[ورلڈ ٹی ٹوئنٹی] کون بنے گا چیمپئن؟

ٹی 20 کا سب سے بڑا میلہ چند روز قبل بنگلہ دیش میں شروع ہوا، اور ٹورنامنٹ میں اب تک سپر10 مرحلے کے کوالیفائنگ مقابلے مکمل ہوچکے ہیں لیکن پھر بھی ہم کہہ سکتے ہیں آج 'مہا یدھ' کے آغاز کےساتھ ہی اصلی ایکشن کا آغاز ہوگا۔

سری لنکا کا قائد نوجوان ہے، مستقل پر نظر رکھنے والا اور فطرتاً جارح مزاج ہے جو شکست سے بچنے کے لیے نہیں بلکہ جیت کے کھیلتا ہے (تصویر: AFP)

سری لنکا کا قائد نوجوان ہے، مستقل پر نظر رکھنے والا اور فطرتاً جارح مزاج ہے جو شکست سے بچنے کے لیے نہیں بلکہ جیت کے کھیلتا ہے (تصویر: AFP)

روایتی حریف پاکستان اور بھارت ایک دوسرے سے ٹکرانے جا رہے ہیں اور شائقین کے لیے اعصاب شکن مرحلے کا آغاز ہوگا۔ یہاں میں واضح کرنا چاہوں گا کہ اس تحریر کا عنوان پاک بھارت مقابلہ نہیں، لیکن میں یہ دل کے بہلانے کو یہ ضرور کہوں گا کہ گو کہ پاکستان آئی سی سی کے ٹورنامنٹس میں کبھی بھارت کو نہیں ہرا پایا لیکن وہ کبھی بھی جمعے کے دن بھارت سے نہیں ہارا۔

اس تحریر کی اننگز کا آغاز ہم اس سوال کے ساتھ کریں گے کہ "آخر بنگلہ دیش میں جاری ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کون جیتے گا؟" چلو جی قصہ مختصر، سری لنکا! گو کہ مجھے بہت خوشی ہوگی اگر پاکستان یہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتے۔ لیکن میں سری لنکا کے بارے میں کیوں کہہ رہا ہوں؟ کیا ایشیا کپ کی حالیہ فتح کی وجہ سے؟ جی ہاں، کسی حد تک۔

ایشیا کپ کا نتیجہ 'لٹمس ٹیسٹ' تھا لیکن یہ واحد پیمانہ نہیں ہے کیونکہ ایشیا کپ میں حصہ لینے والی ٹیموںمیں تبدیلیاں آ چکی ہیں جیسا کہ اس مہم میں بھارت کی قیادت مہندر سنگھ دھونی کررہے ہیں اور وہ اہم ترین عنصر ہوں گے۔

ٹی20 کرکٹ کے بارے میں یہ غلط فہمی ہمیشہ موجود رہی ہے کہ یہ بلے بازوں کا کھیل ہے۔ اس کی وجہ تیزی سے رنز بنانے کی وہ ضرورت ہے جس کے لیے بیٹسمین گیندبازوں پر پل پڑتے ہیں اور ان کی ناقص لائن و لینتھ کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ریکارڈز شاہد ہیں کہ اس صورتحال میں بھی جو باؤلر اپنی لائن و لینتھ برقرار رکھتے ہیں وہ کامیابیاں سمیٹتے ہیں، عمر گل اور لاستھ مالنگا کی 5 سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کی کارکردگی یاد ہے نا؟

درحقیقت یہ عالمی کپ جیتنے کے لیے بیٹنگ لائن اہم ترین اور کلیدی عنصر ہے، اور بھارت اور ان فارم آسٹریلیا جیسی ٹیمیں حریفوں کو سخت نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ لیکن اس معاملے میں فطرت کا بھی عمل دخل ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ کرکٹ ایسا کھیل ہے جسے موسم اور کھیلنے کی کنڈیشنز سے کافی اثر پڑتا ہے، اور دیگر کھیلوں کے مقابلے میں یہ زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

بنگلہ دیش میں جس طرح کی وکٹیں اور ماحول ہوتا ہے وہ بلاشبہ گیندبازوں سے زیادہ بلے بازوں کے لیے مددگار ثابت ہورہا ہے۔ ہم ایشیا کپ میں جھلک دیکھ چکے ہیں جہاں گیندباز مکمل طور پر لاچار اور بے یار ومددگار نظر آئے۔

اس لیے ایسی کنڈيشنز میں ہوتے ہوئے بالخصوص ٹی 20 کرکٹ میں یہ باؤلنگ کرنے والی ٹیم کی ذمہ داری ہے کہ وہ توازن کو برقرار رکھے کیونکہ بیٹسمین حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے رنز بٹوریں گے۔

لاہور کے مقامی حلقوں میں ایک اصطلاح مشہور ہے جو ایک خاص قسم کی باؤلنگ کے لیے استعمال کی جاتی ہے "کیچی میچی باؤلنگ"، یقین کیجیے ہتھیلی میں اخروٹ توڑنا اس اصطلاح کے ترجمے سے زیادہ آسان کام ہے لیکن اس کا قریبی ترین ترجمہ "عجیب باؤلنگ" کیا جا سکتا ہے۔ ٹیم مقابلہ جیتنے کے لیے زیادہ عجیب اور انوکھے باؤلرز لاتی ہے تاکہ بلے بازوں کو فریب دیں اور رنز روکیں۔ یہ گیندبازی باؤلنگ کے خاص طریقوں سے کچھ مختلف ہے، جیسا کہ عام تیز باؤلر، میڈیم فاسٹ باؤلر یا اسپنر (لیگ، یا آف) سے۔ یہ کیچی میچی باؤلنگ گیندبازی دراصل ان ورائٹیز کا ملاپ یا ایک باؤلر میں ان میں سے بیشتر کی موجودگی ہے، یعنی کہ ایسا باؤلر جو دوڑنے کے باوجود اچھی فلائٹ کے ساتھ اسپن گیند پھینکے، یا اسی باؤلنگ ایکشن کے ساتھ لیگ اور آف دونوں طرح کی اسپن گیند تسلسل کے ساتھ پھینک سکے۔

اگر سری لنکا کو دیکھیں تو ان کے پاس ایک دو نہیں بلکہ ان کے ترکش میں ایسے متعدد باؤلرز ہیں۔ سری لنکا کی بیٹنگ بھی زبردست لچک رکھتی ہے اور وکٹیں گرنے کے باوجود رن اوسط کو برقرار رکھنے کے لیے مشہور ہے۔ ان سب سے بڑھ کر سری لنکا کا قائد نوجوان ہے، جس کی نظریں آگے کی طرف ہیں اور وہ فطرتاً جارح مزاج ہے جو شکست سے بچنے کے لیے نہیں بلکہ جیت کے لیے کھیلتا ہے۔ مزید برآں، وہ جانتا ہے کہ اپنے باؤلرز کو کب اور کیسے استعمال کیا جائے۔ گزشتہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد سے اب تک کا ریکارڈ بھی ظاہر کرتا ہے کہ سری لنکا کی ٹیم کتنی مستقل مزاج ہے۔

تو میرے خیال میں بیٹنگ، باؤلنگ، گزشتہ ریکارڈ، کنڈیشنز اور کپتان کو مدنظر رکھا جائے تو ٹورنامنٹ کے لیے فیورٹ ترین امیدوار سری لنکا ہے۔ آخر میں اس مہم میں پاکستان کے لیے نیک خواہشات۔

Facebook Comments