ایشیا کپ: پاکستان کی کارکردگی کے مثبت و منفی پہلو

کئی سنسنی خیز مقابلوں کے بعد ایشیا کپ 2014ء پاکستان کی مایوس کن شکست کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ ٹورنامنٹ جن ٹیموں کے درمیان مقابلے سے شروع ہوا، فائنل میں بھی وہی مدمقابل آئیں اور دلچسپ بات یہ رہی کہ نتیجہ دونوں بار ایک ہی رہا۔ وہی لاستھ مالنگا کی تباہ کن باؤلنگ، لاہیرو تھریمانے کی سنچری اننگز اور وہی سری لنکا کی فتح و پاکستان کی شکست۔ اپنے اعزاز کے دفاع میں ناکام ہونے والے پاکستان کی کارکردگی کے چند مثبت و منفی پہلو سامنے آئے۔

پاکستان کے تیز باؤلرز ٹورنامنٹ میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے (تصویر: AFP)

پاکستان کے تیز باؤلرز ٹورنامنٹ میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے (تصویر: AFP)

منفی پہلو

- تیز اور اسپن باؤلنگ کے امتزاج پر مبنی 'دنیا کا بہترین بولنگ اٹیک' کہلانے والی پاکستان کی باؤلنگ لائن اپ پورے ٹورنامنٹ میں قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکی۔ گو کہ سعید اجمل سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے گیند بازوں میں لاستھ ملنگا کے ہمراہ نمبر ایک گیند باز رہے تاہم دیگر باؤلرز نا صرف یہ کہ وکٹیں نہ سمیٹ سکے بلکہ رنز دینے کے حوالے سے بھی بہت مہنگے ثابت ہوئے۔ محمد حفیظ اور عمر گل پانچ، پانچ وکٹیں حاصل کرنے میں ضرور کامیاب رہے لیکن دونوں کا اوسط 38 اور 52 رہا۔ ان کے علاوہ محمد طلحہ نے 36.50 کے اوسط سے چار اور شاہد آفریدی نے 74.66 کے اوسط سے صرف تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ اہم باؤلر جنید خان پورے ٹورنامنٹ میں صرف ایک وکٹ حاصل کرپائے، جو انہیں فائنل میں ہی ملی۔ افسوسناک امر یہ کہ پاکستان ایشیا کپ میں صرف افغانستان کو ہی آل آؤٹ کر پایا اور کسی مقابلے میں وہ حریف کی تمام وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔

- پاکستانی ٹیم کی فیلڈنگ کا معیار بھی پورے ٹورنامنٹ میں انتہائی پست رہا۔ وکٹ کیپر عمر اکمل اور دیگر نوجوان فیلڈرز نے نہ صرف دیگر مقابلوں بلکہ فائنل میں بھی کئی ایک آسان کیچز چھوڑے اور سست روی کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے حریف ٹیموں کو متعدد باؤنڈریز اور قیمتی رنز حاصل ہوئے۔ باؤلرز اور فیلڈرز کی یہی کارکردگی تھی جس کی وجہ سے بنگلہ دیش پاکستان کے خلاف اپنی ایک روزہ تاريخ کا سب سے بڑا مجموعہ 326 رنز جوڑنے میں کامیاب ہوا۔

- پاکستان کی قیادت کی کمزوریاں بھی ایشیا کپ میں نمایاں ہوکر سامنے آئیں۔ دو مقابلوں میں ہدف کے کامیاب حصول کے باوجود، فائنل میں ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ بنگلہ دیش کے خلاف آف اسپنر عبدالرحمٰن کی ٹیم میں شمولیت اور ان کو ابتدائی اوورز میں متعارف کروانے کی سزا بھی پاکستان نے بھگتی، جو تین بیمر پھینکنے کے بعد پورے میچ کےلیے باؤلنگ سے ہٹا دیے گئے۔ سری لنکا کے خلاف کپتان مصباح الحق اور فواد عالم کے درمیان 3.7 رنز فی اوور کے حساب سے بننے والی انتہائی سست رفتار شراکت داری کا خمیازہ بھی پاکستان کو آخر میں قابل دفاع مجموعہ حاصل نہ کرپانے کی صورت میں بھتگنا پڑا۔ سونے پہ سہاگہ، اسی میچ میں سعید اجمل کی جانب سے دو مسلسل وکٹیں لینے کے بعد جب مزید دباؤ بڑھانے کے لیے جارحانہ فیلڈنگ کی ضرورت تھی، اس وقت مصباح الحق نے روایتی غیر ضروری دفاعی حکمت عملی اختیار کرنے کی غلطی دہرائی۔ تیز گیند بازوں اور اسپنرز کی گیندوں پر ایجز نکلتے رہے اور سلپ میں کوئی ان کو تھامنے والا نہ تھا، نتیجتاً نکلنے والے کیچ باؤنڈریز میں تبدیل ہوتے رہے۔

- بلاول بھٹی اور انور علی جیسے آل راؤنڈرز سے فائدہ نہ اٹھانا بھی سمجھ سے بالاتر رہا۔ پاکستان کے تمام میچز بہت کم مارجن سے جیتے اور ان میں لوئر آرڈر کے ایک آل راؤنڈر کی سخت کمی محسوس ہوئی۔ یہ کمی شاہد آفریدی کی دھواں دار بیٹنگ کے پیچھے چھپ گئی لیکن حقیقت اب بھی یہی ہے کہ نچلے نمبروں پر ایک تیز کھیلنے والے آل راؤنڈر کی ضرورت موجود ہے۔

- حال ہی میں ابھر کر آنے والے نوجوان بیٹسمین شرجیل خان اور صیہب مقصود کی کارکردگی بھی غیر تسلی بخش رہی۔ صہیب مقصود نے 2، 38، 13 اور 17 رنز بنائے جبکہ شرجیل خان 8، 25، 25 اور 26 سے زیادہ رنز نہ بنا سکے۔ بلاشبہ دونوں عمدہ بیٹسمین ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ ان پر بدستور اعتماد کیا جائے گا۔

- ایک زمانے میں اپنی فاسٹ باؤلنگ کے لئے مشہور ٹیم اب اس شعبے میں انتہائی مشکل کا شکار نظر آرہی ہے۔ عمرگل، محمدطلحہ اور جنید خان پورے کپ میں انتہائی مہنگے ثابت ہوئے۔ ٹیم میں محمد عرفان کی کمی شدت سے محسوس کی گئی کیونکہ نئی بال سے بال کرانے والا فاسٹ باؤلر اور کوئی نہیں تھا۔

مثبت پہلو

فواد عالم کی واپسی پاکستان کے لیے نیک شگون ثابت ہوئی (تصویر: AFP)

فواد عالم کی واپسی پاکستان کے لیے نیک شگون ثابت ہوئی (تصویر: AFP)

- شاہد آفریدی کی بیٹنگ فارم میں واپسی معنی خیز ثابت ہوئی۔ تیز ترین سنچری کا ریکارڈ چھن جانے کے بعد پہلی سیریز میں شاہد آفریدی مخالف ٹیموں میں قہر بن کر ٹوٹے۔ ایک موقع پر یوں لگا کہ وہ اپنا ریکارڈ واپس لینے کی ٹھان چکے ہیں۔ بنگلہ دیش اور بھارت کے خلاف میچز میں ان کی جارحانہ بیٹنگ نے میچ بچایا۔ باضابطہ بلے بازوں میں پورے ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ اسٹرائیک ریٹ شاہد آفریدی کا رہا جو 168.5 تھا۔ انہوں نے ایک روزہ تاریخ کی دوسری تیز ترین نصف سنچری کا اپنا ریکارڈ برابر بھی کیا۔

- ٹریفک وارڈن کے چنگل سے نکل کر بنگلہ دیش "بھاگ" جانے والے عمر اکمل نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔ ٹورنامنٹ کے تیسرے زیادہ اوسط 84.3 سے بیٹنگ کرنے والے عمر نے ایک سنچری اور دو نصف سنچریاں بنائیں۔ وہ ٹورنامنٹ میں 50 سے زیادہ کی اننگز کھیلنے والوں میں کمار سنگاکارا کے ساتھ پہلے نمبر پر رہے۔

- 'اسٹرائیک روٹیشن' کے لئے مشہور فواد عالم کی واپسی پاکستان کے لئے نیگ شگون ثابت ہوئی۔ساڑھے تین سال بعد واپسی کرنے والے فود عالم نے آتے ہی ایک نصف سنچری اور ایک سنچری داغ ڈالی۔ وہ پاکستانی کی تاریخ میں اوپنرز کے علاوہ سنچری بنانے والے پہلے لیفٹ ہینڈ بیٹسمین بنے۔ فواد عالم نے ، جو پچھلے 27 ایک روزہ مقابلوں میں صرف ایک چھکا لگاپائے تھے، ان دو مقابلوں میں 5 چھکے لگا ڈالے۔ اگر وہ ایسے ہی میچ کی ضرورت کے مطابق کھیلتے رہے تو ان کی واپسی یقیناً مڈل آرڈر کو مضبوط کرے گی۔

- ایک میچ میں سب سےبڑا مجموعہ بھی پاکستان نے بنایا جب اس نے بنگلہ دیش کے خلاف 327 رنز کا ہدف 7 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کیا۔

- پاکستان کی جانب سے ٹورنامنٹ میں چوتھی اور پانچویں وکٹ پر سب سے بڑی شراکت داریاں بنائی گئیں۔ فائنل میں چوتھی وکٹ پر مصباح الحق اور فواد عالم کی 122 اور افتتاحی مقابلے میں مصباح الحق اور عمر اکمل کی پانچویں وکٹ پر 121 رنز کی شراکت داریاں مذکورہ وکٹوں کے لیے سب سے بڑی ساجھے داریاں تھیں۔

- کپتان مصباح الحق کا سب سے کامیاب تجربہ محمد حفیظ سے اٹیک کروانا رہا۔ نئی گیند سے باؤلنگ کروانے اور بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے بلے بازوں کو پریشان کرنے کے لیے مشہور حفیظ نے نہ صرف عمدہ اوسط سے باؤلنگ کی بلکہ اہم وکٹیں بھی حاصل کیں۔

- وکٹ کے پیچھے سب سے زیادہ شکار عمر اکمل کے رہے، جن کی تعداد 7 تھی جبکہ کمار سنگاکارا نے پانچ کھلاڑیوں کو شکار بنایا۔

ایشیا کپ پاکستان کے لئے ہر طرح سے ایک اہم ٹورنامنٹ ثابت ہوا۔ ٹیم میں فائٹ کرنے کی صلاحیت اور اس میں جیت کی لگن دکھائی دی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ایک روزہ ٹورنامنٹ کے تجربے کو عالمی کپ 2015ء کے لیے کیسے استعمال کیا جاتا ہے؟

Article Tags

Facebook Comments