پاکستان اعزاز کا حقدار نہ تھا!

ایک محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے میری بھی تمام ہم وطنوں کی طرح یہی خواہش ہوتی ہے کہ پاکستان ہر مقابلے میں کامیابی حاصل کرے، دنیائے کرکٹ کا ہر ٹائٹل گرین شرٹس کی جھولی میں آ گرے لیکن ظاہر ہے کہ 'ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ۔۔۔۔۔'۔ قومی کرکٹ ٹیم بھارت اور بنگلہ دیش کے خلاف دو غیر معمولی فتوحات کے بعد فائنل تک تو پہنچ گئی لیکن تمام حریفوں کو روندتے ہوئے فائنل تک رسائی حاصل کرنے والے سری لنکا کو زیر نہ کرسکی۔

فائنل تک رسائی اور بھارت کے خلاف جیتنے کی طفل تسلیوں کے بجائے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ورنہ آگے بھی پوری قوم یہی گا رہی ہوگی ’’تم جیتو یا ہارو سنو، ہمیں تم سے پیار ہے‘‘!!(تصویر: AFP)

فائنل تک رسائی اور بھارت کے خلاف جیتنے کی طفل تسلیوں کے بجائے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ورنہ آگے بھی پوری قوم یہی گا رہی ہوگی ’’تم جیتو یا ہارو سنو، ہمیں تم سے پیار ہے‘‘!!(تصویر: AFP)

سری لنکا بلاشبہ یہ ایونٹ جیتنے کا مستحق تھا، جس نے پورے ٹورنامنٹ میں کوئی مقابلہ نہیں ہارا اور ان کی مستقل مزاجی کے ساتھ پیش کردہ کارکردگی ہی نے ممکن بنایا کہ ٹیم پانچویں بار ایشیائی چیمپئن بنے۔ اگر لاستھ مالنگا نے افتتاحی مقابلے میں پانچ پاکستانی کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے پاکستان کو کامیابی دلوائی تو فاسٹ باؤلر نے فائنل میں بھی اسی کارکردگی کو دہراتے ہوئے ٹیم کی جیت میں مرکزی کردار ادا کیا۔ لاہیر تھریمانے نے پہلے مقابلے میں پاکستان کے خلاف تہرے ہندسے کی اننگز کھیل کر ٹیم کو قابل قدر مجموعہ دلوایا تو فائنلمیں ہدف کے تعاقب میں بھی ایک عمدہ سنچری تخلیق کرتے ہوئے ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ فائنل میں اگر کمار سنگاکارا کو اپنی وکٹ صفر پر گنوانا پڑی تو دوسرے سینئر بلے باز مہیلا جے وردھنے نے اپنی ذمہ داری کا احساس کیا اور 75 رنز کی اننگز کھیل کر پاکستان کو جیت سے دور کردیا۔

اس کے مقابلے میں پاکستان کی کارکردگی میں ہمیشہ کی طرح کوئی مستقل مزاجی نہ تھی۔ ابتدائی مقابلے میں جب ٹیم سری لنکا کے خلاف جیت کی جانب گامزن تھی تو عمر اکمل کے آؤٹ ہوتے ہی دوسرے بلے باز ڈھیر ہوگئے اور پاکستان ایک جیتا ہوا مقابلہ ہار گیا۔ افغانستان جیسی نووارد ٹیم نے بھی پاکستان کو جیت کے لیے لوہے کے چنے چبوا دیے اور اگر عمر اکمل 87 مقابلوں کے بعد اپنی پہلی سنچری نہ بناتے تو 118 رنز، 7 آؤٹ پر جدوجہد کرنے والی قومی ٹیم کے لیے شکست سے بچنا ناممکن ہوتا۔ پھر بھارت کے خلاف شاہد آفریدی نے 28 سال پرانی تاریخ دہرا کر پاکستان کو ایک یادگار فتح دلائی۔ ان دو چھکوں نے شاہد آفریدی کو ایک مرتبہ پھر’’بوم بوم‘‘ بنا دیا لیکن جیسا کہ فتح تمام عیبوں پر پردے ڈال دیتی ہے، اس لیے کسی کو یہ سوچنے کی زحمت نہیں ہوئی کہ بے جان وکٹوں پر بھارت کی بے ضرر باؤلنگ کے خلاف صرف 246 رنز کے تعاقب میں پاکستان کو شاہد آفریدی کی جارحانہ بلے بازی کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی؟ 200 رنز پر چار وکٹیں گنوانے والی ٹیم کو اگلے 45 رنز کے لیے مزید پانچ وکٹوں کی قربانی کیوں دینا پڑی؟ بنگلہ دیش کے خلاف بھی شاہد آفریدی کی جارحانہ بیٹنگ کے ترانے گائے گئے مگر پاکستان کے بزعم خود 'دنیا کا بہترین باؤلںگ اٹیک' کے سامنے بنگلہ دیش 325 رنز کا پہاڑ کھڑا کرنے میں کیسے کامیاب ہوگیا؟ اس پر کسی کو حیرت نہ ہوئی اور سب سے اہم بات یہ کہ فائنل سے قبل کوچز کی فوج نے باؤلنگ لائن کو تکڑا کرنے اور بیٹنگ کو مضبوط بنانے کے لیے کیا حکمت عملی بنائی؟

ایشیا کپ میں پاکستان کی شکست کا سبب کیا تھا؟


Loading ... Loading ...

فائنل میں پہلے بیٹنگ کرنے کے باوجود پاکستانی بلے باز لاستھ مالنگا کے اوورز گزارنے کے بجائےوکٹیں گنوانے کو ترجیح دیتے رہے۔ اگر مصباح الحق کو امپائر سے مدد نہ ملتی یا فواد عالم اپنے کیریئر کی بہترین انںگز کھیلنے میں کامیاب نہ ہوپاتے تو شاید پاکستان 200 رنز تک بھی نہ پہنچتا۔ گزشتہ چار مقابلوں کی کارکردگی کو دیکھیں تو یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ پاکستان ایشیا کپ کا حقدار نہ تھی کیونکہ کھلاڑیوں میں مستقل مزاجی کا فقدان تھا۔ قومی کھلاڑیوں کو اپنے فرائض منصبی کو سمجھتے ہوئے مستقل کارکردگی دکھانا ہوگی اور اسی صورت میں پاکستان کامیاب ٹھہرے گا اور ایشیا کپ کے فائنل تک رسائی یا بھارت کو شکست دے کر خود کو تسلی نہیں دی جا سکی۔

ایشیا کپ کے فائنل میں شکست قومی کرکٹ ٹیم کی ناکامیوں کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے، اور ’’تم جیتو یا ہارو سنو!ہمیں تم سے پیار ہے‘‘ گنگنا کر اس ناکامی سے منہ نہیں چھپایا جا سکتا۔ ہمیں عالمی کپ 2007ء کے پہلے راؤنڈ میں باہر ہونے والی ٹیم سے بھی پیار تھا اور ایشیا کپ کا فائنل ہارنے والی ٹیم سے بھی ہے لیکن شکستوں پر ایسی طفل تسلیاں دینے کے بجائے اگلے مراحل کے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ورنہ آئندہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی اور اگلے سال عالمی کپ 2015ء کے بعد بھی پوری قوم کورس میں یہی گا رہی ہوگی ’’تم جیتو یا ہارو سنو، ہمیں تم سے پیار ہے‘‘!!

Facebook Comments