[ورلڈ ٹی ٹوئنٹی] لاستھ مالنگا، بلے بازوں کے لیے خطرے کی گھنٹی

مختصر طرز کی کرکٹ میں جب مقابلہ سنسنی خیز مراحل میں داخل ہوجائے تو جتنی اہمیت یارکر گیندیں پھینکنے کی ہے، اتنی کسی کی نہیں اور یہ کام اس وقت دنیائے کرکٹ میں لاستھ مالنگا سے بہتر کون کرسکتا ہے؟ بھرپور رفتار اور گیند کو درست ترین مقام پر پھینکنے کی صلاحیت کے حامل لاستھ مالنگا اس وقت ایسی ٹیم کی باؤلنگ کا مرکزی ستون بنے ہوئے ہیں جو فتوحات کے لیے زیادہ تر انحصار اپنے بلے بازوں اور اسپن گیند بازوں پر کرتی ہے۔

لاستھ مالنگا کی زنبیل میں ہر وہ مہلک ہتھیار ہے جو کسی بھی تیز باؤلر کے پاس ہونا چاہیے (تصویر: AFP)

لاستھ مالنگا کی زنبیل میں ہر وہ مہلک ہتھیار ہے جو کسی بھی تیز باؤلر کے پاس ہونا چاہیے (تصویر: AFP)

غیر روایتی باؤلنگ ایکشن، اور ہیئر اسٹائل، رکھنے والے لاستھ مالنگا کی زنبیل میں ہر وہ "مہلک" ہتھیار ہے جو دور جدید کے کسی بھی تیز باؤلر کے پاس ہونا چاہیے۔ جڑ میں پڑنے والی یارکر سے لے کر سنسناتے ہوئے چہرے کے قریب سے گزرنے والی باؤنسر تک، بلے بازوں کو امتحان میں ڈالنے والی ہر گیند مالنگا کے اسلحہ خانے میں موجود ہے اور وہ اس کا برمحل استعمال کرنا بھی خوب جانتے ہیں۔ ایشیا کپ کے حالیہ مقابلے جو بلے بازوں کے لیے انتہائی سازگار وکٹوں پر کھیلے گئے، مالنگا نے بہترین گیندبازی کی، بالخصوص فائنل میں ان کی 5 وکٹوں کی کارکردگی نے ہی سری لنکا کے ایشین چیمپئن بننے کی راہ ہموار کی۔

مجموعی طور پر اب تک 50 ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی مقابلے کھیلنے والے لاستھ مالنگا 21.61 کے شاندار اوسط کے ساتھ 60 وکٹیں لے چکے ہیں جس میں 31 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کرنے کی بہترین کارکردگی بھی شامل ہے اور وہ اس تسلسل کو ہرگز نہیں توڑنا چاہیں گے۔ ان کی خواہش ہوگی کہ انگلستان، جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ جیسے سخت حریفوں کے خلاف اپنے اسپنرز کا بھرپور ساتھ دیں۔

مالنگا بڑے ٹورنامنٹس کے کھلاڑی ہیں اور عالمی کپ 2007ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف چار گیندوں پر چار وکٹیں کسے یاد نہ ہوں گی؟ جبکہ ان کی بہترین ٹی ٹوئنٹی باؤلنگ بھی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء جیسے ٹورنامنٹ میں انگلستان کے خلاف اہم مقابلے میں تھی۔ سری لنکا ان کی باؤلنگ اور دیگر کھلاڑیوں کی کارکردگی کی بدولت مسلسل دو ایک روزہ عالمی کپ اور دو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی فائنل مقابلوں تک پہنچا۔ بدقسمتی سے سری لنکا یہ تمام مقابلے نہ جیت سکا لیکن اس مرتبہ وہ اس تسلسل کو توڑنا چاہے گا اور اس کا آغاز انہوں نے ایشیا کپ کے فائنل میں جیت کر کر بھی دیا ہے جس کے بعد وطن واپسی پر ٹیم کا شاندار استقبال بھی ہوا ہے۔

اس وقت سری لنکا ٹی ٹوئنٹی کی عالمی درجہ بندی میں سرفہرست ہے اور ایشیائی چیمپئن بننے کے بعد کھلاڑیوں کے حوصلے بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ ایشیا کپ میں ٹیم پورے ٹورنامنٹ میں ناقابل شکست رہی اور بھارت اور پاکستان جیسے سخت حریفوں کو زیر کیا اور اب ایک مرتبہ پھر انہی میدانوں پر ورلڈ چیمپئن بننے کی دوڑ شروع کرے گی۔ گزشتہ کئی ہفتے بنگلہ دیش میں کھیلنے اور فتوحات سمیٹنے کے بعد سری لنکا بلاشبہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتنے کے بہترین امیدواروں میں سے ایک ہے اور اس خواب کی تعبیر کے لیے لاستھ مالنگا کا کردار بہت اہم ہوگا۔

Facebook Comments