نوجوان کھلاڑیوں کو موقع نہ دیے جانے پر گاوسکر کی ٹیم انتظامیہ پر کڑی تنقید

بھارت کے لیے ایشیا کپ 2014ء بہت مایوس کن ٹورنامنٹ رہا۔ اسے سری لنکا اور پاکستان کے خلاف اہم مقابلوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ایسا نہیں ہے کہ وہ چاروں شانے چت ہوا بلکہ دونوں مقابلے حد درجہ سنسنی خیز تھے، جیسا کہ شکست کے مارجن ہی سے ظاہر ہے، سری لنکا کے خلاف دو وکٹوں سے اور پاکستان کے خلاف ایک وکٹ سے۔ لیکن اس کے باوجود تاریخ کے صفحات میں تو یہ شکست ہی گردانی جائے گی، ایسی ہار جس کی وجہ سے بھارت ایشیا کپ کے فائنل میں نہ پہنچ پایا۔

ایسا لگتا ہے کہ ٹیم انتظامیہ کو خطرہ ہے کہ نوجوان کھلاڑی کارکردگی دکھا کر ان کے پسندیدہ کھلاڑیوں کو باہر کردیں گے: سنیل گاوسکر (تصویر: AFP)

ایسا لگتا ہے کہ ٹیم انتظامیہ کو خطرہ ہے کہ نوجوان کھلاڑی کارکردگی دکھا کر ان کے پسندیدہ کھلاڑیوں کو باہر کردیں گے: سنیل گاوسکر (تصویر: AFP)

یہ دونوں شکستیں بھارت کے لیے کتنی حوصلہ شکن ثابت ہوئیں، اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ افغانستان کے خلاف ٹورنامنٹ کے آخری مقابلے کے لیے بھارت نے ٹیم میں کوئی تبدیلی نہ کی اور وہی ٹیم کھلائی جو پاکستان کے خلاف اہم ترین مقابلے کے لیے منتخب کی گئی تھی۔ یعنی ایک ایسے مقابلے میں، جس کا ٹورنامنٹ میں بھارت کی پیشرفت پر کوئی اثر نہ پڑتا، اور مقابلہ بھی افغانستان جیسے کمزور حریف کے خلاف، اس میں ان کھلاڑیوں کو موقع نہیں دیا گیا جو اب تک ٹورنامنٹ میں محض پانی کی بوتلیں اور تولیے ڈھونے کا "فریضہ" انجام دے رہے تھے۔

نوجوان کھلاڑیوں سے اس زیادتی پر بھارت کے سابق کپتان سنیل گاوسکر پھٹ پڑے۔ ٹاس کے بعد ایشیا کپ نشر کرنے والے چینل اسٹار اسپورٹس پر گفتگو کرتے ہوئے 'سنی' نے ٹیم انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر ان کھلاڑیوں کو آج موقع کیوں نہیں دیا گیا جو پورے ٹورنامنٹ میں اپنی باری کا انتظار ہی کرتے رہے۔

سنیل گاوسکر کی نظر میں کم از کم دو کھلاڑی ایسے تھے، جو ان کے خیال میں آج افغانستان کے مقابلے میں ضرور کھلائے جاتے۔ ایک مڈل آرڈر بلے باز چیتشور پجارا، جو بھارت کی ٹیسٹ ٹیم کے تو مستقل رکن ہیں لیکن اب تک صرف دو ایک روزہ مقابلوں میں ملک کی نمائندگی کرپائے ہیں اور وہ بھی زمبابوے جیسے کمزور حریف کے خلاف۔ دوسرے تیز باؤلر ایشور پانڈے۔ پانڈے کو حال ہی میں دورۂ نیوزی لینڈ کے لیے منتخب کروایا گیا تھا اور وہاں سے بھی وہ محض سیر سپاٹے کرکے واپس آ گئے اور اب یہاں ایشیا کپ میں بھی انہیں کسی مقابلے میں کھیلنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ حالانکہ بھارت کے تیز باؤلرز کی کارکردگی سب کے سامنے عیاں ہے۔

سابق کپتان نے کہا کہ قومی ٹیم میں چند کھلاڑی ایسے ہیں جو بلاتوقف کھیلے جا رہے ہیں، حالانکہ انہیں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیسے اہم ٹورنامنٹ سے پہلے آرام کی سخت ضرورت ہے۔ دوسری بات یہ کہ اگر اضافی کھلاڑیوں کو آج جیسے مقابلوں میں نہیں کھلایا جائے گا تو آخر وہ موقع کب آئے گا جب انہیں ملک کی نمائندگی کا موقع ملے گا؟ انہوں نے کہا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ ٹیم انتظامیہ کو یہ خوف لاحق ہے کہ اگر نوجوان کھلاڑیوں نے اچھی کارکردگی دکھا دی تو ان کے منظور نظر کھلاڑیوں کا کیا ہوگا۔ اگر پجارا رنز بنائے گا تو مستقل مزاجی سے نہ کھیلنے والے ان کے کسی پسندیدہ بلے باز کو جگہ بچانی مشکل ہوجائے گی۔ یا اگر ایشور پانڈے وکٹیں لینے میں کامیاب ہوگیا تو کسی ایک 'آنکھ کے تارے' باؤلر کے لیے مسئلہ کھڑا ہوجائے گا۔ دراصل ٹیم میں چند کھلاڑی ایسے ہیں جو جانتے ہیں کہ وہ کچھ بھی کریں، وہ ٹیم میں برقرار رہیں گے۔

یہ بات واقعی دل کو لگتی ہے کہ افغانستان جیسے کمزور حریف کے خلاف بھارت نے جس ٹیم کو کھلایا وہ مکھی مارنے کے لیے توپ کے استعمال کے مترادف دکھائی دیتا ہے۔

Facebook Comments