[آج کا دن] سرزمین جنوبی افریقہ پر پاکستان کی اولین ٹیسٹ فتح

اگر سوال کیا جائے کہ کرکٹ تاریخ میں پاکستان کا مشکل ترین حریف کون رہا ہے؟ تو فوری طور پر ذہن آسٹریلیا، انگلستان یا بھارت کی طرف جاتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے، یہ "اعزاز" جنوبی افریقہ کو حاصل ہے جس کے خلاف پاکستان ٹیسٹ تاریخ میں آج تک صرف چار فتوحات حاصل کر پایا ہے۔ 23 مقابلوں میں محض 4 فتوحات اور 12 شکستیں! اعدادوشمار ہی سے ظاہر ہے کہ پاکستان کو پروٹیز کے خلاف کتنی خفت اٹھانی پڑی ہے۔

جب جنوبی افریقہ 1970ء میں نسل پرستانہ پالیسیوں کی وجہ سے بین الاقوامی کرکٹ سے نکالا گیا تھا تو وہ ایک ننھی سی قوت تھی لیکن جب 1991ء میں واپس آیا تو اس طمطراق سے کہ آتے ہی دنیا کی بہترین ٹیموں میں شمار ہونے لگا۔ پاکستان سمیت اپنے وقت کی کوئی عالمی کرکٹ قوت ایسی نہ تھی جو جنوبی افریقہ کے سامنے ٹک پاتی ہو۔ کیپلر ویسلز اور پھر ہنسی کرونیے کی جراتمندانہ قیادت نے پروٹیز دستے کو اپنے وقت کی سب سے بڑی کرکٹ طاقت بنا دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو جنوبی افریقہ کے خلاف پہلا ٹیسٹ جیتنے کے لیے سات سال کا طویل انتظار کرنا پڑا جب 1998ء میں آج ہی کے دن یعنی 2 مارچ کو کنگزمیڈ، ڈربن میں ایک شاندار مقابلے کے بعد عامر سہیل کی زیر قیادت پاکستان نے محض 29 رنز کی تاریخی فتح حاصل کی۔

پاکستان 1998ء میں پہلی بار مکمل ٹیسٹ سیریز کھیلنے کے لیے جنوبی افریقہ پہنچا۔ اس سے قبل پاکستان نے صرف ایک بار 1995ء میں دورۂ جنوبی افریقہ کیا تھا لیکن اس میں بھی محض ایک ٹیسٹ میچ کھیلا گیا تھا لیکن اس مرتبہ تین ٹیسٹ مقابلوں کی سیریز پاکستان کی منتظر تھی جس کا پہلا مقابلہ جوہانسبرگ میں نتیجہ خیز ثابت نہ ہوا۔

پاکستان اس دورے سے محض چار ماہ قبل اپنے ہی میدانوں میں جنوبی افریقہ سے بدترین شکست کھا چکا تھا۔ فیصل آباد میں فیصلہ کن ٹیسٹ میں 146 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پوری ٹیم صرف 92 رنز پر آؤٹ ہوگئی تھی اور جنوبی افریقہ ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ سیریز بھی لے اڑا۔

اب پاکستان کے پاس 'بدلہ' لینے کا موقع تو تھا لیکن جنوبی افریقہ کو اس کے میدانوں میں ہرانا ایسا تھا جیسا کہ شیر کے جبڑوں سے شکار چھیننا۔ اس کا اندازہ پاکستان کو کنگزمیڈ میں بیٹنگ کی دعوت ملنے کے بعد ہی ہوگیا، جب وہ 153 رنز پر اپنے 8 کھلاڑیوں سے محروم ہوگیا۔ اس موقع پر جنوبی افریقہ کے 'ازلی دشمن' اظہر محمود نے ایک مرتبہ پھر اپنی آل راؤنڈ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور بقیہ دو وکٹوں کے ساتھ مل کر اسکور میں 106 رنز کا اضافہ کیا۔ اظہر محمود غالب ہوتے ہوئے جنوبی افریقی باؤلرز کے سامنے کس طرح تن تنہا لڑتے رہے اس کا اندازہ نویں وکٹ پر 80 رنز کی شراکت داری سے ہوتا ہے، جس میں شعیب اختر کا حصہ محض 4 رنز کا تھا۔ بہرحال، 163 گیندوں پر 132 رنز کی شاندار اننگز مکمل ہونے کے ساتھ پاکستان کی پہلی باری بھی 259 رنز پر تمام ہوئی جو ابتدائی حالت کو دیکھتے ہوئے کافی حوصلہ افزا مجموعہ تھا۔ اظہر محمود کو واقعی جنوبی افریقہ سے خدا واسطے کا بیر تھا، یہ پروٹیز کے خلاف چھ ٹیسٹ مقابلوں میں اظہر کی تیسری سنچری تھی جو بعد ازاں ٹیم کی فتح کے فیصلہ کن عناصر میں سے ایک ثابت ہوئی۔

جواب میں جنوبی افریقہ 32 رنز پر اوپنرز سے محروم ہونے کے بعد ژاک کیلس اور ایچ ڈی ایکرمین کی بدولت 115 رنز تک پہنچ گیا۔ اب اپنا پہلا غیر ملکی دورہ کرنے والے شعیب اختر کی باری تھی جنہوں نے مسلسل دو گیندوں پر کیلس اور اینڈریو ہڈسن کو ٹھکانے لگا دیا۔ دوسرے اینڈ سے ہنسی کرونیے اور ایچ ڈی ایکرمین کے مشتاق احمد کے ہتھے چڑھ جانے کے بعد شعیب نے مارک باؤچر، لانس کلوزنر اور فانی ڈی ولیئرز کو میدان بدر کرکے جنوبی افریقہ کو لب گور تک پہنچا دیا۔ 178 رنز پر 9 وکٹیں گنوانے کے بعد شان پولاک نے آخری وکٹ پر ایلن ڈونلڈ کے ساتھ 53 رنز جوڑے اور اسکو رکو 231 رنز تک پہنچا دیا اور خسارے کو حتی الامکان حد تک کم کردیا۔ شان پولاک 70 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے جبکہ شعیب اختر نے 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

28 رنز کی برتری کے ساتھ پاکستان نے دوسری اننگز کا پراعتماد آغاز کیا اور اوپنرز عامر سہیل اور سعید انور کی 101 رنز کی شراکت داری نے حوصلوں کو آسمان تک پہنچا دیا۔ یعنی بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے 129 رنز کی برتری! لیکن یہی حد سے زیادہ خود اعتمادی پاکستان کو لے ڈوبی۔ 159 کے مجموعے پر جب اعجاز احمد ڈی ولیئرز کے ہاتھوں کلین بولڈ ہوئے تو آنے والے بلے بازوں نے پویلین کے راستے کو آباد کر ڈالا۔ چند ماہ قبل فیصل آباد میں پاکستان پر فیصلہ کن ضربیں لگانے والے شان پولاک یہاں ایک مرتبہ پھر قہر بن کر ٹوٹے اور پاکستان صرف 67 رنز کے اضافے سے اپنی آخری 9 وکٹوں سے محروم ہوگیا اور پوری ٹیم صرف 226 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔

یہ تو ہی جگہ ہے، گزرے تھے ہم جہاں سے! 'فیصل آباد کا بھوت' ایک مرتبہ پھر پاکستان کو ڈرانے لگا۔ جنوبی افریقہ کو 255 رنز کا ایسا ہدف ملا، جو میزبان کی توقعات سے کہیں کم تھا۔

اب ایک مرتبہ پھر پاکستان کا تمام تر انحصار باؤلرز پر تھا۔ جن میں سے فضل اکبر نے دوسری اننگز میں بھی پاکستان کے لیے کامیابیوں کا دروازہ کھولا اور پھر مشتاق احمد نے اپنے کیریئر کی یادگار ترین باؤلنگ کروائی۔ پانچ سرفہرست بلے بازوں کو ٹھکانے لگا کر پاکستان کو اس پوزیشن تک پہنچا دیا کہ جیت کی خوشبو اسے صاف محسوس ہورہی تھی۔ گیری کرسٹن، ژاک کیلس، ایچ ڈی ایکرمین اور اینڈریو ہڈسن کی وکٹوں نے جنوبی افریقہ کو محض 79 رنز پر آدھی ٹیم سے محروم کردیا تھا۔

جنوبی افریقہ نے ڈربن کی وکٹ کو دیکھ کر اسپنر پیٹ سمکوکس کو نہ کھلانے کا فیصلہ کیا تھا، اسی وکٹ پر اسپنر مشتاق احمد پاکستان کا فیصلہ کن عنصر ثابت ہو رہے تھے۔

لیکن ہتھیار نہ ڈالنا جنوبی افریقہ کی پرانی صفت تھی اور وہ یہاں بھی بے دست و پا نہ دکھائی دیا۔ بالخصوص نویں وکٹ پر مارک باؤچر اور فانی ڈی ولیئرز کے درمیان 86 رنز کی شراکت داری نے پاکستان کو تشویش میں مبتلا کردیا۔ چوتھے روز کا اختتام اس طرح ہوا کہ جنوبی افریقہ فتح سے 69 رنز کے فاصلے پر تھا لیکن پانچویں دن صبح وقار یونس نے مارک باؤچر کو کلین بولڈ کرکے خطرے کو ٹال دیا اور پھر پاکستان نے اننگز کی بساط لپیٹنے میں زیادہ دیر نہ لگائی اور جنوبی افریقہ ہدف سے 29 رنز کے فاصلے پر ڈھیر ہوگیا۔

اس یادگار مقابلے کے مرد میدان مشتاق احمد قرار پائے جنہوں نے دوسری اننگز میں 78 رنز دے کر 6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

پاکستان ڈربن کی اس تاریخی فتح کے بعد سے آج تک صرف تین مرتبہ جنوبی افریقہ کو کوئی ٹیسٹ مقابلہ ہرا پایا ہے۔ 2003ء میں لاہور، 2007ء میں پورٹ ایلزبتھ اور 2013ء میں ابوظہبی میں، صرف لاہور کا مقابلہ ہی پاکستان کو سیریز جتوا پایا، جو آج تک پاکستان کی جنوبی افریقہ پر واحد سیریز فتح ہے۔ کیونکہ پاکستان ڈربن کے بعد پورٹ ایلزبتھ میں ہونے والا اگلا ٹیسٹ 259 رنز کے بھاری مارجن سے ہار گیا اور سیریز برابر ہوگئی۔

اس یادگار مقابلے کی چند جھلکیاں

 

 

Facebook Comments