہ بلز کی ٹیم کوارٹر فائنل میں پہنچ گئی۔ اس لیے یہ جواز تو غلط ثابت ہوتا ہے کہ سیالکوٹ نے یہ مقابلہ فکس کرکے کراچی کو اگلے مرحلے تک رسائی دلوانے کی کوشش کی۔ گو کہ کراچی کے ہاتھوں سیالکوٹ کی شکست کے بد ایک معروف اردو اخبار نے یہ خبر شایع بھی کردی تھی کہ کراچی نے کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرلی۔ لیکن ممکن ہے کہ ٹورنامنٹ میں شریک ٹیموں کو اس قانون کا علم نہ ہو کیونکہ یہاں تو پاکستان کے کپتانوں کو بھی کئی قوانین کا علم نہیں ہوتا۔ جیسا کہ 2007ء کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بھارت کے خلاف بال آؤٹ کی مثال ہے۔ اس لیے ممکن ہےکہ سیالکوٹ اور کراچی کی ٹیموں نے اسی مقصد کے تحت ’’نورا‘‘ میچ کھیلا ہو تاکہ کراچی اگلے مرحلے تک پہنچ سکے۔

ابتدائی طور پر تو تو پی سی بی نے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا لیکن اب تحقیقاتی کمیٹی کا قیام ظاہر کرتا ہے کہ کچھ نہ کچھ گڑبڑ تو ضرور ہوئی ہے اور باسط علی جیسا کھلاڑی کسی پر بلاوجہ الزام نہیں لگا سکتا۔ پھر سیالکوٹ جیسی مضبوط بیٹنگ لائن کا 91 رنز پر ڈھیر ہوجانا بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس کے علاوہ گردن کی تکلیف کے باوجود بلاول بھٹی کی شرکت بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔ علاوہ ازیں کوارٹر فائنل میں اسلام آباد کے ہاتھوں ہار بھی شکوک و شبہات کو جنم لیتی ہے جو میرے خیال میں یہ تاثر دینے کی کوشش تھی کہ سیالکوٹ کی کارکردگی خراب ہوچکی ہے اور کراچی سے ہارنے کے بعد اسلام آباد کی ناتجربہ کار ٹیم سے بھی زیر ہوگئی۔ جبکہ ٹورنامنٹ سے قبل ہمیشہ کی طرح سیالکوٹ قومی اعزاز جیتنے کے لیے فیورٹ تھا۔

اب پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹی کا قیام بھی ظاہر کرتا ہے کہ اس مقابلے میں کچھ گڑبڑ ضرور ہوئی تھی اور امید ہے کہ چند روز میں کمیٹی اصل حقائق کو سامنے لے آئے گی۔ علاوہ ازیں لاہور لائنز اور ایبٹ آباد فیلکنز کے مقابلے کی بھی تحقیق ہونی چاہیے جس میں ایبٹ آباد نے لاہور کو صرف دو رنز سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنائی کیونکہ شکست کی صورت میں لاہور کے ساتھ ڈیرہ مراد جمالی کو کوارٹر فائنل کھیلنے کا موقع ملتا۔

Facebook Comments