عالمی کپ، برقرار اور ٹوٹنے والی روایات

عالمی کپ ٹورنامنٹ کے آغاز سے لے کر آج تک چند نتائج ایسے رہے ہیں جو اب عالمی کپ کی روایت بن گئے ہیں۔ لیکن کچھ روایات ایسی بھی ہیں جو اس سال یعنی عالمی کپ 2011ء میں ٹوٹ گئیں۔ انہیں دلچسپ برقرار و ٹوٹنے والی روایات کا کچھ مختصر تذکرہ یہاں کیے دیتے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے۔

برقرار روایات

روایتی حریف پاکستان کے خلاف بھارت کی فتوحات

پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلہ کرکٹ کا سب سے بڑا مقابلہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ دونوں روایتی حریف جب بھی سامنے آتے ہیں تو کرکٹ کے شائقین کی سب سے بڑی تعداد اس سے منسلک ہو جاتی ہے۔ اور اگر یہ مقابلہ عالمی کپ کا ہو تو اس کی حیثیت دوچند ہو جاتی ہے۔

عالمی کپ میں بھارت کے ہاتھوں پاکستان کے شکست کی روایت برقرار رہی

عالمی کپ میں پاکستان اور بھارت پہلی مرتبہ 1992ء میں آمنے سامنے آئے۔ ٹورنامنٹ کا فارمیٹ کچھ ایسا تھا کہ تمام 9 ٹیموں کو ایک دوسرے کے خلاف ایک میچ کھیلنا تھا یوں پاک بھارت ٹکراؤ ناگزیر تھا۔ اس میچ میں بھارت نے پاکستان کو شکست دی گو کہ پاکستان عالمی چیمپیئن بن گیا لیکن اس کے بعد سے یہ روایت چل پڑی کہ پاکستان کبھی بھی عالمی کپ ٹورنامنٹ میں بھارت کو شکست نہیں دے پایا۔ 1996ء میں کوارٹر فائنل، 1999ء میں گروپ میچ اور 2003ء میں گروپ میچ میں اسے بھارت کے ہاتھوں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ 1996ء بھارت کے ہاتھوں شکست پاکستان کے ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کا باعث بنی۔

یہ روایت اس مرتبہ یعنی 2011ء میں بھی برقرار رہی اور اور سیمی فائنل میں بھارت نے پاکستان کو 29 رنز سے شکست دے کر فائنل میں جگہ پائی اور بالآخر عالمی کپ بھی جیت لیا۔

نیوزی لینڈ کی دوڑ سیمی فائنل تک
عالمی کپ کی تاریخ کی بدقسمت ترین ٹیموں میں سے ایک نیوزی لینڈ ہے جو 6 مرتبہ سیمی فائنل تک پہنچی ہے لیکن ہر مرتبہ اس کا سفر سیمی فائنل میں ہی تمام ہوا ہے۔

2011ء کے عالمی کپ میں گروپ مرحلے کے فورا بعد ناک آؤٹ مرحلہ تھا جس میں نیوزی لینڈ کا مقابلہ کوارٹر فائنل میں ٹورنامنٹ کے مضبوط ترین امیدوار جنوبی افریقہ سے پڑا لیکن اس نے حیران کن طور پر اسے شکست دے کر چھٹی مرتبہ سیمی فائنل میں جگہ پائی لیکن یہاں 2007ء کے عالمی کی طرح ایک مرتبہ پھر سری لنکا اس کے آڑے آ گیا اور یوں وہ سیمی فائنل میں پہنچ کر بھی نامراد ہی رہا۔

پاکستان سری لنکا سے ہمیشہ فتح یاب
پاکستان عالمی کپ ٹورنامنٹ میں جب بھی سری لنکا کے مقابل آیا ہے فتح نے اس کے قدم چومے ہیں۔ یہ روایت اس مرتبہ بھی برقرار رہی گو کہ پاکستانی ٹیم اس مرتبہ کافی کمزور تھی جبکہ سری لنکا کو ابتداء ہی سے ہاٹ فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا لیکن پاکستان نے اک شاندار مقابلے کے بعد گروپ میچ 11 رنز سے فتح حاصل کی۔ اور سری لنکا سے جیتنے کی روایت کو برقرار رکھا۔

جنوبی افریقہ ناک آؤٹ مرحلے سے باہر
جنوبی افریقہ 1992ء سے لے کر اب تک تمام عالمی کپ ٹورنامنٹس میں اک مضبوط ترین امیدوار کی حیثیت سے آتی ہے حتی کہ چند عالمی کپ ٹورنامنٹ ایسے بھی ہیں جن میں اسے گروپ مرحلے میں کوئی ٹیم شکست نہ دے سکی لیکن نجانے کیوں مضبوط ترین ٹیم ہونے کے باوجود وہ ہمیشہ ناک آؤٹ مرحلے کے پہلے ہی معرکے میں باہر ہو جاتی ہے۔ 1992ء میں سیمی فائنل، 1996ء میں کوارٹر فائنل، 1999ء میں سیمی فائنل اور2007ء میں سیمی فائنل میں ہونے والی شکست اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔

2011ء میں جنوبی افریقہ ایک مکمل متوازن ترین ٹیم کی صورت میں سامنے آیا اور اس مرتبہ کئی ماہرین اسے عالمی کپ کا سب سے بڑا امیدوار قرار دے رہے تھے لیکن وہ حیران کن طور پر کوارٹر فائنل مرحلے میں وہ نیوزی لینڈ جیسے کمزور حریف سے شکست کھا گیا۔ اس مرتبہ اس کی یہ روایت برقرار رہی کہ اس نے کبھی عالمی کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کوئی میچ نہیں جیتا۔

ایشیائی ٹیم فائنل میں

ایشیائی ٹیموں کی فائنل تک رسائی کا سلسلہ 1992ء کے بعد سے بدستور جاری رہا

1992ء میں جب پاکستان پہلی مرتبہ عالمی کپ کے فائنل میں پہنچا تھا تو یہ اہلیان پاکستان کے لیے خوشی اور فخر کا موقع تو تھا ہی لیکن یہ دنیائے کرکٹ میں ایشیائی ٹیموں کی بڑھتی ہوئی قوت کا بھی اعلان تھا۔ اس کے بعد سے آج تک تمام عالمی کپ ٹورنامنٹس کے فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ایک ٹیم ایشین رہی ہے۔

1996ء میں سری لنکا، 1999ء میں پاکستان، 2003ء میں بھارت، 2007ء میں سری لنکا نے فائنل تک رسائی حاصل کی۔ گو کہ ان میں سے فتح صرف 96ء والی سری لنکن ٹیم کے ہاتھ آئی لیکن 2011ء میں ایشیائی ممالک نے اپنے تمام حریفوں کو باہر کرتے ہوئے فائنل میں جگہ پائی اور فائنل بھارت اور سری لنکا کے مابین کھیلا گیا۔ اس طرح ایشیا نے طویل عرصے سے فائنل میں پہنچنے کی اپنی روایت کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اسے مزید مستحکم کر لیا۔

ٹوٹنے والی روایات

آسٹریلیا کو 34 مقابلوں کے بعد شکست
1999ء کے عالمی کپ میں فتح کے ساتھ ہی آسٹریلیا ایک عظیم ٹیم کی صورت میں نمودار ہوا اور اس کی حیثیت بالکل ویسے ہی ہو گئی جیسی 1975ء کا عالمی کپ جیتنے کے بعد ویسٹ انڈیز کی تھی یعنی ان دونوں ٹیموں کو ہرانا بہت مشکل ہو گیا تھا۔ آسٹریلیا نے 2003ء اور 2007ء کے عالمی کپ بغیر کسی میچ میں شکست حاصل کیے جیتے اور وہ اسی اعزاز کو سینے پر سجائے 2011ء کے عالمی کپ میں آیا۔ ابتدائی تمام میچز میں ناقابل شکست رہنے کے بعد اس کا آخری گروپ مقابلہ پاکستان سے ہوا جہاں پاکستان نے اسے ہرا کر 34 مقابلوں تک ناقابل شکست رہنے کے سلسلےکا خاتمہ کر دیا۔

پہلی بار آل ایشیا فائنل
1975ء میں عالمی کپ کے آغاز سے لے کر ایک مرتبہ بھی ایسا موقع نہ آیا کہ ایشیائی ٹیموں نے بیک وقت عالمی کپ کے فائنل میں جگہ پائی ہو۔ 1992ء میں پاکستان کے عالمی کپ جیتنے کے بعد سے اب تک ہونے والے تمام فائنلز میں ایک ٹیم تو ایشیائی ضرور رہی ہے لیکن 2011ء میں پہلی بار موقع آیا کہ ایشیائی ٹیموں نے تمام غیر ایشیائی ٹیموں کو فائنل کی دوڑ سے باہر کر دیا۔ یوں 1975ء سے لے کر 2007ء تک کم از کم غیر ایشیائی ایک فائنلسٹ روایت کا خاتمہ کر دیا۔

بھارت اہم مرحلے میں سری لنکا سے پہلی بار فتح یاب
بھارت اور سری لنکا کی ٹیمیں عالمی کپ کے مقابلوں میں کئی مرتبہ آمنے سامنے آئی ہیں لیکن اہم مرحلے پر بھارت اور سری لنکا کا جب بھی ٹکراؤ ہوا ہے شکست بھارت کا مقدر بنی۔ اس کی واضح مثال 1996ء کے عالمی کپ کا سیمی فائنل ہے جہاں بھارت شکست کے ساتھ ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا لیکن 2011ء میں بھارت نے فائنل میں سری لنکا کو ہرا کر اس روایت کا خاتمہ کر دیا۔

سائمن ٹوفل کی صورت میں پہلی بار کسی آسٹریلوی اپمپائر نے فائنل سپروائز کیا

فائنل میں آسٹریلوی امپائر
یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ آج تک کسی آسٹریلوی امپائر نے عالمی کپ کا فائنل سپروائز نہیں کیا۔ گو کہ یہ اعزاز سائمن ٹوفل کو حاصل ہو سکتا تھا جو مسلسل پانچ سال تک بہترین امپائر کا عالمی اعزاز حاصل کر چکے ہیں لیکن 1999ء سے لےکر 2007ء تک ہونے والے تینوں عالمی کپ ٹورنامنٹس میں آسٹریلیا کے فائنل تک پہنچنے کی وجہ سے وہ یہ اعزاز حاصل نہ کر سکے کیونکہ آئی سی سی کے قوانین کے مطابق نیوٹرل امپائر کا ہونا ضروری ہے۔

فائنل میں سنچری فاتح ٹیم کے نصیب میں
عالمی کپ کے فائنل مقابلے میں جس ٹیم کے رکن نے سنچری بنائی ہے وہی ٹیم عالمی چیمپئن بنی ہے۔ 1975ء میں کلائیو لائیڈ (102 رنز)، 1979ء میں ویون رچرڈز (138 رنز)، 1996ء میں ارونڈا ڈی سلوا (107 رنز)، 2003ء میں رکی پونٹنگ (140 رنز)، 2007ء میں ایڈم گلکرسٹ (149 رنز) کی اننگ اس امر کی حقیقت کا اظہار ہیں۔

لیکن اس بار یعنی عالمی کپ 2011ء میں اس روایت کا خاتمہ ہو گیا۔ عالمی کپ کے فائنل میں سری لنکا کے مہیلا جے وردھنے نے 103 رنز کی اننگ کھیلی لیکن اس کے باوجود ان کی ٹیم فتحیاب نہ ہو سکی۔

واضح رہے کہ 1983ء، 1987ء، 1992ء اور 1999ء کے فائنل مقابلوں میں کوئی سنچری نہیں بنی تھی۔

آسٹریلیا فائنل کھیلنے سے محروم
1996ء کے عالمی کپ کے بعد 2011ء میں پہلی بار آسٹریلیا فائنل کے لیے کوالیفائی نہ کر سکا۔ 1996ء میں سری لنکا کے ہاتھوں فائنل ہارنے کے بعد آسٹریلیا نے مسلسل تین مرتبہ یعنی 1999ء، 2003ء اور 2007ء میں عالمی کپ جیتا لیکن 2011ء میں اس کا سفر کوارٹر فائنل میں بھارت کے ہاتھوں تمام ہوا۔ بعد ازاں بھارت ہی نے عالمی کپ جیتا۔

فائنل میں اسٹیو بکنر کی عدم موجودگی
ویسٹ انڈیز کے اسٹیو بکنر دنیائے کرکٹ کے محترم ترین امپائرز میں سے ایک تھے۔ انہوں نے 1992ء سے 2007ء تک ہونے والے پانچوں عالمی کپ کے فائنل میں امپائرنگ کے فرائض انجام دیے جو بذات خود ایک ریکارڈ ہے۔ یہ “5 عالمی کپ فائنلز کے بعد پہلا موقع تھا جس میں اسٹیو بکنر نے فائنل میں امپائرنگ نہیں کی۔ اس مرتبہ یہ اعزاز پاکستان کے علیم ڈار اور آسٹریلیا کے سائمن ٹوفل کو ملا۔

Article Tags

Facebook Comments