اسٹورٹ براڈ اپنی غائب دماغی کے بجائے امپائروں کو کوسنے لگے

انگلستان کے کپتان اسٹورٹ براڈ نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے اپنے پہلے مقابلے میں شکست کا ذمہ دار امپائروں کو قرار دے دیا ہے، جنہوں نے، بقول ان کے، مقابلے کو روکنے میں تاخیر سے کام لیا اور نتیجہ انگلستان کی شکست میں نکلا جبکہ نیوزی لینڈ کے کائل ملز کا کہنا ہے کہ اگر اسٹورٹ براڈ ہماری جگہ ہوتے تو اس فیصلے پر خوش ہو رہے ہوتے۔

ایک صورتحال اور دو یکساں رویے، جیتا وہی جو مثبت سوچ کے ساتھ کھیلا (تصویر: AFP)

ایک صورتحال اور دو یکساں رویے، جیتا وہی جو مثبت سوچ کے ساتھ کھیلا (تصویر: AFP)

چٹاگانگ میں کھیلے گئے میچ میں 173 رنز کے تعاقب میں جب نیوزی لینڈ کی اننگز کا پانچواں اوور شروع ہوا تو آسمان پر بجلی کڑکنے لگی اور خدشہ تھا کہ کسی بھی وقت بارش شروع ہوجائے گی۔ اس مرحلے پر اگر مقابلہ روک دیا جاتا تو وہ بے نتیجہ قرار پاتا کیونکہ بارش سے متاثرہ کسی بھی ٹی ٹوئنٹی مقابلے کا نتیجہ اسی صورت میں ڈک ورتھ/لوئس طریقے کے مطابق نکالا جاتا ہے جب اس میں دوسری اننگز میں کم از کم 5 اوورز کھیلے جائیں۔جب اگلے اوور میں بارش کا آغاز ہوا تو امپائر علیم ڈار اور پال رائفل نے کھیل روک دیا جو دوبارہ نہ کھیلا جاسکا۔ اس وقت نیوزی لینڈ کا اسکور 52 رنز تھا جو ڈی/ایل پار اسکور سے 9 رنز زیادہ تھا۔ یوں بلیک کیپس فاتح قرار پائے اور انگلستان 172 رنز کا بھاری مجموعہ کھڑا کرنے کے باوجود ہار گیا۔

میچ کے خاتمے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسٹورٹ براڈ نے کہا کہ بصد احترام عرض کرنا چاہوں گا کہ میچ میں امپائرنگ بہت اوسط درجے کی تھی۔ جب میں اننگز کا پانچواں اوور پھینکنے کے لیے آیا تو آسمان پر زبردست بجلی چمکی، جس پر میں نے امپائروں سے مطالبہ کیا لیکن انہوں نے اسے خطرناک نہيں سمجھتا اور کھیل جاری رکھا۔ یہ صورتحال کہ آسمان پر بجلی کڑک رہی ہو، میدان میں موجود کھلاڑیوں کے لیے خطرے سے خالی نہیں تھی۔

اسٹورٹ براڈ کے مذکورہ اوور میں برینڈن میک کولم نے 16 رنز لوٹے جن میں دو شاندار چھکے بھی شامل تھے اور یہ بات نیوزی لینڈ کے کپتان کی حاضر دماغی کو ظاہر کرتی ہے کہ جب انہوں نے محسوس کیا کہ کسی بھی وقت بارش شروع ہوجائے گی تو انہوں نے ڈی/ایل پار اسکور پر کڑی نظر رکھی اور بجائے امپائروں سے التجا کرنے کے ٹیم کی فتح کو مقدم جانا اور یوں دو قیمتی پوائنٹس حاصل کرلیے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ نیوزی لینڈ کے باؤلر کائل ملز نے امپائروں کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہماری جگہ اسٹورٹ براڈ ہوتے تو اس وقت اس فیصلے پر خوش ہو رہے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ امپائر اپنی صلاحیت کے مطابق بہترین فیصلوں کی کوشش کرتے ہیں اور اس مقابلے کو فیصلہ کن مرحلے تک پہنچانا چاہتے تھے۔

Facebook Comments