جو جیتا وہ سکندر، فتح نے جنوبی افریقہ کی خامیوں کو چھپا دیا

جنوبی افریقہ پاکستان کی طرح ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے باہر ہوتے ہوتے بچ گیا اور ڈیل اسٹین نے بلاشبہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی تاریخ کا بہترین اوور پھینک کر پروٹیز کو یقینی شکست سے بچایا۔ اس کے باوجود نہ صرف شکست خوردہ نیوزی لینڈ بلکہ فاتح جنوبی افریقہ کو بھی اس میچ سے بہت کچھ سیکھنا ہے۔ دونوں کی خامیاں کھل کر اس مقابلے میں سامنے آئیں اور ان پر قابو پا کر ہی سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

نیوزی لینڈ ڈیل اسٹین کی طوفانی باؤلنگ کے سامنے حواس باختہ ہوگیا اور جنوبی افریقہ نے اس کی غائب دماغی کا پورا فائدہ اٹھایا (تصویر: Getty Images)

نیوزی لینڈ ڈیل اسٹین کی طوفانی باؤلنگ کے سامنے حواس باختہ ہوگیا اور جنوبی افریقہ نے اس کی غائب دماغی کا پورا فائدہ اٹھایا (تصویر: Getty Images)

سب سے پہلے شکست خوردہ نیوزی لینڈ کو غور کرنا ہوگا کہ آخر کس مقام پر غلطی ہوئی کہ وہ جیتی ہوئی بازی ہار بیٹھا؟ مڈل آرڈر کے بلے بازوں کی ناکامی کے بعد یہ درحقیقت آخری اوور میں ناتھن میک کولم کی بے وقوفی تھی جس کی وجہ سے نیوزی لینڈ کو بازی گنوانا پڑی۔ جب دوسرے اینڈ پر کھڑا بلے باز 36 گیندوں پر 62 رںز بنا چکا ہو اور گزشتہ اوور میں دو چوکے رسید کرکے معاملے کو ایک اوور میں 7 رنز تک لا چکا ہو تو آٹھویں نمبر پر آنے والے بلے باز کی ذمہ داری یہ نہیں کہ وہ آنے والی گیند کو میدان سے باہر پھینکنے کی کوشش کرے، بلکہ اس کا کام یہ ہے کہ وہ ایک رن دوڑ کر ساتھی بلے باز کو چار گیندوں پر 6 رنز بنانے کا آسان ہدف دے۔ لیکن ناتھن میک کولم نے ذمہ داری اپنے کاندھوں پر لینے کی کوشش کی اور یہ بوجھ ان کی اوقات سے بڑا تھا۔ گو کہ وہ ایک چوکا لگانے میں ضرور کامیاب ہوئے لیکن دو گیندیں ضایع بھی کیں اور پھر پانچویں پر آؤٹ بھی ہوگئے یعنی کہ چار گیندوں پر صرف چار رنز بنا سکے اور میچ کا نتیجہ آخری گیند تک لٹکا دیا جہاں ڈیل اسٹین نے روز ٹیلر کی کوشش کو ناکام بنا دیا اور جنوبی افریقہ مقابلہ صرف دو رنز سے جیت گیا۔

آپ تصور کریں کہ 1986ء کے آسٹریلیشیا کپ فائنل میں توصیف احمد ایک رن دوڑ کر اسٹرائیک جاوید میانداد کو دینے کے بجائے خود چیتن شرما کو چھکا لگانے کی کوشش کرتے یا حالیہ ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف مقابلے میں جنید خان شاہد آفریدی کو سامنے لانے کے بجائے خود روی چندر آشون کو دو چھکے رسید کرنے کا بیڑہ اٹھاتے تو کیا ہوتا؟ لازمی نتیجہ پاکستان کی شکست کی صورت میں نکلتا اور یہ بات ناتھن میک کولم کو سمجھنی چاہیے تھی بلکہ روز ٹیلر کو انہیں سمجھانا چاہیے تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ نیوزی لینڈ ڈیل اسٹین کی طوفانی باؤلنگ کے سامنے حواس باختہ ہوچکا ہے اور اس کی غائب دماغی کا پورا فائدہ جنوبی افریقہ اٹھا گیا۔

نیوزی لینڈ نے خوش قسمتی و حاضر دماغی کی بدولت انگلستان کے خلاف تو کامیابی سمیٹ لی تھی لیکن جنوبی افریقہ کے خلاف ایسا نہ ہوسکا۔ اب ضروری ہے کہ وہ نیدرلینڈز کے خلاف اگلے مقابلے کے لیے اپنی ہمت دوبارہ مجتمع کرے اور 31 مارچ کو سری لنکا کے خلاف اہم میچ کی تیاری کرے۔ قوت تو نیوزی لینڈ میں بہت ہے، فیلڈنگ بھی شاندار ہے، بیٹنگ بھی طوفانی اور باؤلنگ بھی عمدہ، بات صرف اعصاب پر قابو رکھنے اور حریف پر حاوی ہونے کی ہے۔

دوسری جانب جنوبی افریقہ جو بچ تو گیا ہے لیکن اس کے لیے بہت سے پہلو تشویشناک ہیں۔ بلے بازوں کی ناکامی کی وجہ سے وہ سری لنکا کے خلاف بھی 5 رنز سے ہار گیا تھا اور اب نیوزی لینڈ سے بھی محض دو رنز سے جیت پایا۔ اس لیے سب سے پہلے جنوبی افریقہ کو بیٹنگ پر توجہ دینا ہوگی اور اس میں سب سے پہلے یہ سوچنا ہوگا کہ آیا ہاشم آملہ ٹی ٹوئنٹی کے لیے موزوں ترین کھلاڑی ہیں یا نہیں؟ بلاشبہ ٹیسٹ اور ایک روزہ کرکٹ میں ہاشم جیسا بلے باز دنیا میں کسی کے پاس نہیں ہیں لیکن سری لنکا کے خلاف 26 گیندوں پر 23 اور نیوزی لینڈ کے خلاف 40 گیندوں پر 41 رنز کی سست اننگز دوسرے اینڈ پر موجود کھلاڑیوں پر دباؤ ڈالتی رہیں کہ وہ رنز بنانے کی رفتار کو تیز کریں اور اسی کوشش میں وہ وکٹیں دیتے چلے گئے۔ گو کہ ژاں-پال دومنی کی دونوں مقابلوں میں اچھی بیٹنگ جنوبی افریقہ کے لیے نیک شگون ہے لیکن ان سے زیادہ اہم ابراہم ڈی ولیئرز کا چلنا ہے جو بدقسمتی سے ناکام رہے ہیں۔ سری لنکا کے خلاف تو پھر بھی انہوں نے 16 گیندوں پر 24 رنز کی اننگز کھیلی لیکن 166 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ٹیم ان سے زیادہ کی متقاضی تھی۔

باؤلنگ میں جنوبی افریقہ کی کمزور کڑی مورنے مورکل تھے بلکہ ایسا لگ رہا تھا کہ ان میں ایشانت شرما کی روح سرایت کرگئی ہے۔ تین اوورز میں 50 رنز؟ یہ ناقابل معافی جرم تھا جس پر ممکنہ سزا کو ڈیل اسٹین کی ناقابل یقین کارکردگی نے ٹال دیا ہے۔ جب نیوزی لینڈ کو آخری دو اوورز میں 21 رنز درکار تھے تو مورنے نے اہم اوور میں 14 رنز کھا لیے جبکہ اس سے قبل اپنے پہلے اوور میں 16 اور دوسرے میں روز ٹیلر کے تین شاندار چھکوں کے ساتھ مزید 20 رنز کھائے۔ جب مورنے جیسے اہم باؤلر کا یہ حال ہو تو لونوابو سوٹسوبے، البے مورکل یا عمران طاہر سے کیا توقع رکھنا؟

مورنے مورکل کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ باؤلر وکٹیں لینے کے لیے گیند پھینکتا ہے، رنز روکنے کےلیے نہیں۔ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں تو اہمیت ہی اس بات کی ہے کہ وکٹیں گرائی جائیں۔ پاکستان بھی گزشتہ روز آسٹریلیا کے خلاف اسی وقت مقابلے میں واپس آ پایا جب اس نے وکٹیں لیں۔ لیکن مورنے وکٹوں کے بجائے رنز بچانے کی کوششیں کرتے رہے اور اس میں بھی بری طرح ناکام ہوئے۔

بہرحال، دو رنز کی ہی سہی فتح تو جنوبی افریقہ کو میسر آ گئی اور اب آئندہ کی حکمت عملی طے کے لیے کچھ وقت بھی ۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ڈیل اسٹین اور جے پی دومنی بھرپور فارم میں ہیں اور اگر اس مقام پر اے بی ڈی ولیئرز اور دیگر کھلاڑی اپنی اہمیت ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئے تو جنوبی افریقہ اعزاز کے لیے بہترین امیدوار بن جائے گا۔ بہرحال، پروٹیز کا اگلا مقابلہ اب 27 مارچ کو نیدرلینڈز کے خلاف ہے، جہاں آئندہ کی حکمت عملی کا اظہار ہوگا۔

Facebook Comments