بنگلہ دیش گزشتہ ایشیا کپ کی تاریخ دہرانے میں ناکام، بھارت باآسانی فتحیاب

بنگلہ دیش گزشتہ ایشیا کپ میں حاصل کردہ تاریخی فتوحات کا سلسلہ برقرار نہ رکھ سکا اور بھارت کے خلاف ٹورنامنٹ کا پہلا مقابلہ ہی 6 وکٹوں سے ہار گیا۔ یوں کپتان مشفق الرحیم کی سنچری اور اوپنر انعام الحق کی 77 رنز کی دلیرانہ اننگز رائیگاں گئی جبکہ بھارتی ہم منصب ویراٹ کوہلی کی سنچری اور اجنکیا راہانے کے ساتھ طویل رفاقت بھارت کی فتح کے لیے کافی ثابت ہوئی۔

ویراٹ نے مختصر ایک روزہ کیریئر میں 19 ویں سنچری اسکور کی (تصویر: AFP)

ویراٹ نے مختصر ایک روزہ کیریئر میں 19 ویں سنچری اسکور کی (تصویر: AFP)

بنگلہ دیش کی شکست کی اہم وجہ اس کے باؤلرز کے ساتھ ساتھ بلے بازوں کی نااہلی بھی تھی کیونکہ مشفق اور انعام کے علاوہ کوئی بلے باز 23 رنز سے آگے نہ جا سکا اور 50 اوورز میں ٹیم 279 رنز ہی جوڑ پائی جو بھارت جیسی مضبوط بیٹنگ لائن کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل ثابت ہوا۔

280 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بھارت کے اوپنرز شیکھر دھاون اور روہیت شرما نے 50 رنز کا سست آغاز فراہم کیا لیکن دو مسلسل اوورز میں اوپنرز کے آؤٹ ہونے کے بعد بھارت کو منزل تک پہنچانے کا کارنامہ کوہلی اور راہانے نے انجام دیا۔ دونوں نے تیسری وکٹ پر ریکارڈ 213 رنز جوڑ کر بنگلہ دیش کی تمام تر امیدوں کو خاک میں ملا دیا۔ ویراٹ کوہلی نے اپنے 131 ایک روزہ مقابلوں کے مختصر کیریئر میں 19 ویں سنچری داغی اور ظاہر کیا کہ کرکٹ کے کئی ریکارڈز مستقبل میں ان کے قدموں تلے ہوں گے۔ اس سنچری کے ساتھ ہی وہ عظیم برائن لارا کے برابر پہنچ چکے ہیں جنہوں نے اپنے کیریئر میں 19 سنچریاں بنائی تھیں۔ کوہلی، جو ایشیا کپ میں قیادت کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں، اس وقت آؤٹ ہوئے جب بھارت فتح سے محض 13 رنز کے فاصلے پر تھا۔ دوسرے اینڈ سے راہانے اپنی چوتھی ایک روزہ نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد کوہلی کے جانے کے کچھ دیر بعد اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔ انہوں نے 83 گیندوں پر 71 رنز بنائے۔ ویراٹ کوہلی نے 122 گیندوں پر دو چھکوں اور 16 چوکوں سے مزین 136 رنز کی شاندار باری کھیلی اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

بنگلہ دیش نے ہدف کے دفاع کے لیے 8 باؤلرز آزمائے لیکن کوئی باؤلر حریف بلے بازوں کو نہ روک پایا۔ ایک، ایک وکٹ روبیل حسین، عبد الرزاق، ضیاء الرحمٰن اور سہاگ غازی نے حاصل کی۔

قبل ازیں بنگلہ دیش نے بھارت کی دعوت پر بیٹنگ کا آغاز کیا تو 50 رنز تک پہنچنے سے قبل ہی وہ دو بلے بازوں سے محروم ہو چکا تھا۔ اس موقع پر کپتان مشفق الرحیم اور وکٹ کیپر انعام الحق کے درمیان 133 رنز کی شراکت داری نے بنگلہ دیش کو بہترین پلیٹ فارم مہیا کیا۔ انعام 106 گيندوں پر 77 رنز کی بہترین باری کھیلنے کے بعد آؤٹ ہوئے جس میں 3 چھکے اور 5 چوکے بھی شامل تھے۔ دوسرے اینڈ سے مشفق نے ایک روزہ کیریئر کی دوسری سنچری 104 گیندوں پر مکمل کی اور آؤٹ ہونے والے آخری بیٹسمین بنے ۔ انہوں نے 117 رنز بنائے لیکن انعام کے بعد دوسرے اینڈ سے انہیں کوئی بلے باز اچھا ساتھ فراہم نہ کرسکا اور مقررہ 50 اوورز کے اختتام تک بنگلہ دیش 279 رنز ہی بنا پایا۔

بھارت کی جانب سے محمد شامی نے 50 رنز دے کر 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جس میں شمس، مشفق، نعیم اسلام اور ناصر حسین کی قیمتی وکٹیں شامل رہیں۔ ان کےعلاوہ بھوونیشور کمار، ورون آرون اور روی چندر آشون نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔ آرون اس لیے بری طرح ناکام رہے کہ ان کے 7.5 اوورز میں بنگلہ دیش نے 74 رنز سمیٹے۔

ٹورنامنٹ میں کامیاب آغاز کے بعد مہندر سنگھ دھونی کی جگہ کپتانی کرنے والے ویراٹ کوہلی بہت خوش ہوں گے کیونکہ اس کامیابی میں ان کا حصہ سب سے نمایاں رہا۔ اب ان کی نظریں پاکستان اور سری لنکا جیسے سخت حریفوں کے خلاف مقابلے پر مرکوز ہوں گی۔

ایشیا کپ میں اگلا مقابلہ کل پاکستان اور افغانستان کے درمیان کھیلا جائے گا جو پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق دوپہر 1 بجے شروع ہوگا۔

Facebook Comments