ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بھارت کے امکانات

سلمان غنی، پٹنہ، بھارت

محض دو روز بعد شروع ہونے والے پانچویں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں اگر کسی ٹیم کی عزت سب سے زیادہ داؤ پر لگی ہوئی ہے تو وہ ہے بھارت کی کرکٹ ٹیم۔ عالمی کپ 2011ء میں کامیابی کے بعد ٹیم انڈیا کی ناکامیوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ بالخصوص بیرون ملک ذلت و ہزیمت کی دراز ہوتی داستانیں بھارتی ٹیم کے پرستاروں کا سر نیچا کررہی ہیں۔ عالمی چیمپئن بننے کے بعد بھارت نے ملک سے باہر 15 ٹیسٹ مقابلے کھیلے، صرف ایک میں کامیابی درج کی، 10 میں شکست کھائی اور 4 بغیر کسی نتیجے تک پہنچے ختم ہوئے۔ وہیں 53 ایک روزہ مقابلوں میں 55 فیصد شرح کامیابی کے ساتھ جیتے اور ہارے گئے مقابلوں کی تعداد بالترتیب 27 اور 21 رہی۔ البتہ بیرون ملک ٹیم انڈیا کی ٹی ٹوئنٹی کارکردگی قدرے بہتر ہے کیونکہ 11 میں سے 7 مقابلوں میں اسے فتح نصیب ہوئی اور صرف 4 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

ٹیم انڈیا کے پاس پرستاروں کا کھویا ہوا اعتماد بحال کرنے کا اس سے بہتر موقع نہیں ہوسکتا (تصویر: AFP)

ٹیم انڈیا کے پاس پرستاروں کا کھویا ہوا اعتماد بحال کرنے کا اس سے بہتر موقع نہیں ہوسکتا (تصویر: AFP)

اگر حالیہ دورۂ نیوزی لینڈ اور ایشیا کپ کو دیکھا جائے تو ٹیم انڈیا سے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بہت زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کی جا سکتیں۔ ان دونوں دوروں کی کارکردگی نے قومی ٹیم کے امکانات پر کاری ضرب لگائی ہے۔ البتہ ٹی ٹوئنٹی انتہائی غیر یقینی فارمیٹ ہے اور اس میں کسی کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں نہیں کہی جا سکتی البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ بنگلہ دیش میں ہونے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں اعزاز کی مضبوط ترین دعوے دار ایشیائی ٹیمیں ہیں۔

برصغیر میں کرکٹ کی جب بھی بات آتی ہے تو سب سے پہلے اسپن گیندبازی کا شعبہ ہمارے سامنے آتا ہے، جس کی اہمیت ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں مزید بڑھ گئی ہے۔ اس طرزکی کرکٹ میں ٹیموں کی فتح و شکست کا دارومدار براہ راست اسپن گیندبازوں کی کارکردگی پر ہوتا ہے اور یہی وہ شعبہ ہے جس میں ایشیائی ٹیموں کو باقی حریفوں پر برتری حاصل ہے۔ وہ بنگلہ دیشی پچوں کے اسرار و رموز سے زیادہ بہتر واقف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان ٹیموں نے کم از کم تین اسپن باؤلرز اپنے اسکواڈ میں شامل کیے ہیں۔

بنگلہ دیش میں ہونے والے حالیہ ایشیا کپ میں اسپن باؤلرز کو اوس کی وجہ سے سخت دشواریاں پیش آئیں۔ انہیں گیند پر پکڑ اور گرفت کا مسئلہ مسلسل پریشان کیے رہا۔ خصوصاً ڈے/نائٹ مقابلوں کے اختتامی لمحات میں فیلڈنگ کرنے والی ٹیم کو اس وجہ سے خاصا نقصان ہوا۔ بھارت نے ایشیا کپ میں سری لنکا اور پاکستان کے خلاف دونوں مقابلے دوسری اننگز میں گیندبازی کرتے ہوئے ہارے تھے۔

اگر بھارت کی اسپن مثلث روی چندر آشون، رویندر جدیجا اور یووراج سنگھ ان مسائل سے بخوبی نمٹ لیتے ہیں تو بھارت کی ناکامیوں کا سلسلہ ختم ہوسکتا ہے۔ حالیہ کچھ عرصے میں آشون کی گیندبازی ناقابل اعتبار رہی ہے اور انہیں سخت تنقید کا نشانہ بھی بننا پڑا ہے اس لیے یہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ان کے لیے سخت چیلنج ہے اور ہوسکتا ہے کہ ان کے لیے مستقبل کے لیے فیصلہ کن کردار بھی ادا کرے۔ دوسری جانب رویندر جدیجا ایک ایسے کھلاڑی ہیں جو ہر مقابلے سے کچھ نہ کچھ سیکھنے کا فن جانتے ہیں۔ بھارت کو دوسرا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی اعزاز دلانے میں ان کا کردار اہم ہوسکتا ہے۔ وہیں یووراج سنگھ کپتان مہندر سنگھ دھونی کے پسندیدہ کھلاڑی ہیں اور وہ ان کا بخوبی استعمال بھی کرتے ہیں۔ ان تینوں گیندبازوں میں وہ صلاحیت ہے جو کرس گیل، برینڈن میک کولم اور شین واٹسن جیسے جارح مزاج بلے بازوں کو لگام دے سکتی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ بھارت نے حالیہ ایشیا کپ سے کیا سبق سیکھا ہے اور پاکستان و سری لنکا کے ہاتھوں شکست کے دوران اسے جن مسائل سے دوچار ہونا پڑا، ان سے وہ کس طرح نمٹتا ہے۔

Facebook Comments