یوہان بوتھا کی گیند سے چھیڑ چھاڑ، ایک میچ کی پابندی لگا دی گئی

آجکل کسی بھی میچ کو نشر کرنے کے لیے 30 کیمرے تک استعمال ہوتے ہیں یعنی کہ کھلاڑی تو کجا میدان میں نظر آنے والی مکھی بھی کسی کیمرے کی نگاہ سے بچ نہیں سکتی لیکن اس کے باوجود کھلاڑی نجانے کس ترنگ میں گیند سے چھیڑ چھاڑ کر دیتے ہیں اور پھر سزائیں بھگتتے ہیں۔ حالیہ چند ماہ میں بہت تیزی سے گیند سے چھیڑ چھاڑ کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں پاک-جنوبی افریقہ دبئی ٹیسٹ میں پروٹیز بلےباز فف دو پلیسی کو گیند کو خراب کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا تھا اور جرمانے کی سزا بھی سزائی گئی لیکن اب گزشتہ چند دنوں میں تین ایسی خبریں سامنے آ چکی ہیں جن میں بال ٹمپرنگ کی باتیں کی گئی ہیں۔

بوتھا کو کرکٹ کے کھیل کو رسوا کرنے والی حرکت کرنے پر پابندی کا سامنا ہے (تصویر: AFP)

بوتھا کو کرکٹ کے کھیل کو رسوا کرنے والی حرکت کرنے پر پابندی کا سامنا ہے (تصویر: AFP)

پہلے آسٹریلیا کے اوپنر ڈیوڈ وارنر نے جنوبی افریقہ کے وکٹ کیپر ابراہم ڈی ولیئرز پر الزام لگایا کہ انہوں نے حالیہ سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میں گیند سے چھیڑ چھاڑ کی اور کچھ دنوں بعد انگلستان کی ٹیم پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے تیسرے و فیصلہ کن ون ڈے میں امپائر نے دو مرتبہ گیند کو بدلا جس میں سے ایک مرتبہ گیند تبدیل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس کی شکل کافی بگڑی ہوئی تھی جو فطری نہیں لگتی تھی۔ گو کہ انگلستان پر کوئی جرمانہ عائد نہیں ہوا لیکن دال میں کچھ کالا ضرور لگتا ہے۔اب ایک تازہ واقعہ آسٹریلیا کے اہم ایونٹ شیفیلڈ شیلڈ میں پیش آیا ہے جہاں جنوبی افریقہ کے سابق کھلاڑی یوہان بوتھا کو گیند کے ساتھ بلاوجہ چھیڑ چھاڑ کرنے، کرکٹ کی روح کے منافی حرکت، کھیل کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور اسے کی تعظیم نہ کرنے کے ساتھ ساتھ اسی مقابلے میں ناقص رویے کی وجہ سے ایک میچ کی پابندی کا سامنا ہے۔

31 سالہ بوتھاساؤتھ آسٹریلیا کی جانب سے نیو ساؤتھ ویلز کے خلاف میچ کھیل رہے تھے جس کے دوران نئی گیند لینے کا وقت آیا تو انہوں نے امپائر سے نئی گیند لینے کے بعد پرانی گیند کے ساتھ کھیلنا شروع کردیا اور اسے اپنے جوتے سے ٹھوکریں مارتے ہوئے باؤنڈری لائن تک لائے اور پھر میدان سے باہر پھینک دیا ۔خوش قسمتی سے یہ وہ گیند تھی جو اب استعمال نہ ہونا تھی، ورنہ بوتھا کے لیے سنگین مسئلہ کھڑا ہوجاتا۔ علاوہ ازیں اسی میچ کی پہلی اننگز میں گھٹیا و فحش زبان کے استعمال پر بھی انہیں تنبیہ کی گئی تھی اور میچ کے اختتام پر میچ ریفری نے ان دونوں معاملات کو بنیاد بناتے ہوئے انہیں ایک میچ کے لیے معطل کردیا۔

اس پابندی کا مطلب ہے کہ وہ تسمانیہ کے خلاف ہوبارٹ میں ہونے والا سیزن کا آخری و اہم ترین مقابلہ نہیں کھیل پائیں گے۔ البتہ بوتھا نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی ہے۔ 5 ٹیسٹ، 78 ایک روزہ اور 40 ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں جنوبی افریقہ کی نمائندگی کرنے کے باوجود ایسے بچکانہ رویے کی بوتھا سے توقع نہ تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پیر کو سماعت کے بعد کیا فیصلہ ہوتا ہے۔

Facebook Comments