تجربہ کار کھلاڑیوں کی بدولت پاکستان وارم اپ مقابلہ جیت گیا

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے آغاز سے قبل لہو گرمانے کے واسطے کھیلے گئے مقابلے میں پاکستان نے باؤلنگ اور بیٹنگ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کو 6 وکٹوں سے شکست دے دی۔

عمر گل نے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے تین قیمتی وکٹیں حاصل کیں (تصویر: AP)

عمر گل نے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے تین قیمتی وکٹیں حاصل کیں (تصویر: AP)

پاکستان کی کارکردگی میں مرکزی کردار تجربہ کار کھلاڑیوں کا رہا، جن میں پہلے باؤلنگ میں عمر گل نے اپنا کمال دکھایا تو بلے بازی میں کامران اکمل اور محمد حفیظ نے اپنا کردار ادا کیا۔ اس فتح کے ساتھ ہی پاکستان نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں اپنی کارکردگی کی جھلک پیش کردی ہے۔

میرپور، ڈھاکہ میں ہونے والے وارم اپ مقابلے میں نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو سوائے کپتان برینڈن میک کولم کے، کوئی بلے باز پاکستانی باؤلرز کے سامنے نہ ٹھہر پایا۔ سب سے پہلے محمد طلحہ نے دونوں اوپنرز کین ولیم سن اور مارٹن گپٹل کو میدان بدر کیا اور اس کے بعد جب دو تجربہ کار بلے بازوں برینڈن اور روز ٹیلر کی موجودگی میں نیوزی لینڈ نویں اوور میں 61 رنز کو پہنچ گیا تو آنے والے بلے بازوں کی طویل فہرست اور آدھے سے زیادہ اوورز کی موجودگی کو دیکھتے ہوئے اندازہ تھا کہ نیوزی لینڈ ایک بڑا مجموعہ اکٹھا کرے گا لیکن روز ٹیلر کے ذوالفقار بابر کے ہاتھوں آؤٹ ہونے اور اس کے بعد عمر کی گیندوں پر کوری اینڈرسن، لیوک رونکی اور ٹم ساؤتھی وکٹیں بکھرنے سے معاملہ بلیک کیپس کے ہاتھوں سے نکل گیا۔ گپٹل کے بعد صرف کولن منرو ہی دہرے ہندسے میں پہنچ سکے جبکہ برینڈن میک کولم 45 گیندوں پر 59 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔

پاکستان کی جانب سے عمر گل سب سے کامیاب باؤلر رہے، انہوں نے اپنے 4 اوورز میں صرف 16 رنز دیے اور 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ محمد طلحہ نے تین اوورز میں 22 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں۔ ان کے علاوہ پاکستان کے آزمائے گئے ہر باؤلر وکٹ تو ضرور ملی لیکن سہیل تنویر متاثر کن نہیں دکھائی دیے جن کے 4 اوورز میں 43 رنز پڑے۔ ذوالفقار بابر نے تین اوورز میں 26، بلاول بھٹی نے دو اوورز میں 15 اور سعید اجمل نے 4 اوورز میں محض 18 رنز دے کر ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

پاکستان کی جانب سے کامران اکمل اور شرجیل خان نے اننگز کا بہترین آغاز کیا اور دوسرے اوور میں کامران اکمل نے مچل میک کلیناگھن کو ایک ہی اوور میں تین چوکے رسید کرکے اپنی آمد کا اعلان کیا تو دوسرے اینڈ سے شرجیل خان نے ٹم ساؤتھی کو مسلسل دو گیندوں پر دو چوکے لگا کر اننگز کو پر لگا دیے۔ لیکن شرجیل اپنی اننگز کو اڑانے سے پہلے ہی دھر لیے گئے۔ رونی ہیرا کی گیند کو آگے بڑھ کر چھکے کے لیے روانہ کرنے کی کوشش میں وہ مڈ وکٹ پر ٹم ساؤتھی کو کیچ دے گئے۔ اس وقت پاکستان کا اسکور 38 رنز تھا اور کپتان محمد حفیظ میدان میں آئے۔ دونوں نے صرف 63 گیندوں پر 83 رنز کا اضافہ کرکے پاکستان کو بالادست مقام تک پہنچا دیا۔ محمد حفیظ کی اننگز کی بہترین جھلک رونی ہیرا کو مسلسل تین گیندوں پر دو چھکے اور ایک چوکا لگانا تھی۔ کامران اکمل 45 گیندوں پر 52رنز بنانے کے بعد عمر اکمل کو بیٹنگ کا موقع دینے کے لیے میدان سے واپس آ گئے۔ ان کی آمد کے کچھ ہی دیر بعد محمد حفیظ آؤٹ ہوگئے۔ 39 گیندوں پر 5 چھکوں اور تین چوکوں سے مزین 55 رنز کی اننگز تمام ہوئی تو پاکستان کو آخری 4 اوورز میں صرف 22 رنز کی ضرورت تھی لیکن اگلے دو اوورز میں صرف پانچ رنز کا اضافہ اور عمر اکمل کا آؤٹ ہونا پاکستان کو کچھ پریشانی میں مبتلا کرگیا البتہ صہیب مقصود نے آخری اوور کی چوتھی اور پانچویں گیند کو چوکے کے لیے روانہ کرکے مقابلے کا فیصلہ کردیا۔

پاکستان کے کھلاڑی گو کہ فیلڈنگ میں آج کچھ ڈھیلے نظر آئے لیکن باؤلرز نے اپنا بھرپور کردار نبھایا جبکہ بیٹنگ میں کامران اکمل نے ثابت کیا کہ ان میں اب بھی پرانا دم خم باقی ہے جبکہ محمد حفیظ نے بھی قائدانہ باری کھیلی۔ دوسری جانب نیوزی لینڈ، جو ایک مرتبہ پھر عالمی ٹورنامنٹ میں چھپے رستم کی حیثیت سے شریک ہو رہا ہے، کے لیے یہ شکست مایوس کن ضرور ہوگی لیکن ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے آغاز سے قبل اپنی غلطیوں کو سدھارنے کے لیے بہترین سبق بھی رہی۔

پاکستان 19 مارچ کو جنوبی افریقہ کے خلاف اپنا دوسرا وارم اپ مقابلہ کھیلے گا۔

Facebook Comments