سینٹ لوشیا کا بھوت ہمیشہ کے لیے دفن، پاکستان جیت گیا

پاکستان نے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے آسٹریلیا کے خلاف ایک اہم مقابلہ 16 رنز سے جیت لیا لیکن اس مارجن سے دھوکا مت کھائیں، یہ مقابلہ آخری حدوں تک سنسنی خیز رہا کیونکہ 192 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا نے صرف 10 اوورز میں 117 رنز بنا لیے تھے لیکن اس کے بعد گلین میکس ویل کے آؤٹ ہوتے ہی وہ سمت بھول گیا اور آخری اوور تک پہنچتے پہنچتے پوری ٹیم 175 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔

عمر اکمل نے 94 رنز کی بہترین اننگز کھیلی اور مرد میدان قرار پائے (تصویر: Getty Images)

عمر اکمل نے 94 رنز کی بہترین اننگز کھیلی اور مرد میدان قرار پائے (تصویر: Getty Images)

اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ آسٹریلیا نے وہ کیا، جو ہمیشہ جنوبی افریقہ کا خاصہ رہا ہے۔ گلین میکس ویل اور آرون فنچ کی 65 گیندوں پر 118 رنز کی شراکت داری کے بعد پاکستانی باؤلرز کی حالت تو قابل رحم تھی ہی بلکہ 192 رنز کا ہدف بھی ہیچ دکھائی دے رہا تھا لیکن آنے والے بلے باز اس کے ہم رفتار نہ ہوسکے اور اس برح طرح پاکستان کے جھانسے میں پھنسے کہ ان دونوں کے علاوہ کوئی بلے باز دہرے ہندسے تک میں نہ پہنچ سکا۔

میرپور، ڈھاکہ میں کھیلے گئے گروپ 2 کے اہم مقابلے میں پاکستان نے آسٹریلیا کی دعوت پر پہلے بیٹنگ سنبھالی اور محض 25 رنز پر کپتان محمد حفیظ سمیت دو کھلاڑیوں سے محروم ہوگیا۔ ایسا لگتا تھا کہ بیٹنگ کے لیے انتہائی آسان وکٹ پر ایک اور معمولی اسکور بنے گا لیکن اکمل برادران نے تیسری وکٹ پر 96 رنز جوڑ کر پاکستان کے ایک بڑے مجموعے کی راہ ہموار کی۔

عمر اکمل آج اپنے جوبن پر دکھائی دیے اور صرف 54 گیندوں پر 4 چھکوں اور 9 چوکوں کی مدد سے 94 رنز بنا کر پاکستان کی طرف سے تاریخ کی سب سے بڑی ٹی ٹوئنٹی اننگز کھیلنے کے قریب پہنچ گئے لیکن لانگ آن پر دھر لیے گئے۔ اگر وہ سنچری بنا لیتے تو پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی سنچری بنانے والے پہلے کھلاڑی بن جاتے۔ ان کے بڑے بھائی کامران اکمل نے 31 گیندوں پر اتنے ہی رنز بنائے۔ پھر آخری لمحات میں شاہد آفریدی کی 11 گیندوں پر 20 رنز کی اننگز نے پاکستان کو 191 رنز تک پہنچا دیا۔

بلے بازی کے اس شاندار مظاہرے کے بعد پاکستان کے حوصلے اس وقت ساتویں آسمان پر پہنچ گئے جب ذوالفقار بابر نے پہلے ہی اوور میں آسٹریلیا کے 'دو ڈبلیوز' کو ٹھکانے لگا دیا، ڈیوڈ وارنر اور شین واٹسن ۔ وارنر پہلی گیند پر چوکا ملنے کے بعد دوسری پر بولڈ ہوئے جبکہ واٹسن آخری گیند پر وکٹوں کے پیچھے دھر لیے گئے۔

ہمالیہ جیسے ہدف کو عبور کرنے کے آسٹریلوی ارادوں کو پہلے ہی اوور میں سخت ٹھیس پہنچی لیکن شاید پاکستان کے خلاف 192 رنز کے ہدف کا تعاقب اس کے لیے کوئی خاص کشش رکھتا ہے۔ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2010ء کے سیمی فائنل میں آسٹریلیا نے سینٹ لوشیا کے میدان پر بالکل اسی ہدف کا تعاقب کرکے پاکستان کو اعزاز کی دوڑ سے باہر کردیا تھا۔ اور آج مائیکل ہسی کے جانشیں بننے جا رہے تھے گلین میکس ویل۔ جنہیں کپتان جارج بیلی نے خصوصی طور پر اوپری نمبروں پر بھیجا تھا۔

میکس ویل کی 33 گیندوں پر 74 رنز کی طوفانی اننگز پاکستان کی گرفت سے مقابلہ نکال لے گئی لیکن ان کے بعد کوئی بلے باز ہدف کی جانب پیشرفت برقرار نہ رکھ سکا (تصویر: Getty Images)

میکس ویل کی 33 گیندوں پر 74 رنز کی طوفانی اننگز پاکستان کی گرفت سے مقابلہ نکال لے گئی لیکن ان کے بعد کوئی بلے باز ہدف کی جانب پیشرفت برقرار نہ رکھ سکا (تصویر: Getty Images)

گلین میکس ویل نے آتے ہی پاکستانی باؤلرز کے دھویں نکال دیے۔ آرون فنچ کے سات مل کر انہوں نے صرف 51 گیندوں پر سنچری شراکت داری جوڑ ڈالی۔ جس کا سب سے بہترین لمحہ اننگز کا آٹھواں اور تھا جس میں بلاول بھٹی کو 30 رنز مارے۔ بلاول کی پہلی اور تیسری گیند پر میکس ویل نے چوکے رسید کیے اور پھر چوتھی اور پانچویں گیند کو چھکے کے لیے روانہ کردیا۔میکس ویل نے ان چھکوں کے ساتھ محض 18 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی اوربیمر پر نو بال کے پانچ رنز ملنے کے بعد آخری گیند پر چوکے نے آسٹریلیا کو تہرے ہندسے میں پہنچا دیا۔ پاکستان کے باؤلرز اور فیلڈرز کے ہاتھ پیر پھول چکے تھے اور محض تین گیندوں کے فاصلے پر انہوں نے دونوں بلے بازوں کے کیچ بھی چھوڑ ڈالے۔ آسٹریلیا کے لیے معاملہ آخری 54 گیندوں پر درکار 70 رنز تک پہنچ گیا جبکہ اس کی 8 وکٹیں ابھی باقی تھیں۔

تب، ہمیشہ کی طرح، ناقابل یقین پاکستان مقابلے میں واپس آیا اور شاہد آفریدی نے گلین میکس ویل اور جارج بیلی کو آؤٹ کرکے گرین شرٹس کو مقابلے میں واپسی کی راہ دکھائی۔ میکس ویل 33 گیندوں پر 6 چھکوں اور 7 چوکوں کے ساتھ 74 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ جب کپتان جارج بیلی کھڑے تھے تو آخری پانچ اوورز میں آسٹریلیا کو 46 رنز درکار تھے اور اس وقت جب کوئی اور بغیر باؤنڈری کے خالی نہیں جا رہا تھا، پاکستان نے آنے والے ہر اوور میں کم از کم وکٹ ضرور ٹپکائی۔ شاہد آفریدی کے بعد دوسرے اینڈ سے عمر گل نے بریڈ ہوج کو ٹھکانے لگا دیا جن کا شاندار کیچ سعید اجمل نے تھاما۔ پھر سعید اجمل نے 18 ویں اوور میں صرف ایک رن دے کر اور آرون فنچ کی قیمتی وکٹ حاصل کرکے پاکستان کے امکانات میں بہت زیادہ اضافہ کردیا۔ فنچ 54 گیندوں پر 65 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ ان کی اس باری میں دو چھکے اور 7 چوکے شامل تھے۔

آسٹریلیا آخری دو اوورز میں درکار 30 رنز کا تعاقب کرسکا اور نہ اپنی آخری چار وکٹیں بچا سکا اور آخری گیند پر ڈھیر ہوگیا۔

نجانے کیوں اس پورے مقابلے کی داستان لکھتے ہوئے کچھوے اور خرگوش کی کہانی یاد آرہی ہے۔ آسٹریلیا کا آغاز تو بہت تیز تھا، لیکن شاید اتنی رفتار ان کے کنٹرول سے باہر ہوگئی اور وہ فنش لائن پر پہنچنے سے پہلے ہی منہ کے بل آ گرے ۔ اور آج ایسا محسوس ہوا کہ پاکستان نے سینٹ لوشیا کے بھوت کو ہمیشہ کے لیے دفنا دیا ہے۔

عمر اکمل کو شاندار بیٹنگ پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اب ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء میں پاکستان کا اگلا مقابلہ 30 مارچ کو میزبان بنگلہ دیش کے خلاف ہے جبکہ آسٹریلیا 28 مارچ کو ڈھاکہ میں ہی دفاعی چیمپئن ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے گا۔

Facebook Comments