عدالت نے چنئی اور راجستھان کو آئی پی ایل سے باہر کرنے کی سفارش کردی

بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے سربراہ این شری نواسن نے آئی پی ایل فکسنگ معاملے کی تحقیقات مکمل ہونے تک عہدہ چھوڑنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے لیکن عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ) نے چنئی سپر کنگز اور راجستھان رائلز کو رواں سال آئی پی ایل سے باہر کرنے کی سفارش پیش کرکے تہلکہ مچا دیا ہے۔

عدالت نے سنیل گاوسکر کو قائم مقام سربراہ بنانے کی سفارش کی ہے (تصویر: Bipin Patel)

عدالت نے سنیل گاوسکر کو قائم مقام سربراہ بنانے کی سفارش کی ہے (تصویر: Bipin Patel)

عدالت نے دو روز قبل این شری نواسن سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ معاملے کی تحقیقات مکمل ہونے تک اپنا عہدہ چھوڑ دیں تاکہ شفاف تحقیقات کو ممکن بنایا جاسکے۔ انڈین پریمیئر لیگ کے اسپاٹ و میچ فکسنگ قضیے میں این شری نواسن کے ادارے انڈیا سیمنٹ کی ٹیم چنئی سپر کنگز کے اہم عہدیدار اور شری نواسن کے داماد گروناتھ مے یپن دھرے گئے تھے۔ جس پر عدالت نے گزشتہ سال تحقیقات کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے حال ہی میں 100 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ رپورٹ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس میں چھ ایسے کھلاڑیوں کے نام بھی شامل ہیں جو بھارت کی نمائندگی کرچکے ہیں جبکہ کم ازکم ایک کھلاڑی ایسا ہے جو اس وقت بھی قومی ٹیم میں کھیل رہا ہے۔

این شری نواسن کی عدم موجودگی میں عدالت نے سابق بھارتی کپتان سنیل گاوسکر کو قائم مقام صدر بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔ عدالت نے بی سی سی آئی کو کل اپنی تجاویز پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

بی سی سی آئی نے دل پر پتھر رکھ کر شری نواسن کے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ تو تسلیم کرلیا لیکن اب عدالت نے بورڈ کے لیے ایک بہت بڑی مشکل کھڑی کردی ہے کیونکہ چنئی سپر کنگز اور راجستھان رائلز جیسی ٹیموں کے نہ کھیلنے کی صورت میں آئی پی ایل کو سخت مالی نقصان کا اندیشہ ہے۔ دیکھتے ہیں، اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

Facebook Comments