[ورلڈ ٹی ٹوئنٹی] بھارت کا انحصار ویراٹ کوہلی پر

ہندوستانی کرکٹ کی ایک عظیم روایت ہے جو نسلوں سے چلی آ رہی ہے کہ وہ دنیائے کرکٹ کو اپنے وقت کے عظیم ترین بلے باز پیش کرتی ہے۔ وجے ہزارے سے لے کر سنیل گاوسکر تک اور سچن تنڈولکر سے لے کر راہول ڈریوڈ تک، بلے بازوں کی ایک طویل فہرست ہے جس نے اپنے زمانے میں دنیا بھر کے گیندبازوں کو خوف میں مبتلا کیے رکھا ہے۔ اب اس روایت کے امین ہیں ویراٹ کوہلی!

ویراٹ کوہلی 21 مارچ کو پاکستان کے خلاف ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء کی کارکردگی دہرانے کے خواہاں ہوں گے (تصویر: ICC)

ویراٹ کوہلی 21 مارچ کو پاکستان کے خلاف ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء کی کارکردگی دہرانے کے خواہاں ہوں گے (تصویر: ICC)

جذباتی، منہ پھٹ اور تندخو لیکن بلا کے شاطر ویراٹ بھارت کی موجودہ بیٹنگ لائن اپ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء میں بھارت کی فتح کے جتنے بھی امکانات ہیں ان کاآدھا انحصار اسی نوجوان بلے باز پر ہے۔

ہر طرز کی کرکٹ کے مزاج میں ڈھل جانے والے ویراٹ 21 ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی مقابلے کھیل چکے ہيں اور 130 کے شاندار اسٹرائیک ریٹ سے اب تک 587 رنز بنا چکے ہیں۔ ان کا ٹی ٹوئنٹی اوسط 34.52، جو کئی بلے بازوں کے ٹیسٹ اور ون ڈے اوسط سے بھی زیادہ ہے۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اب دنیائے کرکٹ پر ویراٹ کوہلی کا راج ہے اور اپنے پیشرو سچن تنڈولکر کے مقابلے میں کوہلی کی کارکردگی بھارت کی فتح کی ضامن بھی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ بنگلہ دیش کے انہی میدانوں میں فیصلہ کن عنصر ثابت ہوں گے جہاں چند دن قبل بھارت روایتی حریف پاکستان اور سری لنکا کے ہاتھوں شکست کھا کر ایشیا کپ سے باہر ہوگیا تھا؟ بہرحال، کوہلی 21 مارچ کو پاکستان کے خلاف مقابلے میں 2012ء کی تاریخ دہرانے کے لیے تیار ہیں، جہاں ان کی 78 رنز کی ناقابل شکست اننگز نے بھارت کو کامیابی دلائی تھی۔

Facebook Comments