جنوبی افریقہ کو زبردست دھچکا، گریم اسمتھ نے دنیائے کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا

سالوں کے بعد جب جنوبی افریقہ ٹیسٹ سیریز میں شکست کے دہانے پر ہے تو اسے سب سے بڑا دھچکا باہر سے نہیں بلکہ اندر سے لگنے والا ہے۔ جنوبی افریقہ کے کپتان گریم اسمتھ نے کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے دوران ہی اعلان کردیا ہے کہ یہ ٹیسٹ ان کے بین الاقوامی کیریئر کا آخری مقابلہ ہوگا۔

ژاک کیلس کے بعد گریم اسمتھ کی روانگی اور ساتھ ہی چار سالوں بعد شکست جنوبی افریقہ کے لیے ناقابل تلافی نقصان ثابت ہوگی (تصویر: AP)

ژاک کیلس کے بعد گریم اسمتھ کی روانگی اور ساتھ ہی چار سالوں بعد شکست جنوبی افریقہ کے لیے ناقابل تلافی نقصان ثابت ہوگی (تصویر: AP)

ایک ایسے موقع پر جب جنوبی افریقہ فالو آن کا شکار ہونے کے بعد 234 رنز کے بھاری بھرکم خسار ےمیں ہے، یہ اعلان جنوبی افریقہ کے لیے اس مقابلے میں اور آئندہ کے لیے ایک کڑے امتحان کاپیش خیمہ ہے۔ حال ہی میں ژاک کیلس جیسے عظیم آل راؤنڈر کے بعد کپتان کے خیرباد کہنے سے جو خلاء پیدا ہوگا، اسے فوری طور پر پر کرنا جنوبی افریقہ کے لیے بہت مشکل امر ہوگا۔

33 سالہ گریم اسمتھ نےکیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے تیسرے روز کے اختتام پر بتایا کہ وہ گزشتہ سال ٹخنے کے آپریشن کے بعد سے ریٹائرمنٹ پر غور کررہے تھے اور اب فیصلہ کرلیا ہے کہ جاری مقابلہ ان کے بین الاقوامی کیریئر کا آخری میچ ہوگا۔اسمتھ نے کہا کہ یہ میری زندگی کا اب تک کا سب سے مشکل فیصلہ تھا اور اب بہترین موقع ہے کہ میں بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ دوں۔ مجھے بہترین کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے اور جنوبی افریقہ کرکٹ آج جس مقام پر موجود ہے، اس میں اپنا حصہ ڈالنے پر فخر ہے۔ گریم اسمتھ نے والدین، بھائی، اہلیہ، بچوں، اسپانسرز، پرستاروں اور کرکٹ ساؤتھ افریقہ کا شکریہ اداکیا اور کہا کہ میں ان ساتھی کھلاڑیوں کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے تمام نشیب و فراز میں میرا ساتھ دیا۔

تاریخ کے کامیاب ترین کپتانوں میں سے ایک سمجھے جانے والے گریم اسمتھ اس وقت بدترین فارم سے گزر رہے ہیں۔ گزشتہ سال پاکستان کے خلاف ڈبل سنچری بنانے کے بعد ان کے بلے سے کوئی بڑی اننگز نہیں نکلی اور شاید یہی وجہ ہے کہ اسمتھ مزید نہیں کھیلنا چاہتے۔ کہا جا رہا ہے کہ گزشتہ سال بھارت کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل ٹیم سلیکشن کے معاملے پر ان کے بورڈ سے اختلافات ہوئے تھے اور انہوں نے استعفے کی بھی دھمکی دی تھی۔ بہرحال، وجہ جو بھی ہے اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ جنوبی افریقہ کرکٹ کے لیے ایک مشکل دور کا آغاز ہونے والا۔

گریم اسمتھ نے عالمی کپ 2003ء میں اپنے ہی میدانوں پر شکست کھانے کے بعد جنوبی افریقہ کی قیادت سنبھالی تھی، جب ان کی عمر محض 22 سال تھی اور تمام تر کڑے حالات کے باوجود کرکٹ ساؤتھ افریقہ نے 11 سال تک ان پر بھرپور اعتماد کیا۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ تین، چار سالوں سے جنوبی افریقہ ٹیسٹ اکھاڑے میں ناقابل شکست ہے اور اگر نیولینڈز میں جاری ٹیسٹ ہار گیا تو یہ 2008-09ء کے بعد جنوبی افریقہ کی پہلی سیريز شکست ہوگی اور اسمتھ کی روانگی کے ساتھ یہ شکست جنوبی افریقہ کے لیے بہت برا شگون ہوگی۔

Facebook Comments