پاکستان کے واحد پارسی کھلاڑی روسی ڈنشا چل بسے

پاکستان کے مایہ ناز تیز باؤلر شعیب اختر نے اپنی آپ بیتی "Controversially Yours" میں لکھا تھا کہ پاکستان میں سب کچھ ہے، لیکن قدر نہیں اور اب ایک مرتبہ پھر یہ بات ثابت بھی ہوگئی ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے منتخب ہونے والی ٹیم کے ایک رکن روسی ڈنشا انتہائی کسمپرسی کے حال میں چل بسے۔

روسی ڈنشا کی ایک یادگار تصویر، 1952ء کے دورۂ بھارت کے موقع پر (فائل فوٹو)

روسی ڈنشا کی ایک یادگار تصویر، 1952ء کے دورۂ بھارت کے موقع پر (فائل فوٹو)

روسی ڈنشا پاکستان کرکٹ تاریخ کے واحد پارسی کھلاڑی تھے جو قومی ٹیم میں منتخب ہوئے۔ گو کہ وہ کوئی ٹیسٹ مقابلہ نہیں کھیلے لیکن پاکستان کے اولین دستے کے لیے منتخب ہونا ایسا اعزاز تھا جو انہیں منفرد حیثیت دیتا ہے۔ ڈنشا 1960ء کی دہائی میں شیزوفرینیا جیسے خطرناک دماغی عارضے میں مبتلا ہوئے لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ اور حکام بالا نے ان کی کوئی خبر گیری نہیں کی، یہاں تک کہ اپنے آخری ایام میں وہ لوگوں سے بھیک مانگتے رہے اور بالآخر گزشتہ سوموار کو 'قید حیات و بند غم' سے آزاد ہوگئے۔

بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے روسی تقسیم ہند کے بعد پاکستان آ گئے تھے اور بقول ساتھی اسٹار کھلاڑی حنیف محمد بہت اسٹائلش بلے باز تھے۔ انہوں نے تقسیم ہند سے قبل کولکتہ میں روبی شیلڈز اسکول ٹورنامنٹ میں ڈبل سنچری سے خاصی شہرت پائی تھی اور پھر 1946ء میں مہاراجہ کمار کچھ/بہار ٹرافی میں جامعہ کراچی کی بمبئی یونیورسٹی کے خلاف یادگار فتح میں کپتان رہے۔ بعد ازاں انہوں نے سندھ اور کراچی کی نمائندگی بھی کی۔

'لٹل ماسٹر' حنیف محمد نے ان کے ساتھ گزارے گئے ایام کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ 1952ءمیں جب ہم دورۂ بھارت پر گئے تھے تو اس وقت کے صدر راجندر پرساد سے ملاقات کی۔ اس موقع پر صدر محترم نے ملتے ہی ہم سے پوچھا کہ وہ کون سا لڑکا ہے جو پارسی ہے اور ٹیم میں شامل ہے؟

اب پڑوسی ملک کے ایوان صدر تک شہرت رکھنے والا وہ کھلاڑی اس دنیا میں نہیں رہا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سابق کھلاڑیوں، بالخصوص وہ جو قومی دستے تک پہنچ گئے، ان کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ خصوصی فنڈ قائم کرے۔ ماضی میں اس حوالے سے بڑی بڑی باتیں کی گئیں لیکن آج تک کوئی عملی قدم نہيں اٹھایا گیا۔

Facebook Comments