’’چڑیا‘‘ نے کیا عقابوں کا شکار!!

راشد لطیف کے چیف سلیکٹر بننے کے ایک حلقے کو بہت خوشی ہوئی کہ طویل عرصے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ میں ایک ایسے شخص سلیکشن کمیٹی کی سربراہی سونپی گئی ہے جو میرٹ پر فیصلے کرنے کی شہرت رکھتا ہے۔ راشد لطیف کا ماضي اور حال ایسا ہے کہ ان سے یہ امید رکھی جاسکتی ہے کہ وہ اہلیت کی بنیاد پر فیصلے کریں گے مگر قومی ٹیم کا انتخاب کرتے ہوئے وہ اس کا کتنا خیال رکھیں گے، اس کا اندازہ اسی وقت ہوگا جب وہ پہلی ٹیم منتخب کریں گے۔

یہ نجم سیٹھی کی ’’چڑیا‘‘ کا ہی کمال ہے جس نے بڑے بڑے شِکروں کو شکار کرلیا ہے (تصویر: AFP)

یہ نجم سیٹھی کی ’’چڑیا‘‘ کا ہی کمال ہے جس نے بڑے بڑے شِکروں کو شکار کرلیا ہے (تصویر: AFP)

پیشہ ورانہ کرکٹ میں راشد لطیف کے رقیب اور میدان سے باہر قریبی دوست معین خان نے اپنے سابق ساتھی کو یہ عہدہ سنبھالنے پر راضی کیا جو خود بھی دو ماہ کے لیے پاکستان کے ہیڈ کوچ کے عہدے پر فائز ہیں۔ یہ بھی کتنا مضحکہ خیز فیصلہ ہے کہ قومی ٹیم کی کوچنگ کے لیے معین خان کو تو صرف دو ماہ کے لیے مقرر کیا گیا ہے لیکن راشد لطیف کو طویل عرصے کے لیے سلیکشن کمیٹی کا ’’مختار کل‘‘ بنا دیا گیا ہے۔ جن کی منصوبہ بندی کا محور اب اگلے سال ہونے والا عالمی کپ ہوگا۔ وہ کم از کم چھ ماہ تک مفت کی تنخواہ لینے کے بعد عالمی کپ کے لیے منصوبہ بندی کریں گے کیونکہ اگلے ماہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد اکتوبر تک پاکستانی ٹیم مکمل فارغ رہے گی (الا یہ کہ کوئی سیریز طے کرلی جائی) اور راشد لطیف اس عرصے میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے۔ یہ عہدہ سنبھالنے سے پہلے وہ پورٹ قاسم کی کوچنگ کررہے تھے اور ڈومیسٹک کرکٹ میں کافی سرگرم رہنے کی وجہ سے وہ قومی ٹیم کے انتخاب کے وقت ان کی نظریں لازمی پورٹ قاسم کے کھلاڑیوں پر بھی پڑیں گی لیکن دانستہ یا نادانستہ طور پر شاہزیب حسن، خالد لطیف اور محمد سمیع جیسے کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا تو یقیناًراشد لطیف کی دیانتداری پر سوال بھی اٹھے گا۔ بہرحال، ہنوز دلی دور است۔

تازہ اطلاع یہ ہے کہ راشد کے ایک اور قریبی دوست باسط علی بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کی چھتری تلے آ گئے ہیں اور کراچی کی ریجنل اکیڈمی کے انچارج کی حیثیت سے وہ کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ اور ڈیرہ مراد جمالی میں باصلاحیت کھلاڑیوں کی تلاش کے ساتھ ساتھ اسکول اور کلب کی سطح پر کرکٹ بھی دیکھیں گے۔ باسط علی اپنے بے باک تبصروں میں بورڈ کی پالیسیوں کو لتاڑتے رہیں ہے اور ’’چڑیا‘‘ کے پر کترنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا لیکن چیئرمین پی سی بی بھی ’’چڑیا‘‘ کے ساتھ رہ رہ کر بہت تاک ہوگئے ہیں اور اڑتی چڑیا کے پر گن لینے کی صلاحیت کے ذریعے انہوں نے تمام ’’ شکاری عقابوں ‘‘ کو اپنے ’’ گھونسلے ‘‘ میں لا بٹھا دیا ہے۔ اب یہ تمام ’’ عقاب ‘‘ بورڈ میں بیٹھ کر پی سی بی کے ’’انڈوں‘‘ کو سینچیں گے، جن سے جیسے بھی ’’چوزے‘‘ نکلے، اس کے ذمہ دار یہی ’’عقاب‘‘ ٹھہریں گے۔ یہ وہی باسط علی ہیں جنہوں نے چند روز قبل ہی قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کے ایک مقابلے کے بارے میں الزام لگایا تھا کہ یہ میچ فکس تھا۔ اب پاکستان کرکٹ بورڈ کی تحقیقاتی کمیٹی نے عدم ثبوت کی بنیاد پر باسط علی کا الزام رد کردیا۔ اگر ان کا یہ الزام غلط تھا تو پھر سابق کھلاڑی کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے بجائے انہیں انعام سے کیوں نوازا جا رہا ہے؟

نجم سیٹھی اس مرتبہ طویل المدت منصوبہ بندی اور زیادہ بہتر تیاری کے ساتھ پی سی بی کے ایوانوں میں آئے ہیں اور اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے انہیں نے تمام طے شدہ چالیں چلنا شروع کردی ہيں۔ اور یہ نجم سیٹھی کی ’’چڑیا‘‘ کا ہی کمال ہے جس نے بڑے بڑے شِکروں کو شکار کرلیا ہے!!

Facebook Comments