مضبوط اعصاب کے حامل سری لنکا نے جنوبی افریقہ کو ہرادیا

سری لنکا نے بہترین بلے بازی، شاندار باؤلنگ، عمدہ فیلڈنگ اور دباؤ جھیلنے کی بھرپور صلاحیت کی بدولت جنوبی افریقہ کو 5 رنز سے شکست دے کر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں اپنی مہم کا کامیاب آغاز کیا ہے۔ 166 رنز کا ہدف جنوبی افریقہ کے لیے کافی سے زیادہ ثابت ہوا جو جان توڑ کوشش کے باوجود حاصل نہ کر پایا جبکہ سری لنکا کی فتح میں اہم کردار بلے بازی اور فیلڈنگ کے ساتھ ساتھ 'ڈیتھ اوورز' میں بہترین باؤلنگ کا بھی رہا، بالخصوص آخری دو اوورز میں لاستھ مالنگا اور نووان کولاسیکرا نے یارکرز کا بھرپور استعمال کیا ، جو ایسے سخت مقابلوں میں کلیدی عنصر ثابت ہوتی ہیں۔

کوشال پیریرا کی جارحانہ نصف سنچری نے سری لنکا کو بہترین آغاز فراہم کیا (تصویر: Getty Images)

کوشال پیریرا کی جارحانہ نصف سنچری نے سری لنکا کو بہترین آغاز فراہم کیا (تصویر: Getty Images)

جنوبی افریقہ نے ایک بڑے ہدف کے تعاقب میں آغاز تو بہت اچھا کیا، بالکل کوئنٹن ڈی کوک نے حالات کے عین مطابق خوب چھکے چھڑاغے لیکن لاستھ مالنگا کے آتے ہی مقابلہ سری لنکا کے حق میں جھکتا چلا گیا۔ 4 چوکوں اور ایک چھکے سے مزین ڈی کوک کی اننگز تمام ہوئی تو وہیں جنوبی افریقہ کی اننگز کو نچلا گیئر لگ گیا۔ آنے والے تین اوورز تک گیند ایک مرتبہ بھی باؤنڈری کی سیر نہیں کرپائی اور بڑے ہدف کو حاصل کرتے ہوئے ایسا کرنا جرم ہے۔

ژاں-پال دومنی نے حالات کو قابو میں کرنے کے لیے نویں اور دسویں اوور میں بھرپور ہٹنگ کی اور 28 رنز سمیٹے جس کی بدولت جنوبی افریقہ نصف منزل یعنی دس اوورز مکمل ہونے تک 75 رنز پر موجود تھا، وہ بھی صرف ایک وکٹ کے ضیاع کے ساتھ۔ اس وقت مقابلہ مکمل طور پر جنوبی افریقہ کی گرفت میں تھا، گو کہ اسے 9 رنز فی اوور سے زیادہ کا اوسط درکار تھا لیکن 9 وکٹیں بھی موجود تھیں۔

ہاشم آملہ کی سست اننگز مکمل ہونے کے بعد قائم مقام کپتان ابراہم ڈی ولیئرز نے حالات کے مطابق کھیلنے کی کوشش کی یہاں تک کہ اینجلو میتھیوز کی کمال ہوشیاری سے پھینکی گئی دھیمی گیند کا نشانہ بن گئے۔ 14 گیندوں پر 24 رنز کی اننگز تمام ہوتے ہی جنوبی افریقہ کی سب سے بڑی امید کا چراغ تو گل ہوگیا۔ رہی سہی کسر اگلے دو اوورز میں صرف 10 رنز بننے اور دومنی کی وکٹ گرنے نے پوری کردی۔ انہیں کاؤ کارنر میں تلکارتنے دلشان کے شاندار کیچ نے پویلین لوٹنے پر مجبور کیا۔

طویل عرصے بعد ٹیم میں لوٹنے والے البے مورکل نے اجنتھا مینڈس کو مسلسل دو چھکے رسید کرکے سنسنی پھیلا دی لیکن تیسری گیند، جو آسان سی فل ٹاس تھی، کو میدان بدر کرنے کی کوشش باؤنڈری سے چند قدم کے فاصلے پر دنیش چندیمال کے کیچ میں بدل گئی۔

اب صرف تین اوورز باقی تھے جن میں درکار 29 رنز بنانے کے لیے واحد امید ڈیوڈ ملر تھے لیکن آخری اوورز میں نووان کولاسیکرا اور لاستھ مالنگا کی بہترین باؤلنگ کے سامنے وہ پر نہ مار سکے۔ کولاسیکرا نے 19 ویں اوور میں صرف 4 رنز دیے اور فرحان بہاردین کی وکٹ حاصل کرکے جنوبی افریقہ کے ایک اینڈ کو غیر محفوظ کردیا۔ جنوبی افریقہ کے لیے معاملہ آخری اوور میں درکار 15 رنز تک پہنچ گیا اور وہ بھی لاستھ مالنگا کے خلاف۔

حسب روایت جنوبی افریقہ کے ہاتھ پیر پھول گئے اور پہلی دو گیندوں پر ڈیل اسٹین اور ڈیوڈ ملر رن آؤٹ ہوگئے اور آخری گیند پر عمران طاہر کا چھکا بھی محض شکست کے مارجن کو ہی کم کرسکا۔

سری لنکا کی جانب سے سچیتھرا سینانائیکے نے 4 اوورز میں 22 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں جبکہ ایک، ایک کھلاڑی کو نووان کولاسیکرا، اینجلو میتھیوز، لاستھ مالنگا اور اجنتھا مینڈس نے آؤٹ کیا۔

قبل ازیں سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے اوپنر کوشال پیریرا کی مدد سے ایک بہترین آغاز حاصل کیا جنہوں نے پہلے ہی اوور میں تلکارتنے دلشان اور کچھ دیر بعد مہیلا جے وردھنے اور کمار سنگاکارا کی کی قیمتی وکٹیں گرجانے کے باوجود رنز بننے کی رفتار کو دھیما نہ ہونے دیا اور جب 14 ویں اوور میں خود 61 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے تو اسکور بورڈ پر 106 رنز کا بھاری مجموعہ موجود تھا۔ کوشال نے 40 گیندوں پر تین چھکوں اور 6 چوکوں کی مدد سے 61 رنز بنائے جس میں پہلے ہی اوور میں ڈیل اسٹین کو لگائے گئے دو چوکے اور ایک چھکا بھی شامل تھا۔ سری لنکا کو آخری اوورز میں اینجلو میتھیوز نے 32 گیندوں پر 43 رنز کی بہترین اننگز فراہم کی اور انہی کی بدولت سری لنکا آخر میں 165 رنز کے مجموعے تک پہنچا۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے عمران طاہر سب سے کامیاب باؤلر رہے جنہوں نے 26 رنز دے کر 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ دو، دو وکٹیں ڈیل اسٹین اور مورنے مورکل کو ملیں۔

سری لنکا جسے اس مرتبہ بھی عالمی اعزاز کے لیے بہترین امیدوار قرار دیا جارہا ہے، نے ثابت کیا کہ آخر وہ فیورٹ کیوں ہے۔

Facebook Comments