بنگلہ دیش نے بدلہ لے لیا، افغانستان کو بدترین شکست

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے پہلے روز جو بات بنگلہ دیش کے کپتان مشفق الرحیم اور ان کی ٹیم کے تمام اراکین کے ذہن میں گھوم رہی تھی، وہ حالیہ ایشیا کپ میں افغانستان کے خلاف ہاتھوں اپ سیٹ شکست کا ازالہ تھا اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے افتتاحی مقابلے میں ہی بنگلہ دیش نے اس کا پورا پورا بدلہ چکا بھی دیا۔ میرپور، ڈھاکہ میں کھیلے گئے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء کے پہلے مقابلے میں بنگلہ دیش نے ہر شعبے میں افغانستان کو چت کرتے ہوئے 9 وکٹوں سے فتح حاصل کرلی۔

میچ کی پہلی گیند پر محمد شہزاد کی وکٹ اور آخری گیند پر انعام الحق کا چھکا، آج سب کچھ بنگلہ دیش کے حق میں ہوا (تصویر: ICC)

میچ کی پہلی گیند پر محمد شہزاد کی وکٹ اور آخری گیند پر انعام الحق کا چھکا، آج سب کچھ بنگلہ دیش کے حق میں ہوا (تصویر: ICC)

افغانستان آج بالکل مختلف روپ میں نظر آیا، اس میں ایشیا کپ میں بڑی ٹیموں کو ناکوں چنے چبوانے والی کوئی صلاحیت نہیں دکھائی دی اور ابتدائی دھچکے لگنے کے بعد ہی اس نے گویا ہتھیار ڈال دیے۔ بنگلہ دیش نے اسپنرز کے لیے مددگار وکٹ پر بھرپور قوت استعمال کی اور ابتداء ہی سے مقابلے پر حاوی آ گیا۔ پہلے ٹاس جیتا اور اس کے بعد پہلی ہی گیند پر محمد شہزاد کی قیمتی وکٹ حاصل کیں اور جب جیسے ہی افغان اننگز سنبھلنے لگی، اسپنرز کو گیند تھما دی جن کے ہر گزرتے اوور کے ساتھ مقابلہ بنگلہ دیش کے حق میں جھکتا چلا گیا۔

بنگلہ دیش کی جانب سے خاص طور پر شکیب الحسن نے بہت عمدہ باؤلنگ کی۔ جب صرف ایک وکٹ کے نقصان پر افغانستان 36 رنز پر موجود تھا تو ان کی مسلسل دو گیندوں پر دو وکٹوں نے مہمان بلے بازوں کو ایسا پیچھے پر دھکیلا کہ وہ پھر ابھر کر سامنے نہ آ سکے۔ شکیب نے دو مسلسل گیندوں پر گلبدین نائب اور نجیب ترہ کئی کو ٹھکانے لگایا۔ اس عالم میں کہ ایک گیند قبل گلبدین کا ایک آسان کیچ چھوڑا جا چکا تھا۔ 3 چوکوں اور ایک چھکے کےساتھ بلے بازی کے لیے مکمل موڈ میں نظر آنے والے گلبدین نے شکیب کے دوسرے اوور کی پہلی گیند کو لانگ آن کی جانب اچھالا جہاں صابر رحمٰن نے ایک آسان موقع ضایع کیا۔ ابھی اس موقع کو ضایع کرنے کا صدمہ باقی تھا کہ گلبدین نے میزبان کھلاڑیوں کے غم کا ازالہ کردیا۔ انہوں نے اگلی گیند کو دوبارہ اسی فیلڈر کے ہاتھوں میں پہنچا دیا جنہوں نے اس مرتبہ کوئی غلطی نہ کی۔ اس کے بعد اگلی ہی نجیب بھی پویلین سدھار گئے۔ رہی سہی کسر اگلے یعنی ساتویں اوور کی پہلی گیند پر نوروز منگل کے رن آؤٹ نے پوری کردی اور یوں افغان اننگز پٹری سے اتر گئی۔ 18 ویں اوور کی پہلی گیند پر شاہپور زدران کے ساتھ ہی پوری ٹیم 72 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ گلبدین کے 21 رنز سب سے نمایاں رہے جبکہ کریم صادق اور شفیق اللہ ہی دہرے ہندسے میں داخل ہو پائے۔

شکیب الحسن نے سب سے زیادہ تین وکٹیں حاصل کیں جبکہ دو وکٹیں ساتھی اسپنر عبد الرزاق کوملیں اور ایک، ایک کھلاڑی کو مشرفی مرتضیٰ اور فرہاد رضا نے آؤٹ کیا۔

صرف 73 رنز کا ہدف بنگلہ دیش کے لیے دنیا کا آسان ترین کام تھا اور اس تمیم اقبال اور انعام الحق کے درمیان 45 رنز کی افتتاحی شراکت داری نے اسے مزید آسان بنا دیا۔ انعام الحق نے ایشیا کپ کی شاندار فارم کا سلسلہ یہاں بھی برقرار رکھا اور محض 33 گیندوں پر تین چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے 44 رنز جوڑے اور 12 ویں اوور کی آخری گیند کو چھکے کی راہ دکھا کر بنگلہ دیش کی فتح پر مہر ثبت کردی۔

کوالیفائرز کے سلسلے میں یہ بنگلہ دیش کے لیے سب سے اہم مقابلہ تھا کیونکہ اس کے علاوہ اسے نیپال اور ہانگ کانگ جیسے مزید کمزور حریفوں کا مقابلہ کرنا ہوگا جن کے خلاف ایک فتح بھی اس کے لیے کافی ہوگای اب قوی امید ہے کہ بنگلہ دیش سپر 10 مرحلے کے لیے کوالیفائی کرے گا جہاں اس کا سامنا گروپ '2' میں پاکستان، بھارت، آسٹریلیا اور دفاعی چیمپئن ویسٹ انڈیز جیسے مضبوط حریفوں سے ہوگا۔

Facebook Comments