پاکستان نفسیاتی دباؤ کا شکار ہے، کھلاڑیوں کو تناؤ سے نکالنے کی ضرورت ہے: ماہر نفسیات

پاکستان نے بھارت کے خلاف ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے اہم مقابلے میں شکست کھا کر روایت کو برقرار رکھا اور اس ہار پر پرستاروں کا سخت ردعمل سوشل میڈیا پر ظاہر ہے جن میں سے بیشتر کا یہ سمجھنا ہے کہ پاکستان کے کھلاڑیوں کے اعصاب جواب دے گئے تھے ۔ اس حوالے سے کرک نامہ نے کراچی کے مشہور جناح ہسپتال کے شعبہ نفسیات کے سربراہ ڈاکٹر اقبال آفریدی سے رابطہ کیا جن کا کہنا تھا کہ ٹیم پاکستان بھارت کے خلاف مکمل نفسیاتی دباؤ کا شکار نظر آئی ۔

حفیظ خود کو باور کرائے کہ وہ ورلڈ کلاس ٹیم کا کپتان ہے اور اس کے تمام کھلاڑی چیمپئن ہیں: ڈاکٹر اقبال آفریدی (تصویر: فائل فوٹو)

حفیظ خود کو باور کرائے کہ وہ ورلڈ کلاس ٹیم کا کپتان ہے اور اس کے تمام کھلاڑی چیمپئن ہیں: ڈاکٹر اقبال آفریدی (تصویر: فائل فوٹو)

معروف ماہر نفسیات نے کہا کہ یہ محسوس ہی نہیں ہورہا تھا کہ کھلاڑی جیت کے لیے میدان میں اترے ہیں جبکہ ان کی باڈی لینگویج سے واضح ہورہا تھا کہ ان پر حد سے زیادہ دباؤہے، ان کے اعصاب تنے ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کسی بھی شعبے میں اچھی کارکردگی نہ دکھا سکا اور پریشر گیم میں دباؤ جھیلنے والی ٹیم کو کامیابی حاصل ہوئی۔

شاہد آفریدی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ شاہد پر دباؤ کے نمایاں آثار نظر آئے۔ انہیں یہ بات سمجھنا ہوگی یا کوئی ان کو یہ بات سمجھائے کہ بے شک وہ خود کو ایک باؤلر مانیں لیکن انہیں بیٹنگ کی خدادا صلاحیت ملی ہوئی ہے اور اگر وہ اس سے دور بھاگیں گے تو ان کی کارکردگی متاثر ہوگی ۔ انہیں اپنی بیٹنگ صلاحیتوں پر توجہ دینا ہوگی، اسی طرح وہ اپنی کارکردگی میں توازن اور تسلسل لا پائیں گے۔ کارکردگی کے عدم تسلسل ہی کی وجہ سے وہ اعصابی دباؤ کا شکار ہیں۔

اقبال آفریدی نے مزید کہا کہ کل کے مقابلے میں پاکستان کے کپتان محمد حفیظ بھی بجھے بجھے نظر آئے اور حرکات و سکنات سے وہ ہرگز ایک سالار نہیں لگ رہے تھے بلکہ ہر معاملے میں انہوں نے دفاعی حکمت عملی اپنائی۔ اگر پاکستان کو اس ایونٹ میں جگہ بنانی ہے تو بالخصوص کپتان کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا اور خود کو یہ باور کرانا ہوگاکہ وہ ورلڈ کلاس ٹیم کے کپتان ہیں اور اس کے تمام ہی کھلاڑی چیمپئن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمر گل ابھی تک خود کو آپریشن کے بعد کے دباؤ سے نہیں نکل پائے، یہی وجہ ہے کہ میچ کے دوران باؤلنگ کرواتے ہوئے ان کی ٹانگ میں تھوڑا سا لنگ دکھائی دیا۔ اب کوئی ماہر نفسیات ان کو باور کرائے کہ وہ مکمل طور پر صحت یاب ہیں، اسی صورت میں وہ کارکردگی دکھا پائیں گے۔

ماہر نفسیات نے کہا کہ اب قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو بھارت کے میچ کو بھلا دینا چاہیے اور ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے اگلے مقابلوں کی تیاری کرنی چاہیے اور نئے جذبے اور نئی توانائی کے ساتھ میدان میں اتریں، اس طرح کہ گویا آسٹریلیا کے خلاف میچ ان کا پہلا مقابلہ ہے۔

انہوں نے ٹیم انتظامیہ کو مشورہ دیا کہ وہ فوری طور پر کھلاڑیوں کا ڈھاکہ کے کسی ماہر نفسیات کے ساتھ سیشن رکھے تاکہ وہ تناؤ کے ماحول سے نکل سکیں اور اسی فارمولے کو استعمال کرکے پاکستان ایک مرتبہ پھر فتوحات کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے ورنہ بھارت کے خلاف شکست کے بعد ٹیم کا مورال مزید گرجائے گا۔

Facebook Comments