الوداع گریم اسمتھ، جنوبی افریقی کرکٹ کے زریں عہد کا خاتمہ

کیپ ٹاؤن میں 5 مارچ 2014ء کا سورج غروب ہوتے ہی جنوبی افریقہ کی کرکٹ تاریخ کا ایک عظیم باب بھی بند ہوا۔ گریم اسمتھ 11 سال تک ملک کی نمائندگی اور قیادت کرنے کے بعد کئی کارنامے اپنی جھولی میں لے کر دنیائے کرکٹ سے رخصت ہوئے۔

گریم اسمتھ نے جنوبی افریقہ کو ٹیسٹ کرکٹ میں اس مقام تک پہنچایا، جو ہنسی کرونیے کے کیریئر کے افسوسناک اختتام کے بعد کسی نے تصور بھی نہ کیا تھا (تصویر: PA Photos)

گریم اسمتھ نے جنوبی افریقہ کو ٹیسٹ کرکٹ میں اس مقام تک پہنچایا، جو ہنسی کرونیے کے کیریئر کے افسوسناک اختتام کے بعد کسی نے تصور بھی نہ کیا تھا (تصویر: PA Photos)

عالمی کپ 2003ء میں بحیثیت میزبان جنوبی افریقہ کی ناقص کارکردگی اور اہم ٹورنامنٹ کے پہلے ہی مرحلے میں اخراج کی وجہ سے ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں اور یہیں سے 22 سالہ گریم اسمتھ کے سفر کا باضابطہ آغاز ہوا۔ گو کہ عالمی کپ سے پہلے ہی وہ جنوبی افریقہ کی جانب سے اپنے ٹیسٹ اور ایک روزہ مقابلے کھیل چکے تھے لیکن ورلڈ کپ کے بعد انہیں قیادت کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ 22 سالہ کھلاڑی کو جنوبی افریقہ جیسی عظیم ٹیم کی قیادت سونپنے کا فیصلہ، جبکہ ٹیم میں کئی شہرۂآفاق کھلاڑی موجود تھے، سخت تنقید کی زد میں آیا ، لیکن محض چند ماہ بعد اولین دورۂ انگلستان میں پے در پے دو ڈبل سنچریاں داغ کر اسمتھ نے اپنے تمام ناقدین کو خاموش کرادیا اور پھر ان کی زیر قیادت جنوبی افریقہ دنیائے کرکٹ کی بہترین ٹیم بنا۔ آج بھی، آسٹریلیا کے خلاف آخری سیریز میں شکست کے بعد بھی کوئی ٹیم عالمی درجہ بندی میں جنوبی افریقہ کے قریب بھی نہیں اور مستقبل قریب میں اس کے نمبر ایک پوزیشن گنوانے کا کوئی خدشہ نہیں۔

گزشتہ 10 سالوں کے دوران جنوبی افریقہ میں کرکٹ جیسے بھی نشیب و فراز سے گزری، عالمی کپ ہاری، بیرون ملک یا اندرون ملک اسے شکست کا منہ دیکھنا پڑا یا پھر کوئی بھی تنازع پیدا ہوا، بورڈ نے اسمتھ کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا اور یہی یقین انہیں بہتر سے بہترین کی جانب گامزن کرتا رہا یہاں تک کہ وہ تاریخ کے پہلے کھلاڑی بنے جنہيں 100 ٹیسٹ مقابلوں میں اپنے ملک کی قیادت کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس کے علاوہ سب سے زیادہ فتوحات کا عالمی ریکارڈ بھی اسمتھ ہی کو حاصل ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ ان فتوحات میں ان کا اپنا کردار بھی بہت نمایاں رہا۔

گریم اسمتھ نے مجموعی طور پر 109 ٹیسٹ مقابلوں میں جنوبی افریقہ کی قیادت کی اور ان میں سے 53 میں فتوحات حاصل کیں، جن میں سے 23 بیرون ملک تھیں، جبکہ 30 مقابلے اپنے ہی ملک میں جیتے۔ یہ سب علیحدہ علیحدہ حیثیت میں عالمی ریکارڈز ہیں، یعنی کل فتوحات بھی سب سے زیادہ، بیرون ملک بھی اور گھریلو میدانوں پر بھی۔ دنیا کا کوئی دوسرا ٹیسٹ کپتان اتنی فتوحات نہیں سمیٹ پایا۔ بالخصوص بیرون ملک جنوبی افریقہ کی کارکردگی اتنی شاندار رہی کہ گریم اسمتھ کے پورے کیریئر میں صرف چار مواقع ایسے ہیں جب جنوبی افریقہ گھر سے دور کھیلی جانے والی سیریز میں شکست سے دوچار ہوا۔ 2003ء میں پاکستان، 2004ء میں سری لنکا اور بھارت اور 2005ء میں آسٹریلیا کے ہاتھوں انہی کے ممالک میں یعنی کہ بیرون ملک آخری بار شکست کھائے ہوئے جنوبی افریقہ کو اس وقت ساڑھے 8 سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ان سالوں میں 8 مرتبہ جنوبی افریقہ نے سیریز جیتی اور چار مرتبہ برابر کی ۔ بدقسمتی سے پروٹیز کو آسٹریلیا کے ہاتھوں گھریلو میدانوں پر تین شکستیں سہنا پڑیں، جو 2006ء اور 2009ء کے بعد اب گریم اسمتھ کی آخری سیریز میں بھی جیت گیا۔

'بف' کے کیریئر کا سب سے نمایاں پہلو ان کی وہ 27 ٹیسٹ سنچریاں ہیں، جن کی بدولت جنوبی افریقہ کو کبھی شکست نہیں ہوئی۔ جی ہاں! اسمتھ غالباً معروف کھلاڑیوں میں واحد بلے باز ہوں گے جن کی کبھی کوئی سنچری رائیگاں نہیں گئیں، ہمیشہ یا تو جنوبی افریقہ جیتا یا پھر مقابلہ بغیر کسی نتیجے تک پہنچے اختتام پذیر ہوا۔ ان 27 میں سے پانچ کو اسمتھ ڈبل سنچریوں میں بدلنے میں کامیاب رہے اور بلاشبہ انگلستان کے خلاف کیریئر کے بالکل اوائل میں یکے بعد دیگرے بنائی گئی دو ڈبل سنچریوں کو سب سے ممتاز مقام حاصل ہے۔

انفرادی سطح پر مجموعی طور پر 9265 ٹیسٹ رنز، بحیثیت کپتان ریکارڈ 8659 رنز اور ہدف کے تعاقب میں جیتے گئے22 مقابلوں میں 87.76 کے شاندار اوسط کے ساتھ 1141 رنز، یہ سب ان کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

ایک روزہ کرکٹ میں گو کہ گریم اسمتھ کا ریکارڈ ٹیسٹ جیسا شاندار نہیں، لیکن کسی سے کم بھی نہیں۔ 6989رنز اور 150 مقابلوں میں ملک کی قیادت کے بعد اسمتھ نے عالمی کپ 2011ء میں جنوبی افریقہ کی کوارٹر فائنل میں شکست کے ساتھ ون ڈے کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا۔

عظیم آل راؤنڈر ژاک کیلس کے بعد محض 33 سال کی عمر میں اسمتھ کی ریٹائرمنٹ جنوبی افریقہ کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہوگی کیونکہ کرکٹ تاریخ سے ثابت ہے کہ ایک عظیم ٹیم کا بنیادی عنصر ایک عظیم قائد ہوتا ہے اور جنوبی افریقہ کچھ عرصے تک ضرور وہ مقام و مرتبہ برقرار رکھے گا جو اسمتھ اپنے ورثے میں چھوڑ گئے ہیں لیکن اس درجے کو برقرار رکھنے کے لیے انہیں اسمتھ جیسے ہی ایک قائد کی ضرورت ہوگی۔

Article Tags

Facebook Comments