[ورلڈ ٹی ٹوئنٹی] نیا آفریدی تاریخ دہرانے کا منتظر

چند ماہ قبل تک شاہد آفریدی کے بارے میں یہ کہا جا رہا تھا کہ وہ قصہ پارینہ بن چکے ہیں اور اب وقت آ چکا ہے کہ پاکستان کسی نوجوان آل راؤنڈر کو آزمائے۔ بات بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ گئی کہ خود شاہد آفریدی کو یہ کہنا پڑا کہ وہ باؤلنگ آل راؤنڈر ہیں، یعنی ان کی بنیادی صلاحیت باؤلنگ ہے، بیٹنگ نہیں۔

لیکن اپنی پہلی ہی بین الاقوامی اننگز میں تیز ترین سنچری کا ریکارڈ توڑنے والے شاہد خان کے بارے میں یہ تصور کرنا کہ ان میں بیٹنگ کی اہلیت نہیں، خود آفریدی بھی قائل نہيں ہو سکے ہوں گے۔ پھر شاید دل کے کسی نہاں خانے میں اپنی بیٹنگ کے بھولے بسرے ایام واپس لانے کی تمنا جاگی اور عین ممکن ہے کہ ایشیا کپ کی حالیہ کارکردگی میں اسی خواہش کا عمل دخل ہوسکتا ہے۔ بہرحال، صرف ایک ٹورنامنٹ نے شاہد آفریدی کے حوالے سے تمام تر نظریے بدل کر رکھ دیے ہیں اور اب انہیں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء کے لیے خطرناک ترین کھلاڑیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

اگر شاہد آفریدی کی بیٹنگ کارکردگی کا تسلسل جاری رہا تو پاکستان 2009ء کی تاریخ دہرانے میں کامیاب ہوسکتا ہے (تصویر: Getty Images)

اگر شاہد آفریدی کی بیٹنگ کارکردگی کا تسلسل جاری رہا تو پاکستان 2009ء کی تاریخ دہرانے میں کامیاب ہوسکتا ہے (تصویر: Getty Images)

بنگلہ دیش کی اسپن گیندبازوں کے لیے مددگار وکٹوں پر شاہد آفریدی باؤلنگ میں کیا جادو دکھائیں گے، یہ تو وقت بتائے گا لیکن بھارت اور بنگلہ دیش کے خلاف بلے کے ذریعے دو فاتحانہ کارکردگیاں دکھانے کے بعد اب بیٹنگ میں ان کا اعتماد نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے اور یہی بات اس مرتبہ پاکستان کے امکانات میں اضافہ کرتی ہے۔

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں سب سے زیادہ اہمیت اسٹرائیک ریٹ کی ہوتی ہے، شاید رن اوسط سے بھی زیادہ، اور اس معاملے میں شاید ہی کوئی کھلاڑی شاہد آفریدی کا مقابلہ کرسکتا ہو، یہاں تک کہ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی اسٹرائیک ریٹ کے معاملے میں کوئی ان کا ثانی نہیں۔ 70 ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں شاہد آفریدی 143 کے اسٹرائیک ریٹ سے 1044 رنز بنا چکے ہیں، جن میں 4 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ جبکہ 22.50 کے شاندار اوسط سے حاصل کردہ 73 وکٹیں ان کی آل راؤنڈ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ شاہد ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے پسندیدہ ترین کھلاڑیوں سے بھی زیادہ کا اسٹرائیک ریٹ رکھتے ہیں حتیٰ کہ برینڈن میک کولم، ڈیوڈ وارنر اور کرس گیل سے بھی زیادہ۔

شاہد آفریدی کے نام ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی کرکٹ کے کئی ریکارڈز بھی ہیں جیسا کہ سب سے زیادہ میچز کھیلنے اور سب سے زیادہ وکٹیں لینے کے ریکارڈز ۔ شاہد آفریدی نے 70 ٹی ٹوئنٹی مقابلے کھیلے ہیں اور کسی کھلاڑی کو اتنے مقابلوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کا موقع نہیں ملا۔ پھر ایک ہزار سے زیادہ رنز بنا کر وہ ایسے کلب میں شامل ہوئے جن میں ان سمیت صرف 13 کھلاڑی موجود ہیں۔ شاہد آفریدی نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں اپنی باؤلنگ کا بھی خوب جادو جگایا ہے اور اب تک 73 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں جو ہم وطن سعید اجمل کی 81 اور عمر گل کی 74 وکٹوں کے بعد ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی سب سے زیادہ وکٹیں ہیں۔

نچلے بلے بازوں میں ایک ایسے آل راؤنڈر کی کمی پاکستان عرصے سے محسوس کررہا تھا جو مقابلے کو اختتام تک پہنچائے اور اب آفریدی کی فارم کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ یہ مسئلہ عارضی طور پر اور بہت ہی اہم موقع پر حل ہوچکا ہے۔ پھر یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ جب آفریدی کا بلّا چلتا ہے، پاکستان کے جیتنے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں اور یہ بات 2009ء کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ثابت ہوچکی ہے جہاں وہ ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے تھے۔

اب آخر میں ملین ڈالرز کا سوال: کیا شاہد آفریدی سرزمین بنگال پر 2009ء کی تاریخ دہرا پائیں گے؟ اس کا جواب نفی یا اثبات میں تو نہیں دیا جا سکتا لیکن اگر وہ ایشیا کپ والی کارکردگی دہرانے میں کامیاب ہوگئے تو اس مرتبہ پاکستان اعزاز کے بہترین امیدواروں میں سے ایک ہوگا۔

Facebook Comments