[ورلڈ ٹی ٹوئنٹی] ویسٹ انڈیز کا مردِ آہن کرس گیل

مختصر لیکن دلچسپ ترین طرز کی کرکٹ ٹی ٹوئنٹی کو قدامت پسند حلقے "کرکٹ سرکس" کہتے ہیں لیکن اب یہی 'سرکس' اب بین الاقوامی کرکٹ میں آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور شائقین چھکوں اور چوکوں کی برسات سے لطف اندوز ہونے کے لیے نہ صرف ٹیلی وژن کے سامنے جمے رہتے ہیں بلکہ میدانوں کا بھی رخ کرتے ہیں۔ اگر ٹی ٹوئنٹی میں لگنے والے ان چوکوں چھکوں کا تصور ذہن میں لائیں تو سب سے پہلے ایک ہی کھلاڑی کا نام ابھرتا ہے اور وہ ہے ویسٹ انڈیز کے کرس گیل!

کرس گیل ویسٹ انڈیز کو ایک مرتبہ پھر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی چیمپئن بنانے کے خواہاں ہیں (تصویر: ICC)

کرس گیل ویسٹ انڈیز کو ایک مرتبہ پھر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی چیمپئن بنانے کے خواہاں ہیں (تصویر: ICC)

طویل عرصے سے ٹیسٹ اور ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں ویسٹ انڈیز کی نمائندگی کے باوجود جس فارمیٹ نے کرس گیل کو شہرت دوام بخشی ہے وہ ٹی ٹوئنٹی ہے، جس میں تاریخ کی پہلی سنچری سے لے کر گزشتہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ویسٹ انڈیز کو چیمپئن بنانے میں کلیدی کردار تک، ان سب کا سہرا گیل کے سر ہے۔ انہوں نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء کے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف 75 رنز کی وہ شاندار اننگز کھیلی تھی جس کی بدولت ویسٹ انڈیز مقابلہ جیت کر فائنل تک پہنچا اور وہاں میزبان سری لنکا کو زیر کرکے چیمپئن بنا۔

بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی سے ہٹ کر بھی کرس گیل ایک ریکارڈ ساز کھلاڑی ہیں۔ انڈین پریمیئر لیگ 2013ء میں انہوں نے کرکٹ تاریخ کی سب سے دھواں دار اننگز کھیلی جب پونے واریئرز کے خلاف رائل چیلنجرز بنگلور کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے صرف 66 گیندوں پر 175 رنز مار ڈالے۔ 17 چھکوں اور 13 چوکوں سے مزین یہ اننگز کئی ریکارڈز توڑ گئی جن میں تیز ترین سنچری، طویل ترین باری اور ایک اننگز میں سب سے زیادہ چھکوں کے اہم ریکارڈز بھی شامل ہیں۔ گیل بھارت کے علاوہ جس بھی ملک میں لیگ کرکٹ کھیلنے گئے وہاں اپنی کارکردگی کے ذریعے فتوحات کے جھنڈے گاڑے اور اب ان کی نظریں ایک مرتبہ پھر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے اعزاز پر ہیں ۔ جہاں وہ اپنی آزاد منش طبیعت اور اسی آزادانہ انداز سے بلے بازی کرکے ویسٹ انڈیز کو ایک مرتبہ پھر عالمی ٹی ٹوئنٹی چیمپئن بنانا چاہتے ہیں۔

کرس گیل اب تک 37 ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی مقابلوں میں ویسٹ انڈیز کی جانب سے کھیل چکے ہیں اور ایک ہزار سے زیادہ رنز بنانے والے چند کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔ 1096 رنز میں دس نصف سنچریاں اور ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی کی تاریخ کی پہلی سنچری بھی شامل ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کس تواتر کے ساتھ بڑی اننگز کھیلتے ہیں۔ مذکورہ سنچری انہوں نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے اولین ایڈیشن میں میزبان جنوبی افریقہ کے خلاف بنائی تھی جس میں انہوں نے 57 گیندوں پر شاندار 117 رنز داغے تھے۔ علاوہ ازیں وہ 99 ٹیسٹ اور 255 ایک روزہ مقابلوں میں بھی کھیل چکے ہیں اور یہاں بھی اعداد وشمار ان کی شاندار صلاحیتوں کے عکاس ہیں، 42.01 کے اوسط سے 6933 ٹیسٹ رنز، 34 نصف سنچریاں اور 15 سنچریاں اور ایک روزہ میں 37.52 کے اوسط سے 8743 رنز بشمول 45 نصف سنچریاں اور 21 سنچریاں۔

اگر ویسٹ انڈیز اپنے اعزاز کا کامیابی سے دفاع کرنا چاہتا ہے تو ڈیرن سیمی کی قیادت اور مارلون سیموئلز کے آل راؤنڈ کھیل کے ساتھ ساتھ کرس گیل کی دھواں دار بلے بازی کی بھی ضرورت ہوگی اور اگر یہ مثلث اپنا کام دکھاگئی تو دنیا کی کوئی ٹیم ویسٹ انڈیز کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء جیتنے سے نہیں روک سکتی۔

Facebook Comments