ہانگ کانگ کی بنگلہ دیش کے خلاف تاریخی کامیابی، ایک یادگار مقابلہ

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا پہلا مرحلے جیسے جیسے اپنے آخری مراحل میں داخل ہوتا جا رہا ہے، ایک سے بڑھ کر ایک دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے جیسا کہ جمعرات کو ہونے والے دونوں مقابلے جن میں توقعات کے برخلاف نیپال نے افغانستان اور ہانگ کانگ نے بنگلہ دیش کو شکست دے دی۔ لیکن یہ اپ سیٹ فتوحات بھی بنگلہ دیش کو اگلے مرحلے یعنی سپر 10 تک رسائی سے نہ روک سکیں جو بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر نیپال کو پیچھے چھوڑتا ہوا 'سپر 10' تک پہنچ گیا ہے۔

ہانگ کانگ نے آخری اوور میں چھکے کے ذریعے فتح حاصل کی (تصویر: ICC)

ہانگ کانگ نے آخری اوور میں چھکے کے ذریعے فتح حاصل کی (تصویر: ICC)

بنگلہ دیش اور ہانگ کانگ کے درمیان مقابلہ میزبان کے علاوہ نیپال کے لیے بھی بہت اہم تھا کیونکہ اس کی اگلے مرحلے تک رسائی کے لیے ضروری تھا کہ ہانگ کانگ واضح مارجن سے بنگلہ دیش کو شکست دے اور ہانگ کانگ نے بنگلہ دیش کو 108 رنز پر ٹھکانے لگا کر اس کی امیدوں کو روشن بھی کردیا۔ لیکن 13.1 اوورز میں 109 رنز کا ہدف حاصل کرنا ہانگ کانگ کے بلے بازوں کے بس کی بات نہ تھی۔ وہ آخری اوور میں ہدف تک ضرور پہنچے اور بین الاقوامی کرکٹ میں پہلی فتح سمیٹی لیکن نیپال کو اگلے مرحلے تک نہ پہنچانے کی بھاری ذمہ داری نہ نبھا سکے۔

109 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ہانگ کانگ بہت مضبوط پوزیشن پر تھا جب 44 رنز تک اس کا محض ایک کھلاڑی آؤٹ تھا لیکن شکیب الحسن کے ایک اوور نے مقابلے کا نقشہ ہی پلٹ دیا۔ انہوں نے اننگز کا آٹھواں اوور پھینکتے ہوئے عرفان احمد اور کپتان جیمی آٹکنسن کو آؤٹ کیا۔ عرفان 28 گیندوں پر 34 رنز کے ساتھ بہترین بلے بازی کررہے تھے اور ان کا آؤٹ ہونا 79 گیندوں پر ہدف کے حصول کے امکانات کا خاتمہ کرگیا۔ اس کے بعد ہانگ کانگ کے لیے حالات اس قدر بگڑ گئے کہ نویں اوور کی پہلی گیند پر مارک چیپمین کے آؤٹ ہونے کے ساتھ آدھی ٹیم میدان سے لوٹ چکی تھی۔ ہانگ کانگ صرف 6 رنز کے اضافے پر 4 وکٹوں سے محروم ہوا اور چٹاگانگ میں تماشائیوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔

اس مرحلے پر اننگز سنبھالی منیر ڈار نے، جنہوں نے نزاکت خان اور تنویر افضل کے ساتھ مل کر اسکور کو 100 تک پہنچا دیا۔ منیر 27 گیندوں پر 36 قیمتی رنز بنانے کے بعد عبد الرزاق کی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار پائے۔ جانے سے پہلے انہوں نے فرہاد رضا کے ایک اوور میں دو چوکے اور ایک چھکا لگا کر ہانگ کانگ کے لیے معاملہ بالکل آسان کردیا تھا۔ جب آخری اوور میں ہانگ کانگ کو چھ رنز کی ضرورت تھی تو حسیب امجد اور ندیم احمد نے محنت پر پانی پھر جانے سے روکا اور چوتھی گیند پر جب صرف ایک رن کی ضرورت تھی تو حسیب امجد نے گیند کو ایکسٹرا کور باؤنڈری سےباہر چھکے کے لیے روانہ کرکے ہانگ کانگ کی فتح پر مہر ثبت کردی۔

بنگلہ دیش نے ہانگ کانگ کو 13 اوورز میں ہدف تک پہنچنے سے روکنے کے لیے اپنے تجربہ کار و اہم باؤلرز شروع ہی میں استعمال کرلیے جن میں سے شکیب سب سے نمایاں رہے جنہوں نے 4 اوورز میں صرف 9 رنز دے کر 3 کھلاڑی آؤٹ کیے جبکہ دو وکٹیں محمود اللہ کے ہاتھ لگیں جن کے 4 اوورز میں صرف 13 رنز بنے۔ بقیہ باؤلرز ہانگ کانگ کی طوفانی بیٹنگ کے ہتھے چڑھے۔ الامین حسین کو 4 اوورز میں 26 اور فرہاد رضا کو دو اوورز میں 23 رنز پڑے۔

قبل ازیں ہانگ کانگ نے اپنی بہترین باؤلنگ اور کسی حد تک حریف کی ناقص بیٹنگ کی بدولت بنگلہ دیش کو صرف 108 رنز پر ڈھیر کردیا۔ یہ بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی تاریخ میں بنگلہ دیش کا دوسرا کم ترین اسکور تھا۔ درحقیقت، ہانگ کانگ اسی وقت مقابلے پر غالب آ گیا تھا جب تنویر افضل کے پہلے اوور میں تمیم اقبال اور صابر رحمٰن آؤٹ ہوئے تھے۔ ان فارم انعام الحق اور تجربہ کار شکیب الحسن نے ابتدائی دھچکے سے نکلنے کی کوشش کی لیکن انعام کی حد سے زیادہ خوداعتمادی انہیں لے ڈوبی۔ ندیم احمد کو مسلسل تین گیندوں پر چوکا رسید کرنے کے بعد وہ چوتھی گیند پر بھی باؤنڈری لینے کے لیے گئے اور بکھری ہوئی وکٹیں چھوڑ گئے۔

شکیب الحسن اور مشفق الرحیم کی تجربہ کار جوڑی کا فرض تھا کہ وہ ایک قابل ذکر مجموعے تک رسائی کے لیے وہ آخری اوورز تک کریز پر قیام کرے۔ لیکن وہ دونوں صرف آدھے اوورز کے پڑاؤ تک ہی ٹھہر پائے۔ گیارہویں اوور میں شکیب اور بارہویں میں مشفق اپنی اپنی وکٹیں دے کر چلتے بنے۔ 27 گیندوں پر 34 رنز بنانے والے شکیب نے وہی غلطی کی جو اس موقع پر ہرگز نہیں کرنی چاہیے تھی، گیند کو میدان سے باہر پھینکنے کی جلدی اور نتیجہ ڈیپ مڈ وکٹ پر کیچ۔ مشفق الرحیم اسی اوور کی آخری گیند پر وکٹ کیپر کی نااہلی کی وجہ سے بچ گئے لیکن اگلے اوور میں ایک بہت باہر جاتی ہوئی گیند کو چھیڑنے کی پاداش میں کیچ آؤٹ ہوئے۔ رہی سہی کسر اگلے دو اوورز میں محموداللہ، فرہاد رضا اور عبد الرزاق کے آؤٹ ہونے سے پوری ہوگئی۔ اننگز کے سترہویں اوور میں ندیم احمد کے ہاتھوں بنگلہ دیشی اننگز کا خاتمہ ہوگیا۔ یعنی بنگلہ دیش ہانگ کانگ جیسے کمزور حریف کے خلاف تمام 20 اوورز بھی نہ کھیل پایا۔

ہانگ کانگ کی جانب سے ندیم احمد نے 21 رنز دے کر 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور اسی کارکردگی پر میچ کے بہترین کھلاڑی بھی قرار پائے۔ ان کے علاوہ نزاکت خان نے 19 رنز کے بدلے تین بنگلہ دیشی بلے بازوں کو ٹھکانے لگایا۔ دو وکٹیں تنویر افضل اور ایک عرفان احمد کو ملی۔

اس شکست کے باوجود بنگلہ دیش سپر 10 مرحلے کے لیے کوالیفائی کرگیا ہے جہاں وہ گروپ 2 میں دفاعی چیمپئن ویسٹ انڈیز، پاکستان، بھارت اور آسٹریلیا جیسے سخت حریفوں کا سامنا کرے گا۔ میزبان بنگلہ دیش کی آمد سے یہ گروپ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء کا 'گروپ آف ڈیتھ' بن چکا ہے۔

Facebook Comments