اعصاب شکن مقابلہ جیتنے کے بعد اب پاکستان کو سنبھلنے کی ضرورت

امید، طمانیت، سرور، اطمینان، اندیشے، اضطراب، غم، تناؤ، جوش، ولولے اور خوشی ! آسٹریلیا کے خلاف اہم مقابلے میں پاکستان کے تماشائی تقریباً ان سبھی کیفیات سے گزرے۔ بھارت کے خلاف مایوس کن شکست کےبعد پاکستان کے امکانات کو جو ٹھیس پہنچی،اب آسٹریلیا کے خلاف فتح نے خدشات کو آس میں بدل دیا ہے اور آئندہ دونوں مقابلوں کی کارکردگی طے کرے گی کی کہ پاکستان ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء میں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرے گا یا نہیں۔

پاکستان فتح کے نشے میں چور ہونے کے بجائے اپنی خامیوں پر قابو پائے تو سیمی فائنل میں باآسانی جگہ پاسکتا ہے (تصویر: Getty Images)

پاکستان فتح کے نشے میں چور ہونے کے بجائے اپنی خامیوں پر قابو پائے تو سیمی فائنل میں باآسانی جگہ پاسکتا ہے (تصویر: Getty Images)

گزشتہ روز جب آسٹریلیا گلین میکس ویل اور آرون فنچ کی طوفانی بیٹنگ کی بدولت بہت تیزی سے ہدف کی جانب گامزن تھا تو ایک مرتبہ پھر شائقین کے ذہنوں میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2010ء کا وہ مقابلہ گھوم گیا، جب مائیکل ہسی نے پاکستان کو فائنل کی دوڑ سے باہر کردیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مقابلے میں بھی آسٹریلیا 192 رنز ہی کا تعاقب کررہا تھا اور کل ہی کی طرح ابتداء میں ہی اپنے دونوں ڈبلیوز واٹسن اور وارنر سے محروم ہوگیا تھا۔ 105 رنز پر پانچ وکٹیں گرنے کے بعد مائیکل ہسی میدان میں آئے دوسرے اینڈ سے وکٹیں گرنے کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری اور آخری اوور میں درکار 18 رنز کے لیے سعید اجمل کو تین چھکے اور ایک چوکا رسید کرکے آسٹریلیا کو فائنل میں پہنچا دیا۔

پھر گزشتہ روز جس طرح کی میکس ویل اور فنچ بیٹنگ کررہے تھے، ایسا محسوس ہورہا تھا میرپور سینٹ لوشیا بن جائے گا لیکن اس مرتبہ پاکستان نے اپنے حواس قابو میں رکھے اور شاہد آفریدی نے گلین میکس ویل کی قیمتی وکٹ حاصل کرکے آسٹریلیا کو ایسا پچھلے قدموں پر دھکیلا کہ وہ پھر مقابلے میں واپس نہ آسکا۔

پاکستان نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء میں بھی آسٹریلیا کو اسپنرز کے ذریعے ہی شکست دی تھی جب رضا حسن نے آسٹریلیا کے دونوں ڈبلیوز واٹسن اور وارنر کو ٹھکانے لگا کر پاکستان کی فتح کی راہ ہموار کی تھی اور کولمبو کے بعد اب ڈھاکہ میں آسٹریلیا کے خلاف یادگار فتح کے بعد غالباً پاکستان نے اس خوف سے جان چھڑا لی ہے جو سینٹ لوشیا کی ہار کے بعد اس سے چمٹ گیا تھا۔

اب اس مرحلے پر کہ پاکستان دو مقابلوں میں ایک فتح کے ساتھ امیدوں کو برقرار رکھے ہوئے ہے، ضروری ہے کہ تمام تر توجہ بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کے خلاف آنے والے میچز پر مرکوز رکھی جائے۔ایک ہفتے اس کی بھرپور منصوبہ بندی کی جائے کہ دونوں ٹیموں کو کس طرح زیر کرنا ہے کیونکہ پاکستان کا اگلا مقابلہ 30 مارچ کو بنگلہ دیش کے خلاف ہے یعنی اب پاکستان کے پاس کافی وقت ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں کا جائزہ لے، خامیوں کو پورا کرے اور نئے عزم و حوصلے سے ایک مرتبہ پھر میدان میں اترے۔

اب تک ہونے والے دو مقابلوں میں شعیب ملک اور بلاول بھٹی کی کارکردگی خاصی مایوس کن رہی ہے۔ شعیب ملک کو آل راؤنڈر کی حیثیت سے کھلایا جا رہا ہے تو انہیں صرف بلے بازی تک محدود نہ رکھا جائے۔ بھارت اور آسٹریلیا دونوں کے خلاف انہوں نے صرف بیٹنگ کی، اور اس میں بھی کوئی کمال نہ دکھا سکے۔ فیلڈنگ بھی اوسط درجے کی رہی جبکہ بلاول بھٹی نے تو گلین میکس ویل کے ہاتھوں ایک اوور میں 30 رنز کھا کر اپنا نام شرمناک فہرست میں درج کرا لیا۔ ایک اوور میں سب سے زیادہ رنز کھانے والے باؤلرز میں۔ اگر پاکستان یہ مقابلہ ہار جاتا تو سب سے زیادہ تنقید بلاول بھٹی کے اسی اوور پر ہونا تھی، خوش قسمتی سے پاکستان مقابلہ جیت گیا اور یوں بلاول بھٹی کا کیریئر ختم ہونے سے کسی حد تک بچ گیا ہے۔

اب پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ شعیب ملک جیسے نیم آل راؤنڈر کے بجائے شرجیل خان کی صورت میں مستند بلے باز کھلائے کیونکہ پاکستان کے پاس بنگلہ دیش کی وکٹوں کے لیے سازگار اسپنرز ضرورت سے زیادہ ہیں اور شعیب ملک کو جب باؤلنگ ہی نہیں کروانی تو انہیں آل راؤنڈر کی حیثیت سے شامل کرنے کی کوئی تک نہیں بنتی۔ وہ بھی اس صورت میں کہ وہ بیٹنگ میں کچھ نہیں کرپا رہے۔ اس لیے شرجیل کی جگہ بنتی ہے، انہیں اعتماد دینے کی ضرورت ہے اور محض ایک یا دو اچھے مقابلے انہیں بہترین فارم میں لے آئیں گے۔ ٹی ٹوئنٹی ان کا پسندیدہ فارمیٹ ہے اور وہ تیز رفتار بلے بازی کے دلدادہ ہیں اس لیے جس طرح صہیب مقصود کو موقع دیے جا رہے ہیں، انہیں بھی ملنے چاہئیں۔

دوسری جانب یہ بات بھی سمجھ سے بالاتر ہےکہ آخر جنید خان جیسے بہترین باؤلر کو باہر بٹھا کر پاکستان بلاول بھٹی کو مستقل کیوں آزما رہا ہے؟ جنید گو کہ اس وقت فارم میں نہیں ہیں لیکن اس وقت بھی وہ بلاول سے بہتر انتخاب ہیں اور وہ عمر گل کے ساتھ تیز گیندبازی میں پاکستان کے لیے فطری انتخاب ہیں۔

سلیکشن میں ان تبدیلیوں کے علاوہ ٹیم میں موجود چند کھلاڑیوں کو بھی اب اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ بیٹنگ کافی عرصے سے پاکستان کے لیے پریشان کن امر رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں احمد شہزاد اور محمد حفیظ پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ دونوں بہترین بلے باز ہیں اور انہیں چاہیے کہ وہ اسکور بورڈ پر اتنے رنز جوڑیں کہ آنے والے بلے بازوں کے لیے معاملہ آسان ہو۔ اب عمر اکمل روزانہ 94 رنز کی انںگز تو نہیں کھیل سکتے، اس لیے آئندہ مقابلوں میں احمد اور حفیظ کا کردار کلیدی ہوگا۔

اور آخر میں سب سے اہم بات یہ کہ بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کو کمزور سمجھنے کی غلطی ہرگز نہ کی جائے۔ بنگلہ دیش اپنے میدانوں پر اتنا ہی خطرناک ہے جتنا کہ آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز بھارت کے ہاتھوں شکست کے اپنے اعزاز کے دفاع کے لیے جان لڑا دے گا۔ اس لیے بہت سوچ سمجھ اور منصوبہ بندی کے ساتھ اگلے مقابلے کھیلنا ہوں گے۔

Facebook Comments