جیت تو گئے، لیکن ۔۔۔۔ !

پاکستان کی روایتی حریف بھارت کے خلاف یادگار فتح پر ایک ہی دن میں بہت کچھ کہا، لکھا اور سنا جاچکا ہے اور شاید آئندہ آنے والے کئی سالوں تک جب بھی دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی مقابلوں کا ذکر ہوگا، توڈھاکہ میں کھیلا گیا یہ مقابلہ بھی یاد رکھا جائے گا۔ لیکن غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تویہ میچ سنسنی خیزی کی جن آخری حدوں تک پہنچا، اس میں بھارت کی کارکردگی کا کردار کم اور پاکستان کی نااہلی کا زیادہ تھا۔

رویندر جدیجا کا کیچ چھوڑنا کتنا مہنگا ثابت ہوسکتا تھا، یہ بات شکست کی صورت میں ہی پتہ چلتی (تصویر: AFP)

رویندر جدیجا کا کیچ چھوڑنا کتنا مہنگا ثابت ہوسکتا تھا، یہ بات شکست کی صورت میں ہی پتہ چلتی (تصویر: AFP)

درحقیقت، ایشیا کپ کے افتتاحی مقابلے میں سری لنکا کے ہاتھوں مایوس کن شکست کھانے کے بعد قومی ٹیم نے کوئی سبق نہیں سیکھا اور وہی غلطیاں، بلکہ کہیں زیادہ شدت کے ساتھ، بھارت کے خلاف اہم مقابلے میں بھی دہرائیں۔ بس شاہد آفریدی کے 18 گیندوں پر 34 رنز نے مقابلے کا پانسہ پلٹ کر پاکستان کی تمام خامیوں پر پردہ ڈال دیا ورنہ شکست کی صورت میں ٹیم کے تقریباً تمام ہی اراکین کی شامت آنی تھی۔

'عادت ہی بنا لی تم نے تو منیر اپنی'، کے مصداق پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری مڈل آرڈر بیٹنگ ثابت ہوئی۔ تقریباًہر مقابلے میں ٹیم کے بلے باز ٹیم کی ڈوبتی نیّا کو پار لگانے کی ذمہ داری کسی ایک کھلاڑی کے نازک کاندھوں پر ڈال دیتے ہیں۔ اب قسمت ہے، وہ کھلاڑی چل گیا تو یادگار مقابلہ، ورنہ بدترین شکست۔میرپور میں بھی ایسا ہی ہوا 71 رنز کا شاندار آغاز میسر آنے کے بعد احمد شہزاد، مصباح الحق اور عمر اکمل جس طرح آؤٹ ہوئے، ایسا لگتا تھا کہ پہلی وکٹ پر شرجیل خان نہیں بلکہ ڈان بریڈمین آؤٹ ہوگئے ہیں جو ٹیم اتنے زیادہ دباؤ میں آ گئی ہے۔ احمد شہزاد اور عمر اکمل نے انتہائی غیر ضروری شاٹس کھیلے بلکہ اگر عمر اکمل کے شاٹ کو خودکشی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ امیت مشرا کی آگے پڑی ہوئی گیند پر للچائے اور کہانی تمام۔

پھر محمد حفیظ کی آواز پر فوراً لبیک کہہ کر دوڑنا کپتان مصباح الحق کو مہنگا پڑ گیا، جو آج نجانے کس ترنگ میں تھے کہ بیٹنگ آرڈر میں پہلے آ گئے۔ جب غائب دماغ 'پروفیسر' کو چند قدم آگے بڑھنے کے بعد خیال آیا تو کافی دیر ہوچکی تھی۔ مصباح رن آؤٹ اور پاکستان مزید دباؤ میں۔ پاکستان 71پر صفر سے 96 رنز تین آؤٹ کی پوزیشن پر آ گیا۔

محمد حفیظ نے صہیب مقصود کے ساتھ مل کر اس غلطی کا ازالہ کرنے کی کوشش کی، جو انہوں نے پہلی اننگز میں رویندر جدیجا کا کیچ چھوڑ کر اور پھر کپتان کو رن آؤٹ کرواکے کی تھی۔ 87 رنز کی شراکت داری نے پاکستان کو ایک اچھی پوزیشن تک پہنچا دیا۔ اس موقع پر پاکستان کو ضرورت تھی کہ محمد حفیظ آخر تک کھیلیں۔ کیونکہ وہ باقی رہ جانے والے واحد مستند بلے باز تھے۔ صہیب نوجوان تھے، ذمہ داری ان کے کاندھوں پر نہیں چھوڑی جا سکتی تھی اور آنے والے بلے بازوں میں صرف شاہد آفریدی ہی کسی حد تک بیٹنگ جانتے تھے، باقی اس صلاحیت سے بالکل پیدل تھے۔ لیکن حفیظ سویپ شاٹ کھیل کر میدان سے پلٹے اور باقی کھلاڑیوں کے ہاتھ پیر پھول گئے۔

انضمام کے جانشیں سمجھے جانے والے صہیب مقصود شاید یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ انضمام جیسی عظمت حاصل کرنے کے لیے انہیں اتنی ہی مرتبہ رن آؤٹ ہونے کی ضرورت ہے۔ گیند سیدھا فیلڈر کے ہاتھوں میں دے کر بھاگ نکلے اور آشون کے تھرو نے ان کا کام تمام کردیا۔ دماغ کی بتی بجھ گئی، اور کچھ ہی دیر میں معاملہ 'آخری سپاہی اور آخری گولی ' تک پہنچ گیا۔

پھر آخر میں جو کچھ ہوا، وہ سب ایک انوکھی داستان ہے لیکن یہاں چند بنیادی غلطیوں پر ضرور نظر ڈالیں۔ ایک کپتان مصباح الحق کی بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کی غلطی کیونکہ ان کے وقت سے پہلے آؤٹ ہونے کی وجہ سے ٹیم سخت دباؤ میں آ گئی۔ پھر اہم موقع پر کیچ ضایع کرنا۔ محمد حفیظ نے دو بہترین کیچ لیے لیکن اچھا فیلڈر وہ ہے جو عام کیچ باآسانی پکڑے اور مشکل کیچز بھی تھامے۔ حفیظ نے الٹا معاملہ کیا، مشکل کیچز پکڑلیے اور جب دن کا آسان ترین کیچ ان کی طرف آیا تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ شاید رویندر جدیجا کے خلاف امپائر کی مسترد کردہ ایل بی ڈبلیو اپیل ان کے دماغ میں اس وقت بھی گھوم رہی تھی۔ بعد ازاں جدیجا نے نصف سنچری بنائی اور بھارت کو ایک اچھے مجموعے تک پہنچایا۔

اب ضروری ہے کہ پاکستان بنگلہ دیش کے خلاف آخری مقابلے سے قبل ان غلطیوں پر غور کرے، ان سے سبق سیکھے اور تدارک کے لیے اقدامات اٹھائے کیونکہ بنگلہ دیش تمام اہم مقابلوں میں ہارنے کے بعد اب زخمی شیر کی طرح آخری مقابلہ لڑے گا اور پاکستان کو فائنل میں اپنی نشست کو یقینی بنانے کے لیے اسے لازماً شکست دینا ہوگی۔ بصورت دیگر اس کی خوشیاں کافور بھی ہوسکتی ہیں۔

Facebook Comments